• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناہید خان، کراچی

’’ارے یہ کیا…؟ کم از کم فٹنگ ہی کروالیتیں ، بالکل فتو فقیرنی لگ رہی ہو ‘‘ کرن نے حنا کے عبایا پر نظر ڈالتے ہوئے ۓ کہا۔’’کیوں ،کیا خرابی ہے اس نئے عبایا میں،ٹھیک تو ہے‘‘اس نے عبایاکی سلوٹیں درست کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں ، ہاں آپ کی نظر کے کیا کہنے، بوڑھی روح کہیں کی ‘‘پھرکرن یک دَم کالج کی سیڑھیوں پر رُک کر بولی ۔’’دیکھو حنا! سب تمہارا مذاق اُڑاتے ہیں اور مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا ،کسی دن …‘‘’’کیا کسی دن … بولو؟‘‘کرن کا منہ بنا دیکھ کرحنا نے مُسکراتے ہوئے کہا۔’’ میری پیاری بہن! تم خواہ مخواہ کی ٹینشن مت لیا کرو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔‘‘’’کیوں ٹینشن نہ لوں بھئی؟ تم میری کزن ہی نہیں،بیسٹ فرینڈ بھی ہو‘‘ یہ بحث مزید بڑھتی لیکن سامنے سے آتے سر عامر کو دیکھ کر دونوں خاموش ہوگئیں۔حنا اور کرن جیسےہی کلاس میں داخل ہوئیں، پیچھے سے کسی نے آواز کَسی ’’او ہو، نیا ٹینٹ۔‘‘مگر حنا سب کو نظر انداز کرتی اپنی سیٹ پر جا بیٹھی ۔

حنا اور کرن متوسّط گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ دونوں کزنز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی بہترین سہیلیاںبھی تھیں ۔اسی محبت کی وجہ سے پہلے اسکول اور اب کالج میں بھی ساتھ تھیں۔حنا بہترین طالبہ ہونے کی وجہ سے تمام ٹیچرز کی منظورِنظر تھی اور اس پر اس کاعبایا پہننااور مخالف صنف سے پُروقار انداز میں فاصلہ رکھنا ،اس خوبی کی بدولت ٹیچرز اور طلبہ کے دلوں میں اس کی عزت دو چند ہو گئی تھی ۔

مگرکچھ مَن چلے ،بگڑے نوابوں کی بگڑی اولاد حسد میں اس کے حجاب کا استہزا اڑاتے ۔گوکہ حنا کا گھراناکچھ خاص مذہبی نہیں تھا اورنہ اُن کی طرف سے اُس پر حجاب کی پابندی تھی، مگر حنا کااپنا رحجان شروع ہی سے مذہب کی طرف تھااور اس کی بڑی وجہ محلّے کی استانی ،عفّت باجی تھیں، جو بچّوں کو قرآن پاک پڑھاتی تھیں۔حنا ان کی پاکیزہ، پُروقار شخصیت سےمتاثر تھی اورانہی جیسی بننا چاہتی تھی۔کالج میں داخلے پر حجاب لینے کا فیصلہ بھی اُس کااپنا تھا، جس پر امّی نے اعتراض کیا کہ اُن کے خیال میں اس طرح اُ س کے لیے مناسب رشتہ ملنا مشکل ہوجائے گا،مگر ایسے موقعے پر ابّو اس کی ڈھال بن گئے اور وہ حجاب لے کرکالج جانے لگی۔

آج گھر میں خاصی گہما گہمی تھی کہ ابّو کے دیرینہ دوست ،رحمان صاحب کی فیملی رات کے کھانے پر مدعو تھی۔حنا، امّی اور بڑی امّی صبح ہی سے کچن میں مصروف تھیں۔ شام تک جب تمام کام مکمل ہوگیا تو وہ فریش ہو کر اپنے کمرے میں صبح کے ٹیسٹ کی تیاری کرنے لگی۔’’ارے! تم کمرے میں گُھسی بیٹھی ہو اور وہاں سب مہمان آگئے ہیں۔‘‘ کرن دھم سے بیڈ پر گرتے ہوئے بولی ۔’’آرام سے آرام سے…آگئے ہیں تو آنے دو ،تم کیوں خوشی سے بے حال ہو رہی ہو؟‘‘ ’’تم نے دیکھا نہیں ،نئے ماڈل کی بڑی سی کار میں آئے ہیں سب۔‘‘ ’’اچھا توتمہاری خوشی کی وجہ بڑی سی کارہے ۔مگر بے فکر رہو ،وہ تمہیں دے کر نہیں جائیں گے۔‘‘ ’’اچھا، تم نیچے چلو ،چچا جان تمہیں بلا رہے ہیں ۔‘‘کرن نے اپنی آمد کا اصل مقصد بتایا۔ ’’تم چلو ،مَیں آتی ہوں‘‘حنا نےاپنا حجاب درست کرتے ہوئے کہا۔ اور پھر تھوڑی دیر میں ڈرائنگ روم میں چلی آئی۔

رحمان صاحب کی فیملی اُسے حجاب میں دیکھ کر کافی حیرت زدہ تھی، لیکن اس کے پُروقار رویے اور تعلیمی کارکردگی سے بے حدبہت متاثر ہوئی۔ ’’کھانا بہت مزے دار ہے، کس نے بنایا؟‘‘ مسز رحمان نےپوچھا۔’’ یہ سب ہماری بیٹی کی محنت ہے‘‘ امّی بولیں ۔’’ماشااللہ! بہت سلیقہ شعار بیٹی ہے آپ کی۔‘‘اور پھر… اگلے ہی روزمسز رحمان نے فون کیا اور حنا کا رشتہ اپنے بیٹے کے لیے مانگ لیا۔ سب حیران تھے کہ آخر حنامیںایسا کیا دیکھا رحمان صاحب نے کہ اپنے اتنے لائق فائق بیٹے کے لیے اُس کا رشتہ مانگ لیا۔اور رشتہ بھی کیا مانگا۔ بس چٹ منگنی، پٹ بیاہ ہوگیا۔

شادی کے چند ہی ماہ میں حنا نے اپنی سلیقہ شعاری، خدمت گزاری اور بہترین اخلاق کی بدولت پورے سسرال میں اپنا ایک مقام بنا لیا ۔شارق ایک بہت اچھا شوہر ثابت ہوا، وہ پہلے ہی سے صوم و صلوۃ کا پابند تھا ، حناکے ساتھ نے کچھ اور بھی نیک اور متقی بنا دیا۔ اسی وجہ سے حنا اس کے ساتھ بہت خوش تھی۔ جب کہ حنا کےبہترین اخلاق و عادات دیکھتے ہوئے شارق کے خاندان سے کرن کے لیے بھی ایک شان دار رشتہ گیااور وہ بھی بیاہ کر بیرونِ مُلک سدھار گئی۔

ابھی حنا روزمرہ کےکاموں سے فارغ ہوکربیٹھی ہی تھی کہ بڑی نند اپنے دیور کی شادی کا کارڈ دینے آگئیں۔’’بھئی! سب کو ضرور شرکت کرنی ہےاور ہاںحنا ! تم پلیز ہال میں یہ حجاب مت لینا ،میرے سسرال والے کیا کہیں گے۔‘‘ ’’لیکن آپی! میرے حجاب سے انہیں کیا مسئلہ ہوگا؟‘‘ حنا نے دو ٹوک پوچھا۔ ’’یہ سب مجھے نہیں پتا، بس تم ہال میں سب کے سامنے ذرا احتیاط کرنا، میری عزت کا سوال ہے۔‘‘ ’’سوری آپی! آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر، مگر مَیں آپ کی یہ بات نہیں مان سکتی۔‘‘’’کیا مطلب تمہیں اپنے سسرال سے زیادہ اپنے اس دقیانوسی حلیے کا خیال ہے؟ بی بی !مانا کہ تم اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو ،مگر ذرا ماڈرن بھی بنو۔ زمانے کے ساتھ چلنا سیکھو ‘‘آپی بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل گئیں۔ 

’’یارحنا! باجی کی بات مان لینے میں آخر کیا مضائقہ ہے؟ گھر والوں کی خوشی اور موقعے کے لحاظ سے اس میں تھوڑی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔‘‘شارق نے بہن کی خوشی کی خاطرحنا کو قائل کرنے کی کوشش کی۔تو اُس نے اُلٹا سوال داغ دیا۔ ’’آپ اس وقت کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ ’’نماز پڑھنے ‘‘’’کیوں ؟آپ ایسا کریں ابھی مسجد نہ جائیں ، نماز کل پڑھ لیجیے گا۔ میری خوشی کے لیے اتنا تو کر سکتے ہیں ناں۔‘‘ شارق غور سے اسے دیکھنے لگا، جیسے وہ پاگل ہو گئی ہو۔’’ تم ٹھیک تو ہو ناں؟ فرض قضا کرنے کو کہہ رہی ہو؟ ‘‘ ’’بس یہی آپ کے سوال کا جواب ہے ۔‘‘ ’’کیا مطلب ؟ ‘‘’’مطلب یہ کہ جس طرح نماز فرض ہے، ایسے ہی ایک عورت پر اللہ نے پردہ فرض کیا ہے‘‘اس نے شارق کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔جن میںیک دَم ہی ندامت کے سائے لہرانے لگے تھے۔

’’بھابھی! یہ دیکھیں میرا سوٹ پیارا ہے ناں؟‘‘ ’’ہاں بہت پیاراہے، اچھا لگے گا تم پر ۔‘‘’’ابھی ولیمے کا ڈریس تو لانا ہے، آپی آتی ہوںگی، پھر ہم شاپنگ پر چلیں گے۔‘‘ حناکی چھوٹی نند نے اُسےشادی میں پہننے والا سُوٹ دکھایا۔’ ’حنا بیٹا! تم بھی ان کے ساتھ جاکے کوئی اچھا سا ڈریس لے آؤ۔‘‘حنا کی ساس نے کہا۔’’جی امّی! لے آتی ہوں۔‘‘حنا نے سعادت مندی سے جواب دیا۔ آپی نے آتے ہی اس پر اچٹتی سی نگاہ ڈالی ۔’’ذرا اس عبایا کی فٹنگ ہی کرلو۔ اتنی اسمارٹ ہو، تواسمارٹنس نظربھی تو آنی چاہیے۔‘‘ 

’’مگر آپی! ایسے حجاب کا کیا فائدہ، جس میں جسم نمایاں ہو، جو ثواب کے بجائےگناہ کا سبب بنے۔ عبایا، پردہ فیشن نہیں، فرض ہے۔‘‘ اس نے مُسکراتے ہوئے دھیمے لہجے میںکہہ کربڑی نند کی بولتی بند کردی۔اور پھرشاپنگ کے دوران دکان دار مسلسل اس کی نند کی بیٹی، تحریم کو، جو سلیو لیس شرٹ اور ٹائٹ جینز میں تھی، گھورتے رہےاور آپی کھسیانی سی ہوتی ر ہیں کہ حنا کی طرف تو کسی نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا،اُلٹا سب اسے عزت ہی دے رہے تھے۔

حنا شادی میں بھی پردے ہی میں شریک ہوئی ، جس پر اُس کی نند کے سسرال والوں نے بھی اسے بھر پور عزّت دی ۔ یوں بھی وہ اس کے اعلیٰ اخلاق اور تعلیم سے بے حد متاثر تھے۔ جب وہ لوگ واپس آنے لگے تو آپی نے حنا کو گلے لگاتے ہوئے بے اختیار کہا’’سوری حنا! مجھے اپنی غلطی پر افسوس ہورہاہے۔ میری دُعاہے کہ میری تحریم بھی تمہاری ہی طرح نیک اور با حیا ہو۔‘‘

’’واہ جناب! آج تو پورے ہال میں مسز شارق ہی چھائی ہوئی تھیں۔‘‘گھر آکر شارق نے حنا کو چھیڑتے ہوئے کہا۔’’آپ کو کیوں بُرا لگ رہا ہے؟‘‘ وہ شارق کا اطمینان بھرا چہرہ دیکھ کر مُسکراتے ہوئےبولی۔’’ یار! یہ تم نے کیسے کیا؟ آپی تو بہت نخریلی ہیں ، انہیں قائل کرنا کسی کے بس کی بات نہیں اور ہماری میڈم نے یہ معرکہ سر انجام دے دیا۔ پتا ہے کہہ رہی تھیں کہ مجھے اندازہ ہوا ہے کہ عورت کی اصل عزت پردے میں ہے۔حنا مَیں بہت خوش قسمت ہوں کہ تم میری شریکِ حیات ہو۔‘‘ شارق نے حنا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تو حنا کے چہرے کی چمک کچھ اور بھی بڑھ گئی۔

بذریعہ ڈاک موصول ہونے والی نا قابلِ اشاعت نگارشات اور ان کے قلم کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘

٭ ایک عام سی لڑکی، فروا کاظمی، کراچی٭مصنوعی دنیا، مصنوعی لوگ، میری محبوب وادی، وادیٔ حجاز، مصباح طیّب، سرگودھا٭شہیدِ کوفہ امام علی المرتضیٰؓ، سیّد علی عبّاس کاظمی، ساہی وال٭تربیت، بنتِ عبد الہادی، مقام نہیں لکھا٭انڈا کہانی، نقاب، صائمہ نور، مقام نہیں لکھا٭اچھی بات، شری مُرلی چند، گوپی چندگھوکلیہ، شکار پور، سندھ٭کھٹی میٹھی باتیں، ظہیر انجم تبسّم،خوشاب٭پڑاؤ، مصباح الغنیؔ،اسلام آباد٭دوسری چار پائی، تاج دین بٹ، عدیل ٹاؤن، فیصل آباد٭کورونا، نصرت جان، سیال کوٹ٭بُجھ گئے دیپ، سیّد شمیم اختر، ملیر کینٹ، کراچی۔

نا قابلِ اشاعت کلام اور ان کے تخلیق کار

٭ غزل، اسد رضا، احمد پور سیال ، جھنگ٭تُو اچھا ہے، نور عائشہ زاہد صدّیقی، کراچی ٭نعت،غزلیات، ذکی طارق،سعادت گنج، بارہ بنکی،

بھارت ٭ غزل، محمّد صارم جمال،کراچی٭ سسرال چلو، سُسرال چلو، سلطان لطیف، مقام نہیں لکھا٭کورونا، نصرت جان، سیال کوٹ ٭نعت،مَیں کہ اِک عورت ہوں،فوزیہ ناہیدسیال،مقام نہیں لکھا٭نغمہ سرزمینِ پاکستان، عبدالحکیم خان، کراچی٭ منقبت، علیم افضل، مقام نہیں لکھا ٭ منقبت، جاوید حسن، مقام نہیں لکھا٭ غزل، آمدِ سخن، سویرا،سفرِ لاحاصل، نئی منزلیں، تلاش،شامِ مہران، اعتراف،پرویز احمد،مقام نہیں لکھا٭ٹیلی ویژن، عذرا جمیل،اسلام آباد٭ غزل، پیر جنید علی چشتی، ملتان٭ غزل، محمّد ریاض، مقام نہیں لکھا۔