• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وادیٔ اوطاس کے پہاڑوں میں چُھپے تیر انداز، مجاہدین کے تازہ حملوں کی تاب نہ لاکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مشرک قبائل کی مشترکہ فوج کا سپہ سالارِ اعظم، مالک بن عوف اپنے قریبی رفقاء کے ساتھ میدانِ جنگ سے فرار ہو کر طائف میں قلعہ بند ہو چُکا تھا، جب کہ وادی میں لگائے گئے مشرکین کے خیموں میں اُن کی عورتیں، بچّے اور مال مویشی موجود تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا حکم تھا کہ اُنھیں کوئی زک نہ پہنچائی جائے، بلکہ مالک بن عوف لڑائیوں کے دَوران عورتوں اور بچّوں کے ساتھ مسلمانوں کے حُسنِ سلوک سے اچھی طرح واقف تھا، چناں چہ اُس کی جنگی حکمتِ عملی یہ تھی کہ اُنھیں ڈھال بنا کر مکّہ تک پہنچا جائے،لیکن اب وہ سب مسلمانوں کی قید میں تھیں۔ 

بنو ہوازن اور بنو ثقیف کے قبائل کی اِن قیدی عورتوں میں ایک بوڑھی خاتون بھی تھیں۔ مجاہدین کا ایک دستہ جب اُنہیں گرفتار کرنے پہنچا، تو اُنہوں نے ایک ایسی بات کہی، جسے سُن کر وہ حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ بوڑھی خاتون نے مجاہدین کے تجسّس بَھرے چہروں پر نظر ڈالی اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی بات دُہرائی’’ مَیں تمہارے سپہ سالار اور اللہ کے نبیؐ کی بہن ہوں۔‘‘ مجاہدین کا یہ دستہ قریش کے نو مسلم نوجوانوں اور مدینے کے انصار پر مشتمل تھا۔ سب نے غیر یقینی انداز میں ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر دستے کے کمانڈر نے بڑی بی کو آنحضرتؐ کی خدمتِ اقدس میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

قیدی شیماء بار گاہِ رسالتؐ میں

اللہ کے رسولؐ جنگ کے اگلے مرحلے، یعنی طائف سے متعلق حکمتِ عملی کے بارے میں اپنے رفقاء سے مصروفِ گفتگو تھے کہ ایک صحابیؓ خیمے میں داخل ہوئے اور عرض کیا’’ یا رسول اللہ ؐ ! جنگی قیدیوں میں موجود ایک بوڑھی عورت آپﷺ کی بہن ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔‘‘چوں کہ حضورﷺ کا کوئی بھائی تھا اور نہ ہی بہن، اِس لیے سب حیران تھے کہ یہ کون عورت ہے، جو بہن ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے؟ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا’’ اس خاتون کو اندر لایا جائے۔‘‘ خاتون خیمے میں داخل ہوئیں۔ آنحضرت ؐ کی جانب محبّت بَھرے انداز میں دیکھتے ہوئے پُرجوش لہجے میں بولیں’’اے اللہ کے رسولؐ ! مَیں تمہاری بہن ،شیماء بنتِ حارث ہوں‘‘۔ آنحضرتؐ نے ماضی کی یادیں ٹٹولتے ہوئے فرمایا’’ ہاں بنی سعد میں میری ایک بہن کا نام شیماء تھا۔‘‘

اِس پر وہ جلدی سے بولیں’’ یارسول اللہؐ ایک مرتبہ جب ہم لوگ امّاں حلیمہ سعدیہؓ کے گھر کھیل رہے تھے، تو آپؐ نے میری پِیٹھ پر کاٹ لیا تھا، جس کا نشان آج بھی موجود ہے۔‘‘ شیماءؓ کے یہ جملے ادا کرتے ہی سرکارِ دو عالمؐ کو امّاں حلیمہؓ کے گھر گزرے بچپن کے واقعات یاد آگئے۔ یہ وہی بہن شیماءؓ تھیں، جو آنحضرتؐ کو ہر وقت گود میں لیے پِھرتی تھیں۔ اُن کی سُنائی ہوئی لوریاں، پیار و محبّت کی باتیں حضورؐ کے ذہن میں محفوظ تھیں۔ سامنے کھڑی شیماءؓ کے ایک ہی جملے نے بچپن کے گزرے دنوں کی خوش گوار یادیں تازہ کر دیں۔

قبیلہ بنی سعد کی یادیں

مکّے کے کالے سنگلاخ پہاڑوں کے عقب میں 50میل مشرق کی جانب ،زرخیز باغات، سرسبز و شاداب پہاڑوں کے درمیان شفّاف چشموں کی گنگناتی، لہلہاتی، بَل کھاتی آب شاروں سے مزیّن ایک حَسین وادی، طائف کے نام سے معروف ہے۔ یہاں اور اس کے اطراف عرب کے دو قبائل آباد تھے، ایک بنو ثقیف اور دوسرا بنو ہوازن۔ یہ دونوں قبائل نہایت طاقت وَر، بہادر اور جنگ جُو تھے۔ ان قبائل کی ایک خاص بات اُن کا فصاحت و بلاغت میں دیگر قبائل سے ممتاز ہونا بھی تھا۔

یہ لوگ نہ صرف خالص عربی زبان بولتے، بلکہ الفاظ کے تلفّظ، ادائی اور اندازِ بیان کی حفاظت بھی کرتے تھے۔ چناں چہ ،شہر کے رؤساء اور شرفا اپنے نومولود بچّوں کو ان قبائل کی عورتوں کے حوالے کر دیا کرتے تاکہ رضاعت کے دنوں میں بچّے کُھلی آب و ہوا اور خالص ماحول میں بہترین جسمانی تربیت کے ساتھ، فصیح و بلیغ عربی زبان بھی سیکھ لیں۔ جیسا کہ خود آنحضرتﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ’’ مَیں تم سب میں فصیح تر ہوں، کیوں کہ مَیں قریش کے خاندان سے ہوں اور میری زبان بنی سعد بن بکر کی زبان ہے، جو عرب کے فصحاء مشہور تھے۔‘‘ بنی سعد، قبیلہ ہوازن کی ایک شاخ ہے۔ (طبقات ابنِ سعد 119/1)۔

نام، حسب نسب، قبولِ اسلام

آنحضرتؐ نے اپنی رضاعت کے 5 سال بنی سعد میں امّاں حلیمہ سعدیہؓ کے گھر گزارے۔ جہاں حضورؐ کے چار، بہن بھائی موجود تھے، جن کے نام عبداللہ، انیہ، حذیقہ اور حذافہ(شیماء) تھے۔ حذافہ، جو تاریخ میں شیماء کے نام سے مشہور ہیں، رسول اللہ ؐ سے 7یا 8سال بڑی تھیں۔ شیماء عربی میں بلند مرتبے والی کو کہتے ہیں۔ شیماء کے والد کا نام حارثؓ بن عبدالعزیٰ بن رفاعۃ السعدیۃ اور والدہ کا نام حلیمہؓ بنتِ ابی زؤیب السعدیۃ ہے۔اماں حلیمہؓ کے صاحب زادے عبداللہؓ، آنحضرت سے چند ماہ بڑے تھے۔ عبداللہؓ اور حضرت شیماءؓ نے آنحضرتؐ کے قیامِ مکّہ کے دَوران خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا۔

شیماء کی آنحضرتؐ سے محبّت و انسیت

رسول اللہ ﷺ کے اپنے تو کوئی بھائی، بہن نہیں تھے۔ امّاں حلیمہؓ کے بچّے ہی اُن کے رضاعی بھائی، بہن تھے۔بچپن کے نہایت قیمتی اور اَن مول سال آپؐ نے ان بچّوں ہی کے ساتھ گزارے۔ جہاں حضرت شیماءؓ نے اپنی محبّتوں کے تمام پھول اپنے رضاعی بھائی پر نچھاور کر دیے۔ علّامہ حافظ ابنِ حجرؒ اپنی مشہور تصنیف’’ الاصابۃ‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ شیماء، آنحضرتؐ کو ہر وقت گود میں لیے رہتیں اور لوریاں دے کر سُلاتیں۔اُس لوری کا ترجمہ یوں ہے’’ اے ہمارے ربّ، ہمارے لیے (حضرت) محمّد (ﷺ) کو باقی رکھنا تاکہ مَیں اُنہیں بھرپور جوان ہوتا دیکھ سکوں۔ پھر مَیں اُنہیں سردار کے رُوپ میں دیکھوں اور (اے اللہ) ان کے دشمنوں اور حاسدوں کو ذلیل و رسوا کرنا، جب کہ انہیں دائمی عزّت عطا فرمانا۔‘‘

بادل کا سایہ فگن رہنا

حضرت شیماء ؓشدید گرمیوں کی ایک دوپہر آنحضرتؐ کو باہر لے گئیں۔ امّاں حلیمہؓ کو فکر لاحق ہوئی، تو وہ اُنہیں تلاش کرنے باہر نکلیں۔ کیا دیکھتی ہیں کہ شیماءؓ، آپؐ کو گود میں لیے یہ اشعار پڑھ رہی ہیں (ترجمہ)’’یہ میرے وہ بھائی ہیں، جو میری ماں سے پیدا نہیں ہوئے اور یہ میرے والد اور چچا کی نسل سے بھی نہیں ہیں، لیکن مَیں اِن پر اپنے معزّز ماموں اور چچا فدا کرتی ہوں۔ اے اللہ! اِن کی بہتر پرورش فرما‘‘۔امّاں حلیمہ ؓنے فرمایا’’ اے شیماءؓ! اِنہیں اِتنی شدید گرمی میں لے کر کہاں آگئی ہو؟‘‘ عرض کیا’’ امّاں جان! اِنھیں گرمی نہیں لگ رہی، کیوں کہ دھوپ سے حفاظت کے لیے اِن پر ایک بادل سایۂ فگن رہتا ہے۔ جب یہ چلتے ہیں، تو وہ بادل بھی چل پڑتا ہے اور جب یہ رُک جاتے ہیں، تو بادل بھی رُک جاتا ہے۔‘‘ (سیرۃ حلیبہ جلد اول، صفحہ 150)

شقِ صدر، یہودیوں کی آمد

حضرت شیماءؓ کہتی ہیں کہ’’ ایک دوپہر ہم بچّے گھر سے ذرا دُور وادی میں کھیل رہے تھے کہ اچانک دو نورانی صُورت اور لمبی داڑھیوں والے لوگ آئے، جو سفید لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے میرے بھائی(حضرت) محمّد(ﷺ) کو پکڑ کر زمین پر لِٹایا اور سینے پر چُھری پھیر دی۔ یہ ہول ناک منظر دیکھ کر ہم سب بچّے چیختے چلّاتے گھر کی طرف بھاگے اور امّاں، ابّا کو بتایا کہ کسی نے بھائی کو (نعوذ باللہ) قتل کر دیا ہے۔وہ دوڑتے ہوئے اُس جگہ پہنچے، تو دیکھا کہ آپؐ بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن چہرۂ مبارک کا رنگ اُڑا ہوا ہے۔

اِسی طرح ایک دن دو یہودی راہب ہمارے گائوں آئے اور ہمارے بھائی، حضرت محمّدﷺ کے بارے میں پوچھتے پوچھتے ہمارے گھر تک پہنچ گئے۔ اُنہوں نے بھائی کو دیکھا، تو بولے’’ کیا یہ بچّہ یتیم ہے؟‘‘ امّاں حلیمہؓ کو اُن کے اِس طرح پوچھنے پر کچھ شک سا گزرا، بولیں’’ نہیں۔ مَیں اِس بچّے کی ماں اور یہ ساتھ مَیں اِن کے والد حارث ہیں۔‘‘ یہودیوں نے کہا،’’ اگر یہ بچّہ یتیم ہوتا، تو ہم اسے قتل کر ڈالتے۔‘‘ اس واقعے کے بعد امّاں بہت ڈر گئی تھیں، چناں چہ وہ حضور ﷺ کو واپس اُن کی والدہ کے پاس چھوڑ آئیں۔‘‘

آنحضرتؐ کے پاس آمد

وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے۔ حضرت شیماء ؓ کی شادی بنو ثقیف میں ہو گئی تھی۔جب آنحضرتؐ کی بعثت کی اطلاع بنو سعد پہنچی، تو امّاں حلیمہؓ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ وہ اپنے شوہر حارث اور دو بچّوں عبداللہ اور شیماء کے ساتھ مکّے کے سفر پر روانہ ہوگئیں۔ آنحضرتؐ، اب اُمّ المومنین، حضرت خدیجۃ الکبریؓ کے گھر منتقل ہوگئے تھے۔ 

حارث نے جب لوگوں سے آنحضرتؐ کے قیام کے بارے میں معلوم کیا، تو اہلِ قریش کو معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہؐ کے رضاعی والد ہیں، اِس پر اُنہوں نے حضورؐ کی شکایت کرتے ہوئے کہا’’ اے حارث! تمہارا بیٹا ہمارے خدائوں کو بُرا کہتا ہے اور ایک اللہ کی پرستش کی بات کرتا ہے۔ اس نے ہم میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔‘‘ حارث ،بیوی بچّوں کے ساتھ بارگاہِ رسالتؐ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا’’ اے میرے بیٹے! آپؐ کی قوم جو شکوہ کر رہی ہے، کیا وہ سچ ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا’’ نہ صرف سچ ہے، بلکہ روزِ قیامت آپ خود اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیں گے۔‘‘ حارث تو آئے ہی اسلام قبول کرنے کے لیے تھے، چناں چہ پورا خاندان مشرف بہ اسلام ہو گیا۔

تحائف کے ساتھ بہن کی رخصتی

حضرت حلیمہؓ تو مکّے اور مدینے میں ایک دو بار آنحضرتؐ کی خدمت میں آئیں، لیکن پھر شیماءؓ سے آپؐ کی کوئی ملاقات نہ ہو سکی۔ اب اِتنے عرصے بعد بہن کو قیدی کی حیثیت سے اپنے سامنے دیکھا، تو فرطِ محبّت سے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بہن کے استقبال کے لیے اُٹھے، اپنی چادر زمین پر بچھائی اور اُنھیں اپنے پاس بِٹھا لیا۔ صحابۂ کرامؓ کے لیے بہن، بھائی کی محبّت کا یہ منظر نہایت حیران کُن تھا۔ دونوں دیر تک بچپن کی یادیں تازہ کرتے رہے۔ 

پھر آپؐ نے بہت سا مال، چند اونٹ اور دیگر مویشی عنایت فرماتے ہوئے پیش کش کی کہ اگر وہ چاہیں، تو مدینے ہی میں رہیں، لیکن اُنہوں نے اپنے گھر جانے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر اُنھیں نہایت عزّت و احترام کے ساتھ چند محافظوں کے ساتھ اُن کے گھر روانہ کر دیا گیا۔ بنی سعد کے لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے حضرت شیماءؓ کو ایک مکحول نامی غلام اور ایک لونڈی بھی دی تھی۔ حضرت شیماءؓ نے اُن دونوں کی آپس میں شادی کروادی تھی، جن کی نسل آج بھی باقی ہے۔ (سیرت ابنِ ہشام166,167/3) بعدازاں، آنحضرت ﷺنے غزوۂ حنین کے دَوران گرفتار کیے گئے بنو ہوازن کے تمام چھے ہزار قیدی رہا فرما دیے اور اُن کا مال وغیرہ بھی واپس کر دیا۔

سنڈے میگزین سے مزید