• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشتاق یوسفی کا حسِ مزاح، ضیا محی الدین کا اندازِ بیاں

قدرت نے پاکستان کو ایک سے بڑھ کر ایک گوہرِ نایاب عطا کیا ہے۔ فن کی دنیا میں بھی کئی شخصیات نے ادبی، علمی اور فنکارانہ صلاحیتوں کی بدولت اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان میں سے دو شخصیات ایسی ہیں جنھوں نے اپنے اپنے شعبہ میں خوب نام کمایا اور جب ایک کی طنزومزاح پر مبنی نثرنگاری کا دوسرے کی جادوئی آواز اور اندازِ بیاں سے ملاپ ہوا تو دنیا نے مزاح نگاری سے خوب لُطف اٹھایا۔ جی ہاں، ہم بات کررہے ہیں اردو کے صفِ اوّل کے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی اور باکمال فنکار ضیا محی الدین کی۔

مشتاق احمد یوسفی کی تحریریں ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول ہیں۔ ضیا محی الدین نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ہم دورِ یوسفی میں زندہ ہیں۔ ضیا محی الدین نے مختلف تقریبات میں یوسفی صاحب کی شگفتہ تحریروں کو بڑے دلچسپ پیرائے میں پیش کیا۔ یہ جہاں لکھنے والے کے کمال فن کا نمونہ ہے وہاں پڑھنے اور پیش کرنے والے کے حسنِ انتخاب، نکتہ سمجھنے اور سمجھانے کی اہلیت، سخن فہمی، لفظ کا مزاج اور لہجہ بھی اپنی جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ 

یوسفی صاحب کی بدولت عام آدمی کی مزاحیہ ادب کی طرف دلچسپیاں بڑھیں جبکہ ضیا محی الدین نے تحت اللفظ میں بھرپور اظہار اور ڈرامائی تیکنیک کو مد نظر رکھ کر یوسفی صاحب کے حسِ مزاح کو مختلف محافل میں پیش کیا اور مزاحیہ نثرنگاری کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ ضیا محی الدین کی آواز میں یوسفی صاحب کی تحریروں کے چلبلے کردار خواب و خیال میں رقص کرتے نظر آتے ہیں۔

ضیا محی الدین کے کسی پروگرام کے بارے میں جب بھی ان کے مداحوں کو پتہ چلتا ہے تو وہ ان کو سننے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں۔ ضیا محی الدین کی آواز اور انداز اور کی رینج بہت وسیع ہے۔ انھوں نے مغفور ومشفق یوسفی صاحب کے خطوط کے اقتباسات بھی پڑھے ہیں، جس پر لوگوں سے بے پناہ داد بھی حاصل کی۔ اگر یوں کہا جائے کہ کئی نوجوانوں کا اردو نثر سے محبت کا رشتہ ضیا محی الدین کی آواز کے ذریعے ممکن ہوا ہے تو بھی غلط نہ ہوگا۔

مشتاق احمد یوسفی

اردو ادب کے مزاح نگار اور تخلیقی نثرنگار مشتاق احمد یوسفی 4اگست 1923ء کو جےپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا یوسف زئی خاندان قبائلی علاقہ چھوڑ کر کئی صدیاں قبل ریاست راجستھان میں آباد ہوگیا تھا۔ یوسفی صاحب نے ابتدائی تعلیم جےپور میں ہی حاصل کی۔ 1945ء میں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اوّل پوزیشن میں فلسفے میں ایم اے کیا۔ 1946ء میں وہ پی سی ایس کر کے ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مقرر ہو گئے۔ 

اسی سال وہ ادریس فاطمہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، جو خود بھی ایم اے فلسفہ کی طالبہ تھیں۔ 1950ء میں یوسفی صاحب ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ کراچی میں انھوں نے سول سروس کے بجائے نجی بینک میں ملازمت اختیار کرلی۔ 1955ء میں یوسفی صاحب نے ’صنفِ لاغر‘ کے نام سے اپنا پہلا باقاعدہ مضمون لکھا۔ اس کے بعد انھوں نے مختلف رسالوں میں مضامین لکھنا شروع کیے جو 1961ء میں ان کی پہلی کتاب '’چراغ تلے‘ کا حصہ بنے۔

ان کی اگلی کتاب ’خاکم بدہن‘ پڑھنے کے لیے مداحوں کو 9سال انتظار کرنا پڑا۔ 1970ء میں ان کی دوسری کتاب شائع ہوئی اور 1971ء میں اسے آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1976ء میں یوسفی صاحب کی تیسری کتاب '’زرگزشت‘ شائع ہوئی، اسے بھی آدم جی ایوارڈ دیا گیا۔ یوسفی صاحب نے اسے اپنی 'سوانحِ نوعمری قرار دیا تھا لیکن اس کی کہانی ان کے پاکستان آنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ 1989ء میں ان کی چوتھی کتاب ’آبِ گم‘ شائع ہوئی۔ مشتاق احمد یوسفی کی ہر کتاب ہیئت ایک دوسرے سے مختلف تھی۔ 

تاہم، ان کی پانچویں اور آخری کتاب آنے میں 25سال کا عرصہ لگا۔ 2014ء میں ’شامِ شعرِ یاراں‘ شائع ہوئی جو مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین، خطبات اور تقاریر کا مجموعہ تھی۔ یوسفی صاحب نے ادب کے قاری میں مزاحیہ ادب سے حظ اٹھانے کا شعور پیدا کیا۔ الفاظ کے انتخاب کے سلسلے میں وہ نہایت محتاط تھے۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے لوگوں کو جینے اور مسکرانے کا موقع فراہم کیا۔ مشتاق احمد یوسفی 20جون2018ء کو اس دارِفانی سے کوچ کرگئے مگر اردو ادب میں عہد یوسفی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ضیا محی الدین

20جون 1933ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے ضیا محی الدین ایک نامور پاکستانی اداکار، ہدایتکار، فلمساز اور ٹی وی میزبان ہیں۔ انھوں نے قصور اور لاہور میں ابتدائی زندگی گزاری۔ بعد میں رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک کلب لندن سے اداکاری کی تربیت حاصل کی۔ وہ اپنے فنی کیریئر میں پاکستانی اور برطانوی سنیما سے وابستہ رہے۔ 1962ء میں ان کی پہلی فلم ’لارنس آف عریبیا‘ ریلیز ہوئی، جس میں انھوں نے عربی بدو کا کردار ادا کیا۔ 

گو کہ ہالی ووڈ کی اس مشہور ترین فلم میں انھوں نے مختصر کردار ادا کیا مگر اپنی اداکاری سے ہر کسی کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے بعدانھوں نے کئی ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں کام کرکے اپنے فن کا سکّہ جمایا۔ان کی مشہور انگریزی فلموں میں لارنس آف عریبیا، خرطوم، دی سیلر فرام جبرالٹر، بمبئی ٹاکی اور پارٹیشن شامل ہیں۔ 

اس کے علاوہ انہوں نے تین پاکستانی فلموں اور ایک بھارتی فلم میں بھی اداکاری کی۔ ضیامحی الدین کے مقبول ٹی وی ڈراموں میں ڈیٹیکٹو، دی ایونجرز مین، ڈینجرمین، ان اے سوٹ کیس، ڈیتھ آف اے پرنسس، ان دی کرائون، دی جیول پرائڈ اور فیملی شامل ہیں۔ 1969ء اور 1973ء میں انھوں نے ’’ضیا محی الدین شو‘‘ کے نام سے مقبول ٹالک شو کیا۔ ان کے بولنے اور اشعار پڑھنے کا انداز بہت متاثر کن تھا۔ 

وہ انگریزی کے خطوط بھی شاندار طریقے سے پڑھتےتھے، جس کی بنا پر انھیں مزید مقبولیت حاصل ہوئی۔ ضیا محی الدین کو اردو، انگریزی اور پنجابی زبان پر زبردست عبور حاصل ہے۔ وہ ایک بہت باکمال فنکار ہیں، جنھیں 2012ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔