• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکنالوجی کے شعبے کی پُرکشش ملازمتیں

ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیز ترین ترقی اور وقت کے ساتھ آتی نت نئی تبدیلیوں نے کافی کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ روزگار کے حوالے سے بھی کافی تبدیلیاں آتی جارہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے باعث آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)، مشین لرننگ اور روبوٹکس جیسے کئی ایسے شعبے متعارف ہوچکے ہیں جن میں ناصرف افرادی قوت درکار ہے بلکہ پُرکشش آمدنی کے ساتھ دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ ملازمتوں کے حوالے سے ان میدانوں میں کام کرنے کے یقینی مواقع موجود ہیں اور آگے بڑھنے کا موقع بھی ہے۔ ذیل میں ایسی ہی چند ملازمتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔

ڈیٹا سائنس منیجر

جب تنظیمیں، صارفین سے ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں تو اس کے لیے انھیں قابل ڈیٹا سائنسدان چاہیے ہوتے ہیں۔ وہ بگ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں تاکہ اہم کاروباری فیصلے لیے جاسکیں۔ اگر آپ ڈیٹا سائنس میں کیریئر بناتے ہیں تو منیجر بننے تک آپ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے چلنے والی مختلف چیزوں اور لائحہ عمل پر عبور حاصل کرنے کے لیے کلائنٹ انکاؤنٹرز، ان کا شمار اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس جمع کریں گے۔ آپ پروگرامنگ، حقیقی تشخیص اور تعلقات قائم کرنے میں کلائنٹس کی مدد کریں گے تاکہ کاروبار کو فائدہ پہنچانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا سائنس کے بارے میں ان کے تاثرات بہتر ہوں۔

بگ ڈیٹا انجینئر

بگ ڈیٹا انجینئر کا کام بہت تکنیکی ہے۔ وہ ڈیٹا سسٹم کو ڈیزائن اور برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو بنیادی ڈھانچے کے تجزیے سے لے کر ڈیٹا ویئرہاؤسز تک بہت سارے تصورات کا احاطہ کرتا ہے۔ ڈیٹا انجینئرز کو عام طور پر استعمال شدہ اسکرپٹڈ زبانوں کی گہری تفہیم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضروری معلومات کو ڈیٹا پائپ لائنز، تعلیمی ریکارڈز اور پلان میں الگ کرنے کے لیے بگ ڈیٹا انجینئرز کی جانب سے ڈیٹا کا لائحہ عمل وضع، تیار اور اس کا فروغ کیا جاتا ہے۔ 

بگ ڈیٹا انجینئر کے ذریعے یہ چیز یقینی بنائی جاتی ہے کہ وہ ڈیٹا سائنٹسٹ کو مصدقہ اعداد و شمار کی جانچ اور انہیں جمع کرنے کی سہولت فراہم کرے۔ متوقع اَپ گریڈ پر غور و فکر کرنے اور عملدرآمد پر توجہ دینے کی بجائے ان پر بگ ڈیٹا آلات کو بنا کسی غلطی کے چلانے کی ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

مشین لرننگ انجینئر

آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں بے شمار پیشے ہیں۔ مشین لرننگ انجینئر بننے کے لیے کمپیوٹر کوڈز پڑھنے، بنانے اور ترمیم کرنے کا طریقہ جاننا ہوگا۔ مشین لرننگ انجینئر کی حیثیت سے آپ کو بزنس کے اندرونی اعداد و شمار استعمال کرتے ہوئے مخصوص دشواریوں کے ساتھ کام تفویض کیے جائیں گے۔ 

ایسا کرنے کے لیے آپ کو متعدد تجرباتی الگورتھم وضع اور ان کی جانچ کرنے کی ضرورت ہوگی جو دستیاب کام کے لئے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ کام کرنے کے لیے ایپلی کیشنز کو تبدیل کر دیا گیا ہے ، مستند ہدف ایک خاص مشین کی تیاری کے لیے ضروری ہے جو سوچنے، سیکھنے اور کسی خاص عنوان کے بغیر فرائض ادا کرنے کے لیے حکم ملنے کی توقع کرے۔

سافٹ ویئر انجینئر

سافٹ ویئر انجینئرنگ بنیادی طور پر سافٹ ویئر ڈویلپرز اور سسٹم سافٹ ویئر ڈویلپرزمیں تقسیم ہوتی ہے۔ بظاہر یہ دونوں ملتے جلتے شعبے لگتے ہیں مگر ہیں بالکل مختلف۔ سافٹ ویئر ڈویلپرز ایپلی کیشن بناتے ہیں جبکہ سسٹم سافٹ ویئر ڈویلپرز کمپیوٹر کے اندر ہونے والے کاموں کو دیکھتے ہیں۔ 

سافٹ ویئر ڈویلپرز فرنٹ اور بیک اینڈ کے لیے جبکہ سسٹم سافٹ ویئر ڈویلپرز بنیادی طور پر بیک اینڈ کے لیے ایپلی کیشنز تیار کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے ادارے ہیں جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹکس کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ 

لہٰذا سافٹ ویئر انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے کے بہت سے مواقع ہیں جیسے کہ ایپلی کیشنز کیلئے انتظامات، ترقی، جانچ اور بیکنگ (Backing)یا انسانوں کے بنائے ہوئے بیداری کے پروگرام۔ اس کے علاوہ انہیں آئی ٹی کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ غرض یہ کہ سافٹ ویئر انجینئرز آج موبائل فون، کارسازی، ٹیلی کمیونیکیشن، ہوا بازی، کھیلوں اور صحت جیسے ہر شعبہ اور صنعت کی ضرورت ہیں۔

آٹومیشن انجینئر

آٹومیشن انجینئرنگ، معیاری انجینئرنگ کے شعبوں کا انضمام ہے۔ یہ انسانی مشقت اور وقت کو کم کرنے اور درستگی بڑھانے کے لیے مختلف سسٹمز یا مشینوں کو چلانے کا آٹومیٹک کنٹرول ہے۔ آٹومیشن انجینئر وہ شخص ہے جو سافٹ ویئر پروسیس کے لیے خودکار حل پیش کرتا ہے۔ 

آٹومیشن انجینئر کاکام کوڈ لکھنا، سافٹ ویئر ٹیسٹ کرنا اور ایسے امور کو خود کار بنانا شامل ہے۔ آٹومیشن انجینئر کو دیگر ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے تاکہ ضروریات کی فہرست جمع کی جائے اور آٹومیشن پروسیس کو نافذ کرکے مسائل کی نشاندہی اور ان کا تدارک کیا جائے۔

اے آئی آرکیٹیکٹس

اے آئی آرکیٹیکٹس نہ صرف انفرادی بزنس پراسیس کو دیکھتے ہیں بلکہ کمپنی کی مجموعی صورتحال پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ادارے میں کس جگہ مصنوعی ذہانت کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ ادارے کی بحیثیت مجموعی اور اس کے مختلف ڈپارٹمنٹس کی انفرادی کارکردگی اور مسابقت پر نظر رکھتے ہیں اور جانچتے ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کس طرح ادارے کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہا ہے۔ 

وہ اس بات پر بھی نظر رکھتے ہیں کہ وہ کون سے مراحل ہیں، جہاں انسانی وسائل سے بھرپور فائدہ اُٹھایا نہیں جارہا اور وہاں رکاوٹوں کو کس طرح ختم کرکے انسانی وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔