• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابوعبداللہ نہایت عجلت میں گھر داخل ہوئے۔ چہرے پر پریشانی اور گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔ سامنے بیٹھی اہلیہ نے غور سے دیکھا اور ابھی کچھ پوچھنے بھی نہ پائی تھیں کہ وہ جلدی سے بولے’’ اُمّ ِعبداللہؓ! حالات دِن بہ دِن خراب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ مکّے کی سرزمین مسلمانوں کے لیے تنگ کر دی گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب ہمیں فوری طور پر یہاں سے ہجرت کر کے کسی محفوظ جگہ چلے جانا چاہیے۔ 

مجھے پتا چلا ہے کہ آج رات مسلمانوں کا ایک قافلہ حبشہ کی جانب ہجرت کر رہا ہے۔ اگر ہمیں اجازت مل گئی، تو ہمیں بھی اُس قافلے میں شامل ہو کر یہاں سے نکل جانا چاہیے۔‘‘ اہلیہ جو پہلے ہی اپنوں کی لعن طعن، دشنام طرازی، تحقیر و استہزا اور اشتعال انگیزیوں سے تنگ آ چُکی تھیں، خوش ہوتے ہوئے بولیں،’’ ابوعبداللہؓ ! اگر ایسا ہو جائے، تو کیا ہی اچھا ہو۔ اب تو اپنوں کی اجنبی نگاہوں سے بھی خوف آتا ہے۔‘‘ وہ بولے،’’ اچھا تو پھر تم ابھی سے سفر کی تیاری شروع کر دو کہ وقت بہت کم ہے۔ مَیں دارِ ارقم جاتا ہوں۔ اگر نبی کریمﷺ نے اجازت دے دی، تو بازار سے راستے کے لیے ضروری سامان خریدتا آؤں گا۔‘‘

حضرت لیلیٰؓ نے لاجواب کر دیا

ابوعبداللہؓ نہایت تیزی سے باہر نکلے، تو اہلیہ نے گھر کا سامان سمیٹنا شروع کردیا۔ وہ جانتی تھیں کہ مکّے سے حبشہ تک کا سفر آسان نہیں۔ اکلوتا دُودھ پیتا بیٹا، عبداللہ گھر کے کُھلے دروازے کے سامنے کھیل میں مصروف تھا کہ اچانک ایک بارُعب آواز نے خاتونِ خانہ کو چونکا دیا، ’’اے عبداللہ کی ماں! خیریت تو ہے، کہاں کی تیاری ہے؟ کیا کسی سفر پر جا رہی ہو؟‘‘ خاتونِ خانہ نے دروازے کی جانب دیکھا، تو سامنے قریش کا نوجوان جنگ جُو سردار، عُمر بن خطاب کھڑا تھا۔ لمحے بھر کو خوف کی ایک لہر دماغ سے نمودار ہو کر پورے وجود کو لرزاتے ہوئے گزر گئی۔ پھر مجاہدانہ انداز میں گویا ہوئیں،’’ ہاں ابوحفص! جب بھائی، بہنوں کے خون کے پیاسے ہو جائیں، تو پھر مشکل فیصلے کرنے ہی پڑتے ہیں۔

تم لوگ ہم پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑ رہے ہو، اس قہر و غضب اور ابتلائے عظیم نے ہمیں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔‘‘ ’’پھر کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ عُمر نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔بولیں،’’ابوحفص! اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ جب ہم اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں سے نکلیں گے، تو یقیناً ہمارا رَبّ ہمیں کسی محفوظ جگہ پہنچا دے گا۔‘‘اس پر وہ اُداس سے لہجے میں مخاطب ہوئے،’’ اُمّ ِعبداللہؓ! تم لوگ اپنے راستے پہلے ہی ہم سے جُدا کر چُکے ہو اور اب جب کہ تم نے مکّہ چھوڑنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے، تو میری دُعا ہے کہ تم جہاں بھی جائو، خُدا تمہارے ساتھ ہو۔‘‘ قریش کے مردِ آہن، عُمر بن خطاب ان الفاظ کی ادائی کے ساتھ بوجھل قدموں سے آگے بڑھ گئے۔

اللہ دِلوں کو پھیرنے پر قادر ہے

کچھ ہی دیر بعد ابو عبداللہؓ ضروری سامان کے ساتھ گھر واپس آ گئے۔ اہلیہ نے اجازت کے بارے میں پوچھا، تو جواب دیا،’’ہاں! آنحضرتﷺ نے ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔‘‘ اہلیہ نے عُمر کے آنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا،’’ مَیں نے محسوس کیا کہ ہماری ہجرت کی خبر سُن کر اُن کے چہرے کی سختی، دُکھ اور افسوس میں بدل گئی تھی۔ مجھے عُمر کچھ بدلے بدلے سے دِکھائی دیے۔‘‘ شوہر بولے،’’ عبداللہ کی ماں! تم اپنی برادری بھائی، عُمر کو بدلنے کی لاکھ کوششیں کر لو، اُن کے بارے میں حُسنِ ظن بھی رکھو، لیکن وہ کبھی اِسلام قبول نہیں کرے گا۔‘‘

اہلیہ نے شوہر کی جانب دیکھا اور بولیں،’’ اللہ دِلوں کو پھیرنے پر قادر ہے۔ کیا عجب کہ ایک دِن عُمر بھی مجاہدینِ اسلام میں شامل ہو جائے۔‘‘ اور پھر اللہ کی قدرت دیکھیے کہ پتھر دِل پر پڑے پانی کے پہلے قطرے نے اپنا کام کر دِکھایا۔ ابھی ان لوگوں کو حبشہ گئے چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ حضرت عُمر بن خطابؓ کے نعرۂ تکبیر نے مکّے کے پہاڑوں کو دہلا دیا اور اللہ نے اپنے نبیﷺ کی دُعا قبول فرمائی۔

پہلی ہجرتِ حبشہ

وہ رجب 5 نبوی کی خاموش سیاہ رات تھی، جب اُمّ عبداللہؓ اپنے شوہر، حضرت عامر بن ربیعہؓ اور معصوم بیٹے، عبداللہ کے ساتھ دامادِ رسولؐ، حضرت عثمانؓ کی قیادت میں حبشہ جانے والے قافلے میں شامل ہوگئے، جو 12 مَردوں اور چار خواتین پر مشتمل تھا۔ اس میں حضورﷺ کی صاحب زادی، حضرت رُقیہؓ بھی شامل تھیں۔ یہ لوگ رات کے پچھلے پہر نہایت راز داری کے ساتھ بحرِ احمر کی بندرگاہ، شعیبہ پہنچے، جسے اِن دِنوں جدّہ کہا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے یہاں دو تجارتی بحری جہاز حبشہ جانے کے لیے تیار تھے۔ اس سے پہلے کہ کفّارِ مکّہ قافلے تک پہنچتے، جہاز اللہ کے ان بندوں کو لیے کُھلے سمندر میں حبشہ کی جانب رواں دواں ہوگئے۔ (تاریخِ طبری حصّہ اوّل، سیرتُ النبی صفحہ 95)۔

حسب نسب

عظیم صحابیہؓ،حضرت لیلیٰ بنتِ حشمہ،ؓ حضرت عُمر بن خطابؓ کے قبیلے، بنو عدی سے تعلق رکھتی تھیں۔ محمد بن سعدالبصریؒ نے ان کا نسب یوں تحریر کیا ہے: حضرت لیلیٰؓ بنتِ ابی حشمہ بن حذیفہ بن غانم بن عامر بن عبداللہ۔ اُن کے شوہر کا نام، حضرت عامر بن ربیعہؓ تھا۔ دونوں میاں بیوی کو ’’سابقون الاوّلون‘‘، یعنی ابتدائی مسلمانوں میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ جوڑا اِسلام کی راہ میں بہت زیادہ تکالیف اور ظلم و ستم جھیلنے والوں میں شامل ہے۔ (طبقات ابنِ سعد 403/8)۔

کفّار سجدہ ریز ہوگئے

حضرت لیلیٰؓ اپنے شوہر، صاحب زادے اور دیگر صحابہؓ کے ساتھ حضرت عثمان بن عفّانؓ کی امارت میں نہ صرف پُرسکون وقت گزار رہی تھیں، بلکہ مقامی لوگوں میں تبلیغِ اسلام کا فریضہ بھی سرانجام دے رہی تھیں۔ حبشہ کا بادشاہ، نجاشی ان مہمانوں کا بے حد خیال رکھتا تھا، لیکن اس سب کے باوجود دیدارِ مصطفیٰﷺ کی سعادت اور آپﷺ کی قربت یاد آتی، تو دِل مکّہ جانے کے لیے بے قرار ہو جاتا۔ ابھی حبشہ میں چار ماہ ہی گزرے تھے کہ قریشِ مکّہ کے مسلمان ہونے کی خبر حبشہ پہنچی، جس پر مہاجرین نے واپسی کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت لیلیٰؓ اور اُن کے شوہر بھی مکّہ واپس آ گئے، لیکن معلوم ہوا کہ وہ خبر ایک غلط فہمی پر مبنی تھی۔ 

صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ صحنِ کعبہ میں سورۂ نجم کی تلاوت فرما رہے تھے۔ آپﷺ جب اِس آیت پر پہنچے’’پس، اللہ کے سامنے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو‘‘ تو حضورﷺ کے ساتھ وہاں موجود تمام مسلمان اور مشرکین بے اختیار ہو کر سجدہ ریز ہوگئے، صرف ایک مشرک، اُمیّہ بن خلف نے سجدہ نہیں کیا، اُس نے ایک مُٹّھی مٹّی اُٹھائی اور اپنی پیشانی پر مَل لی۔حضرت ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ’’ اُس وقت وہاں موجود تمام مشرک، مسلمان حتیٰ کہ جنّات بھی سجدہ ریز ہو گئے تھے‘‘(صحیح بخاری 4862)۔ جزائرِ عرب میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چُکی تھی۔ یہ واقعہ ماہِ رمضان 5 نبوی میں پیش آیا۔ اور یہی وہ خبر تھی، جو مہاجرین کی حبشہ سے مکّہ واپسی کا باعث بنی۔

اللہ کی راہ میں تین ہجرتیں

حضرت لیلیٰؓ دیگر مسلمانوں کے ساتھ ماہِ شوال میں مکّہ واپس پہنچیں، تو معلوم ہوا کہ اب تو حالات پہلے سے بھی اَبتر ہو چُکے ہیں۔کفّار کی جانب سے ظلم و تشدّد میں مزید شدّت آچُکی تھی، چناں چہ آنحضرتﷺ نے دوبارہ ہجرت کی ہدایت فرمائی۔ حضرت لیلیٰؓ، اُن کے شوہر اور بیٹا 83 مَردوں اور 18 خواتین کے ساتھ دوبارہ حبشہ ہجرت کر گئے۔ چند سال حبشہ میں گزار کر میاں، بیوی مکّہ واپس آئے، تو اُنھیں مدینے کی جانب ہجرت کا حکم ملا۔ 

چناں چہ وہ ایک مرتبہ پھر اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے۔ یوں اِس خانوادے نے اللہ کی راہ میں تین مرتبہ ہجرت کا اعزاز حاصل کیا۔ حضرت لیلیٰؓ کے صاحب زادے،حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہؓ فرماتے ہیں کہ میری والدہ سے پہلے کوئی بھی پردہ نشیں خاتون ہودج میں بیٹھ کر مدینہ نہیں آئیں۔ ہجرت کے اِس سفر میں وہ میرے ساتھ تھیں۔‘‘ (طبقات ابنِ سعد 403/8)۔

انصار کا حُسنِ سلوک

حضرت لیلیٰؓ اور اُن کا خاندان سب سے پہلے مدینہ ہجرت کرنے والے چند مسلمانوں میں سے ایک تھا۔ جب انصار کو ان کے دو مرتبہ حبشہ ہجرت کا علم ہوا، تو اُن کے ساتھ نہایت عزّت و احترام کے ساتھ پیش آئے۔ انصار ہی نے اُن کے لیے رہائش اور اُن کےشوہر، حضرت عامر بن ربیعہؓ کے لیے روزگار کا بندوبست کیا۔ چناں چہ وہ بہت جلد پُرسکون اور آرام دہ زندگی گزارنے کے قابل ہوگئے۔

حضرت لیلیٰؓ کے مناقب

حضرت لیلیٰؓ بے باک اور حق گو ہونے کے ساتھ شجاعت و بے خوفی، جرأت و استقامت اور عزیمت کا مثالی پیکر تھیں۔ مشکلات کا مقابلہ اور تکالیف و مصائب سے پنجہ آزمائی اُن کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی۔ شادی کے بعد اپنے شوہرؓ کے قدم بہ قدم ہر آزمائش میں پوری اُتریں۔ حضرت لیلیٰؓ اور اُن کے شوہر نے غزوۂ بدر سے غزوۂ تبوک تک، تمام غزوات میں بھرپور شرکت کی۔ مؤرّخین کے نزدیک، حضرت عُمرؓ کے قبولِ اسلام میں جہاں اُن کی بہن فاطمہؓ کا ہاتھ ہے، وہیں دُوسری طرف، حضرت لیلیٰ بنتِ حشمہؓ کی مسلسل کاوشیں بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔

جھوٹ بولنا منافق کی علامت

اللہ کے رسولﷺ ،حضرت لیلیٰؓ کے خاندان کو اُن کی جرأت، استقامت اور جہدِ مسلسل کی بنا پر بہت پسند فرماتے تھے اور اُن کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپﷺ حضرت لیلیٰؓ کے گھر گئے۔ اُنھوں نے اپنے چھوٹے بچّے کو بلایا اور کہا’’ تم میرے پاس آئو، مَیں تمہیں کچھ دوں گی۔‘‘ حضورﷺ نے فرمایا،’’ تم اسے کیا دو گی؟‘‘ بولیں، ’’مَیں اسے کھجور دوں گی۔‘‘ 

آپﷺ نے فرمایا’’ اگر تم اسے دینے کے بہانے سے بُلاتیں اور کچھ نہ دیتیں، تو تمہارا شمار جھوٹوں میں ہوتا۔‘‘ آنحضرتﷺ نے فرمایا’’ جھوٹ انسان کو آگ کی طرف لے جاتا ہے‘‘ (ابودائود4989:)۔اور آپﷺکا ارشادِ گرامی ہے’’ جھوٹ بولنا منافق کی نشانی ہے‘‘ (ابودائود 4688:)۔