• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرحی نعیم، کراچی

مستحکم معاشرے کا قیام، مضبوط خاندانی نظام کا مرہونِ منّت ہے، کیوں کہ خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر ایک گھر میں رہنے والے تمام افراد اپنے مذہب، سماجی اقدار و روایات سے جُڑے ہوں، آپس میں محبّت و مرّوت کا رشتہ استوار ہو، سب ایک دوسرے کا خیال اور رشتے داری کا پاس رکھتے ہوں اور تعلقات کی اہمیت سے بھی واقف ہوں، تو ایک مضبوط خاندان وجود میں آتا ہے،لیکن اگر صُورتِ حال بر عکس ہو، تو نہ صرف خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے، بلکہ معاشرہ بھی مستحکم نہیں رہتا ۔ 

معاشرے کی مثال اگر ایک پیڑ کے طور پر لی جائے، تو خاندان کی حیثیت اُس کی جڑوں کی سی ہے۔ اگر درخت کی جڑیں گہری اور مضبوط ہوں، تو وہ ہرچھوٹے، بڑے طوفان و خطرات کا باآسانی مقابلہ کرسکتا ہے، وگر نہ ذرا سی تیز آندھی بھی اُسے ہلا کر رکھ دے گی۔ کیوں کہ صرف شاخوں، پتّوں کی دیکھ بھال سے پیڑ کبھی ثمر آور نہیں ہو سکتے۔ سو، کسی بھی معاشرے کو شکست و ریخت سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ خاندانی نظام کو تقویت دی جائے۔

یہ دیکھ کر شدید دُکھ ہوتا ہے کہ ایک مسلم معاشرے کا حصّہ ہونے کے باوجود ہمارے یہاں کئی خاندانوں میں اختلافات، جھگڑے عام ہیں۔ذرا ذراسی باتوں پر بسے بسائے گھر ایسے ٹوٹ جاتے ہیں، جیسے ریت کا گھروندا اور اس کی بنیادی وجہ دینِ اسلام سے دُوری اور غفلت ہے۔ دینِ اسلام ہر فرد کو اس کے حقوق وفرائض سے آگاہ کرتا ہے۔ نیکی میں سبقت، درگزر، صبر و تحمّل، عدل و ایثار اور قربانی جیسے اوصاف کی تلقین کرتا ہے، تو اگر دین کی تعلیمات کے کچھ ہی حصّے پر عمل کرلیا جائے تو نہ صرف متعدّد مسائل سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، بلکہ خاندانی نظام میں لگی دیمک سے(جس کی وجہ سے طلاق اور خلع کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ) چھٹکارا بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 

لیکن چوں کہ ہماری اکثریت مغرب سے مرعوب اور اس کے آزاد و خودمختار معاشرے کی گرویدہ ہے، تونہ چاہتے ہوئے بھی ہم ویسی ہی آزادی اور طریقِ زندگی کے خواہاں ہیں۔ ہم بھی ان کی طرح غیر فطری، غیر اخلاقی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ آج ہمارے یہاں بھی گھر ٹوٹنے کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے ۔

الله تعالی نے مَرد و عورت کی صُورت دو اصناف بنائیں، جن کی ذمّے داریوں کا تعین ان کی جسامت، صلاحیت اور قوّت کی بنیاد پر کیا۔ مَرد کے اندر مضبوطی، طاقت اور اندرونی و بیرونی سرد و گرم سے نمٹنے کی صلاحیت رکھی،خاندان کی کفالت اور حفاظت اس کی ذمّے داری قرار دی۔ تو عورت کو فطرتاً کم زور اور نازک احساسات و جذبات کی حامل ہونے کے سبب خاندان کی نگہداشت و دیکھ بھال کی ذمّے داری سونپ دی۔ لیکن مغربی نظریات کے زیرِ اثر صنفی مساوات کے علم برداروں نے سب کچھ درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ 

عورت کو خودمختاری و آزادی کے سُنہرے خواب دکھا کر شمعِ محفل بنا دیا، تو اس کے نتیجے میں خاندانی نظام پر ایسی کاری ضرب پڑی کہ اس کی اساس ہی کم زور ہوگئی۔ مغرب کی اندھی تقلید کے شوق میں عورت کو اس کے اپنے اصل مقام سے ہٹا کر اس کی منزل کھوٹی کی جارہی ہے۔ اس کے نازک کندھوں پر ایک ایسا بوجھ لادا جارہا ہے ،جس کی وہ متحمّل ہی نہیں۔

عورت کا مقام اُس کا گھر، اس کی ذمّے داری، اولاد کی پرورش اور آب یاری ہے۔ درحقیقت نسلِ نو کی اسلامی نہج پر پرورش ہی وہ عظیم مقصدہے، جس کے لیے الله تعالیٰ نے اُسے ہر قسم کی معاشی جدوجہد سے بری الذمّہ قرار دیا ہے۔ مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ مَرد و زن کے مابین معاملات، جب تک توازن میں رہے، معاشرے کا نظام بھی درست رہا، لیکن جب اس میں انسان نے اپنی ناقص عقل کے مطابق افراط و تفریط کی، سارا نظام ہی بگڑ کر رہ گیا۔ 

افسوس کہ آج کی عورت اس نکتے کو سمجھ نہیں پارہی کہ اگر وہ اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گی، توتا عُمر بھول بھلّیوں ہی میں بھٹکتی رہے گی، لہٰذا آج کی عورت برابری کا حق مانگنے کی بجائے اپنے فرائض جانے، سمجھے اور انہیں خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کرے،تاکہ اپنی تخلیق کے مقصد کوپاسکے۔