• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:حافظ عبدالاعلی درانی۔ ۔۔بریڈفورڈ
کہاوت مشہور تو یہ ہے “جیسا کروگے ویسا بھرو گے “ جو سلوک اپنے دور جوانی ، دور اختیار میں دوسروں کے ساتھ کرو گے، ویسا ہی زندگی کے کسی بھی موڑ پر تمہارے ساتھ کیا جائیگا ۔ لیکن اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے ۔ انبیاء کرام کا یہ طریقہ کبھی نہیں رہا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں نے کیا کچھ نہیں کیا لیکن جب یوسف علیہ السلام کی باری آئی تو اپنی ساری دکھ بھری سٹوری اپنے والدین کو صرف تین جملوں میں پوری سنا ڈالی ۔ (1) اللہ نے بڑا کرم کیا جیل سے باہر نکالا. (2)آپ لوگو ں کو دیہات سے سلطنت مصر لے آیا (3)میرے اور بھائیوں کے درمیان شیطان نے دوری ڈال رکھی تھی وہ ختم ہوگئی۔ اور بس اپنے اوپر مظالم کا ذکر تک نہیں، بھائیوں کی داستان ستم کا ذکر بھی گول، شاہی محل میں جو آزمائشیں پیش آئیں ۔ کوئی یاد نہیں کرائیں ۔ جیل کے دس سالہ دور ستم کا کوئی ذکر نہیں ۔ بات شروع کہاں سے کی ؟جیل سے اپنی رہائی سے اور بچھڑوں سے ملنے سے،یہ جگرا بلاشبہ ایک نبی ہی کا ہوسکتا ہے ۔ ایسا ہی کچھ میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فتح مکہ کے موقع پر کیا ۔ ازلی دشمنوں سے فرمایا ۔ جاؤ تم سب آزاد ہو، ماضی کے کسی ستم کا کوئی عوض نہیں اور اس دور میں ایسا ہی کردار نیلسن منڈیلا نے پیش کیا، 27 سال قید تنہائی کا صرف ایک ہی “ستم” یاد رہا جب ایک صحافی نے پوچھا کہ ایک رات سخت بخار تھا اور جیل وارڈن نے اپنا کمبل مجھے اوڑھا دیا تھا جس سے میں سکون سے رات گزار سکا ۔ اے دنیا کے بڑے لوگوں ! انتقام کی راہ چھوڑو ،معاف کرنا سیکھو ۔ آسمان دنیا پر ستاروں کی طرح سدا جگمگاتے رہو گے ۔ یہ کہانی مجھے یاد آئی مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا، سارا دن پیالہ اور صراحی لیے تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا، بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا، وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ کا رمز شناس ہو چکا تھا لیکن ایک دن اس سے غلطی ہو گئی، بادشاہ کو پیالہ پیش کیا، بادشاہ گھونٹ بھرنے لگا توشاہی پیالے کا ایک کنارہ جھڑا ہوا تھا اور ٹوٹے ہوئے پیالے میں پانی پینا ہندوستان کے بادشاہ کی توہین تھی، بادشاہ نے پیالہ نیچے دے مارا اور غلام کو بیس کوڑے لگانے کی سزا سنا دی، بادشاہ کا حکم آخری حکم تھا، غلام کو کوڑے بھی لگ گئے اور وہ ڈیوٹی سے فارغ بھی ہو گیا، وقت بدلا، اورنگزیب عالمگیر نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا اور وہ تمام غلام اور ملازمین بوڑھے بادشاہ پر تعینات کر دیئے جنہیں کبھی شاہ جہاں نے سزائیں دی تھیں، وہ پانی پلانے والا غلام بھی ان ملازموں میں شامل تھا، بادشاہ کو قید میں پیاس محسوس ہوئی، پانی مانگا، غلام آیا اور پیالہ بادشاہ کے ہاتھ میں پکڑا دیا، بادشاہ نے پیالے کو غور سے دیکھا، وہ شکستہ تھا اور کسی نے اس کی کرچیاں، اس کی ٹھیکریاں جوڑ کر اسے قابل استعمال بنایا تھا، بادشاہ نے حسرت سے پیالہ دیکھا اور پھر غلام کی طرف دیکھ کر پوچھا "میرے ساتھ یہ سلوک کیوں؟ " غلام نے مسکرا کر عرض کیا "حضور یہ وقت کا سلوک ہے، یہ وہی پیالہ ہے جس کا ایک کونا بھرنے پر آپ نے اس میں پانی پینے سے انکار کر دیا تھا اور اسے زمین پر مار کر توڑ دیا تھا، میں نے اس ٹوٹے ہوئے پیالے کی کرچیاں اٹھا لی تھیں، میں نے انہیں جوڑا اور اس گھڑی کا انتظار کرنے لگا جب آپ کو وقت اس پیالے میں پینے پر مجبور کرے گا اور بادشاہ سلامت وہ وقت آ گیا" شاہ جہاں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ آنسو اگر نہ بھی آتے تو بھی بادشاہ نے باقی زندگی پانی اسی ٹوٹے ہوئے پیالے میں پینا تھا، کیوں؟ کیوں کہ یہ دنیا ایک وادی ہے اور اس وادی میں ہر شخص کواپنی انا، اپنے تکبر اور اپنی حماقتوں کی بازگشت بہرحال سننا پڑتی ہے۔ کیا یہ لوگ ایک اچھے انسان کے لیے مشعل راہ ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ۔ ہمارے لیے راستہ اپنے آقا والا ہے ۔ سیدنا یوسف علیہ السلام والا ہے اور وقت کے مقتدر لوگوں کے لیے ان کے ساتھ ساتھ نیلسن منڈیلا والا ہے ۔ ہے نا سچی بات !!!
یورپ سے سے مزید