• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائس آف کشمیر کا بارہ مولہ میں جھڑپ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد( محمد صالح ظافر) بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم وائس آف کشمیر نے گزشتہ روزمقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپور میں قابض بھارتی فوج کے حملے میں تین بے گناہ کشمیریوں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیری میڈیا کے مطابق بھارتی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے گزشتہ روزمقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپور میں شہریوں پر حملہ کیا اور اس واقعے کے نتیجے میں تین بے گناہ کشمیریوں کی شہادت ہوئی ہے اور متعدد کشمیری زخمی ہوئے ہیں۔یہ حملہ اس وقت ہوا جب بھارتی پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں نے گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران کشمیری شہریوں پر فائرنگ کردی۔ بھارتی حکام کا دعوی ہے کہ سیکیورٹی اہلکار مجا ہدین کی فائرنگ کی زد میں آئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے اور اس طرح کے واقعات میں بھارت کا سابقہ ریکارڈ بھی ان دعووں کی نفی کرتا ہے۔متنازعہ خطے میں بھارت کی قابض افواج شہری آبادی کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لئے انسداد دہشت گردی کے نام پر بار بار گھر گھر تلاشی کے بہانے کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کے جذبات دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر سزا اور انتقامی کارروائی کا ایک طریقہ ہے۔وائی ایف کے-انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں قابض فوج کی حیثیت سے بھارت کی ذمہ داریوں اور سوپور میں بھارتی نیم فوجی کارروائی کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔وائی ایف کے نے نئی دہلی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں طاقت کا استعمال بند کرے، ریاست کی خودمختاری کو بحال کرے، بھارتی فوجی موجودگی کو کم کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی روشنی میں تنازعہ کشمیر کا مستقل اور پرامن حل تلاش کرنے کے لئے فوری طور پر پاکستان اور کشمیریوں سے بات چیت کا آغاز کرے۔وائی ایف کے انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر)ایک غیرجانبدار، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی)کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے کام کررہی ۔ 

دنیا بھر سے سے مزید