• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نواز اور مریم کی اپیلوں پر سماعت 23 جون تک ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 23 جون تک ملتوی کر دی۔

عدالتی معاون اعظم نذیر تارڑ نے دورانِ سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے تمام فریقین کو ایک ہی نظر سے دیکھنا ہے، اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ مختلف کیسز کے فیصلوں کے اثرات کا فرق ہوتا ہے، اس کیس میں صرف سزا کی معطلی کا عارضی ریلیف دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ڈس کوالیفکیشن موجود ہے، کسی ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کو غلط قرار دیا گیا ہے، اس صورت میں اپیل کنندہ سامنے نہ ہو تو اپیل بھی نہیں سننی چاہیئے۔

جسٹس عامر فاروق نے ان سے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی ہے کہ میرٹ پر اپیل مسترد کی جائے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھ کر بات کروں گا، ذوالفقار علی بھٹو کا کیس اگر ان کے سوا کسی اور کا ہوتا تو آج تک یاد نہ رکھا جاتا، سیاسی کیسز نہ صرف قانون کی کتابوں میں بلکہ سیاسی تاریخ میں بھی کندہ ہوتے ہیں، ایسی مثالیں ہیں کہ غیر موجودگی میں ہائی کورٹ نے اپیلیں سن لیں پھر سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ غیر موجودگی میں ٹرائل بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، جبکہ نیب کہتا ہے کہ اس اپیل کو اب میرٹ پر خارج کیا جائے، لیکن یہ اپیل سماعت کیلئے منظور ہو چکی تھی، اب اپیل کرنے والے موجود نہیں تو کیا کریں؟

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالتوں کی کچھ نظیریں موجود ہیں، عدالتیں کہتی رہیں کہ اس صورتِ حال میں فیصلہ میرٹ پر نہ ہو، میں کوئی بھی سیاسی وابستگی ایک طرف رکھ کر بات کر رہا ہوں، ایسی صورتِ حال میں وہ راستہ اپنانا چاہیئے جس سے کسی کا نقصان نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایسے مقدمات کا ایک اثر ہوتا ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سیاسی مقدمات صرف قانون کی کتابوں میں نہیں، تاریخ کی کتابوں میں بھی رہتے ہیں، مجھے اپنے ادارے عدلیہ کا وقار عزیز ہے، نواز شریف کی نااہلی اور سزا دونوں اس وقت برقرار ہیں، اس وقت مزید ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیئے جس سے عدلیہ پر حرف آئے، میں کچھ نکات پر مزید معاونت اگلی تاریخ پر کروں گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کا وکیل خود مقرر کر کے آگے بڑھا جا سکتا ہے؟

اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ قانون اجازت دیتا ہے کہ ملزم مرضی کا وکیل کرے، ریاست کا وکیل فراہم کرنا کچھ مخصوص حالات کے لیے ہی ہے، ان حالات میں ملزم کا خود عدالت موجود ہونا ضروری ہے، آرٹیکل 4، آرٹیکل 10 اے کو بھی دیکھنا چاہیئے۔

عدالتی معاون اعظم نذیر تارڑ نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات پیش کیئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نواز شریف کا غیر حاضری میں ٹرائل نہیں ہوا، نواز شریف ٹرائل کے دوران موجود تھے جنہیں اپنے دفاع کا موقع بھی ملا، نواز شریف کی اپیل ان کی غیر موجودگی میں سننے کا معاملہ ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ غیر حاضری میں اپیل سننے پر عدالت کہے کہ سزا غلط ہوئی تو بری کرنے پر تنقید ہو گی، کہا جائے گا کہ وی وی آئی پی ٹریٹمنٹ دیا گیا ہے، کہا جائے گا کہ اس کیس میں بری کرنے کے لیے جلدی کیوں کی گئی؟ ایک لمحے کو سوچ لیں، سزا برقرار رکھی جاتی ہے تو پھر اس پر عمل درآمد کیسے ہو گا؟ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق بھی متاثر ہو گا۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے اپنے دلائل دیئے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا حقِ سماعت پہلے ہی ختم کیا جا چکا ہے، اس عدالت نے ہر پہلو کا جائزہ لے کر ہی ایسا کیا تھا۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ اب اس اسٹیج پر نواز شریف کی اپیل خارج ہی کی جائے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ استفسار میرٹ پر آپ کو سن کر کریں یا ایسے ہی؟ آپ کہہ کیا رہے ہیں؟

نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شواہد میں بھی جائے بغیر اشتہاری ہونے پر اپیل خارج ہو سکتی ہے۔

جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے عدالتی حوالے بھی پیش کر دوں گا۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے استدعا کی کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا برقرار رکھی جائے، العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھائی جائے۔

جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیل میں ابھی تک نوٹس نہیں ہوئے۔

اعظم نذیر تارڑ نے مزید عدالتی معاونت کے لیے مہلت طلب کر لی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعظم نذیر تارڑ کی استدعا منظور کرتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں پر سماعت 23 جون تک ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید