• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’اکانومک بوم‘‘ نے دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا

کورونا وبا سے پہلے دنیا میں ڈیجیٹل انقلاب، معیشت میں تیزی اور موسمیاتی تبدیلی کا چرچا تھا۔ نیز، چین کا عالمی طاقت بن کر اُبھرنا بھی اُن دنوں کا ایک اہم موضوع تھا۔ اِس پیش رفت کے سبب دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا منظر نامہ، پس منظر میں جارہا تھا اور ساتھ ہی مغرب کا تخلیق کردہ عالمی معاشی نظام بھی۔ یعنی ایک نئی دنیا جنم لے رہی تھی، تاہم اُس کے قواعد و ضوابط اُس وقت بھی واضح نہیں تھے اور اب بھی دھندلے ہیں۔ کورونا کے طویل دَور نے اس عالمی تبدیلی کو نہ صرف تیز کردیا، بلکہ دیگر تبدیلیاں بھی یقینی بنا دیں۔

اس دَوران کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی، جو زیادہ تر ریلیف پیکیجز کی شکل میں تھی، جب کہ مُلکی معیشتوں کو بھی سہارا دیا گیا۔ اس سرمائے کے مارکیٹ میں آنے سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی، تو دوسری جانب، ایک نئی معاشرتی تبدیلی بھی جنم لینے لگی، جسے’’ ورک فرام ہوم‘‘ کا نام دیا گیا، تاہم اس تبدیلی کا نتیجہ دفاتر جانے سے ہچکچاہٹ کی صُورت نکلا۔خیال تھا کہ عالمی وبا کے جاتے جاتے گھروں پر رہ کر کام کرنے کی عادت کم ہوتی جائے گی اور آفس ورک کی اہمیت دوبارہ اُسی طرح مستحکم ہوجائے گی، جیسے کہ ہمیشہ سے تھی، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔جس طرح ورک فرام ہوم نے معیشتوں کو تیزی اور ترقّی دی، اس نے مُلکوں اور کمرشل اداروں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا آئندہ اقتصادی معاملات اِسی طرح چلانے چاہئیں یا چلائے جاسکتے ہیں؟

یہ بات عام طور پر اُن مُمالک میں دیکھی گئی کہ جہاں امیر ترین افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اِسی طرح کمپنیز کا منافع بھی کئی گُنا بڑھ گیا۔تو پھر کیا یہی وہ راستہ ہوگا، جس پر دنیا آگے بڑھے گی؟ اس کے اصول کیا ہوں گے؟ اِن دنوں اِس پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ اِس ضمن میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر یہ وبا ختم کب ہوگی؟ کیوں کہ ایک کے بعد دوسری قسم سامنے آرہی ہے اور ایک مُلک کے بعد دوسرے مُلک کو لاک ڈائون اور پابندیوں میں جانا پڑ رہا ہے۔دنیا بھر میں تین ارب افراد ویکسین لگوا چُکے ہیں، جس کے ساتھ ہی پوسٹ کووِڈ دَور کے آثار نمایاں ہوتے جارہے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔

کورونا وبا نے پہلے ہی حملے میں عالمی معیشت کو ہلا ڈالا، جس پر اکثر ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید یہ اب تک کی سب سے سنگین کساد بازاری ہوگی اور اِس وبا سے وہ معاشی تباہی آئے گی، جس پر شاید ہی کوئی قابو پاسکے، لیکن ترقّی یافتہ معیشتیں، عالمی مالیاتی اور اقتصادی ادارے اِس تباہی کے لیے بہت سی پیش بندیاں کرچُکے تھے، کیوں کہ اُنھوں نے صرف چار سال قبل ہی عالمی اقتصادی بحران کے خلاف کام یابی حاصل کی تھی۔ کھربوں ڈالرز کے پیکیجز اکانومی مارکیٹ میں داخل کردیے گئے، جس نے فوری طور پر طوفانی تباہی کو روک دیا۔اب اٹھارہ ماہ بعد اعتماد بحال ہو رہا ہے اور معیشتیں اِتنی تیزی سے ترقّی کر رہی ہیں کہ شاید ایسی ترقّی صرف 2006 ء میں دیکھی گئی تھی۔

گویا ایک’’ اکانومک بوم‘‘ ہے، جس نے دنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے اور یہ تمام ممالک کے لیے خوش خبری ہے۔ایک عرصے بعد تیل کی قیمتیں چڑھ رہی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشی عمل تیز ہو رہا ہے۔برآمدات بڑھ رہی ہیں، مال بِک رہا ہے اور لوگ چیزیں خرید رہے ہیں۔ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کئی ماہ بند رہنے کے بعد کُھلے، تو اُنھیں کام میں تیزی کے سبب پہلے سے زیادہ ملازمین کی ضرورت پڑی۔ چھوٹی، بڑی کمپنیز کا اندازہ ہے کہ اُنھیں اِس سال ریکارڈ منافع ہوگا، جس کے نتائج سال کے وسط تک آچُکے ہیں۔اسٹاک مارکیٹس نے اِتنی تیزی شاید ہی پہلے کبھی دیکھی ہو۔ماہرین کے مطابق، یہ غیر متوقّع معاشی کام یابی یقیناً سب کے لیے خوشی کا باعث ہے، خاص طور پر وہ معاشی مینیجرز مبارک باد کے مستحق ہیں، جنہوں نے اِتنے بڑے بحران اور آزمائش کو مواقع میں بدل دیا۔ 

تاہم، تیز رفتار اقتصادی کام یابی کے ساتھ یہ چیلنج بھی نمایاں ہے کہ کیا اِس غیرمعمولی کام یابی کو مستحکم اور پائیدار بنایا جاسکے گا؟ بلاشبہ، امریکا اور چین اِس معاشی کام یابی کی قیادت کر رہے ہیں۔ اِسی لیے اُن کی کوشش ہے کہ کسی تنازعے یا جنگ میں الجھ کر اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ افغانستان سے امریکی انخلا کو اِس پس منظر میں بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔جوبائیڈن معاشی کام یابی پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں، اِسی لیے وہ افغانستان سے پسپائی پر اُٹھنے والی آوازوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔

چین کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ دنیا پُرامن رہے، کیوں کہ اسی صُورت وہ اپنی اقتصادی برتری قائم رکھ سکے گا۔ اگر کسی کا خیال ہے کہ وہ چین کو پوسٹ کورونا دَور میں کسی تنازعے میں الجھا سکے گا، تو یہ اُس کی خام خیالی اور چینی ویژن سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ اِس وقت بہتی گنگا سے زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کی دوڑ جاری ہے۔ البتہ، اُن ممالک کے معیشت دانوں کو یہ باتیں کم ہی سمجھ میں آئیں گی، جو یہ مقابلہ باہر بیٹھے بطور تماشائی دیکھ رہے ہیں۔ اِسی قسم کا اکانومک بوم رواں صدی کے پہلے سات برسوں میں بھی دیکھا گیا تھا۔ 

اُس وقت برازیل سے ساؤتھ افریقا تک، سب نے اس سے فوائد سمیٹے اور دنیا میں ابھرتی معیشتوں کی ایک نئی قسم کا اضافہ ہوا۔یہی وہ دَور تھا، جسے’’ چائنا رائز‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی دَور میں بھارت ایک بڑی اقتصادی طاقت بن کر ابھرا، تو بنگلا دیش نے بھی کام یابیاں حاصل کیں۔ صرف پندرہ سال بعد معاشی تاریخ خود کو دُہرا کر دنیا کو اس دوڑ میں شامل ہونے کے مواقع مہیا کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کھرب پتی بنتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس ترقّی کو پائیدار بنانے میں ویکسین کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہوگا۔ مستقبل میں دنیا دو حصّوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ایک طرف وہ ممالک ہوں گے، جو ویکسین کے ذریعے کورونا سے نجات پا چُکے ہوں گے اور دوسری طرف، ویکسین کے ناکافی استعمال کے سبب خطرات میں گِھرے ممالک ہوں گے۔ چھوٹے اور غریب ممالک میں ایک طرف تو ویکسینز نہیں مل رہیں اور دوسری طرف، وہاں افواہوں کے کارخانے بھی پوری طرح کام کر رہے ہیں، جن کے سبب عوام ویکسینز لگوانے پر تیار نہیں۔

اُنھیں یہ بتانا ضروری ہے کہ ویکسین نہ صرف اُن کی زندگی کے لیے اہم ہے، بلکہ مستقبل کی معیشت بھی اِس کے بغیر نہیں چل پائے گی۔ انہی ویکسینز کی بنیاد پر فیکٹریز، دُکانیں، بازار اور ائیرپورٹ کُھلیں گے۔اِس کے بغیر سیّاحت ہوگی نہ ہی کوئی دنیا میں اِدھر اُدھر آجا سکے گا۔ایک اہم مسئلہ سپلائی اور ڈیماند کا بھی ہے۔ سامان کی ترسیل پر اُٹھنے والے اخراجات، وہ جہازوں سے ہو یا سڑک کے ذریعے،بہت بڑھ گئے ہیں۔پھر یہ کہ امدادی پیکیجز نے بھی لیبر کی کمی پیدا کردی ہے کہ جب لوگوں کو گھر بیٹھے پیسا مل رہا ہو، تو کما کر کیوں کھائیں؟ نیز، سروس سیکٹر میں تن خواہوں میں اضافہ کمپنیز کو پسند نہیں کہ اِس سے اُن کے منافعے پر اثر پڑے گا۔دوسری طرف، رئیل اسٹیٹ، خاص طور پر مکانات کی کرایوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے ملازمت پیشہ افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیوں کہ اُن کی تن خواہیں، منہگائی کی نسبت نہیں بڑھ رہیں۔

اِن حالات میں افراطِ زر میں نہ صرف اضافہ ہوگا، بلکہ ایک عرصے تک یہ لہر برقرار رہے گی۔ بڑے ممالک کو یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ وہ اُن ریلیف پیکیجز کو کیسے ختم کریں، جس کے لوگ ایک سال سے زاید عرصے سے عادی ہوچُکے ہیں۔ جنھیں گھر بیٹھے اصل تن خواہ سے بھی زیادہ رقم مل رہی ہو، وہ اس سے کیسے دست بردار ہو سکتے ہیں؟ یورپ، برطانیہ اور امریکا اب عوام کو معمول کے کاموں پر واپس لانے کی طرف راغب کر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ اُن کو دئیے جانے والے ریلیف پیکیجز کم کر رہے ہیں۔امریکا نے صرف جون کے مہینے میں ایک ملین کے قریب نئی اسامیاں پیدا کیں، جن میں سے ابھی تک بارہ فی صد بھی پُر نہیں کی جاسکیں، کیوں کہ ریلیف پیکیجز کی وجہ سے عوام ملازمتوں میں دل چسپی نہیں لے رہے۔ 

ملازمین کام پر واپس آنے کو تیار نہیں، حالاں کہ اُن کی تن خواہوں میں آٹھ فی صد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ ہم نجی شعبے کی بات کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آسٹریلیا جیسے مُلک میں بھی، جہاں عوام کو کچھ زیادہ ریلیف نہیں دیا گیا تھا، لیبر کام پر آنے سے ہچکچا رہی ہے۔ترقّی پذیر ممالک کو اس صُورتِ حال سے فائدہ ہوسکتا ہے کہ اُن کے مال کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ان کے یہاں ویکسین کی کمی بڑا مسئلہ ہے۔

کورونا وبا کی ایک کے بعد دوسری لہر آرہی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا نہیں ہو رہا۔ مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ایک، دو کے علاوہ بیش تر غریب ممالک کی معیشت سُست رفتاری کا شکار رہے گی۔ایسا گزشتہ برسوں میں تیسری بار ہوگا، جو یقیناً ان ممالک کے لیے کسی المیے سے کم نہیں۔ماہرین نے ریلیف پیکیجز کو اُس وقت بھی ریاست کی دخل اندازی قرار دیا تھا، بلکہ کچھ کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ یہ پیکیجز ریاستوں کی جانب سے عوام پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے منصوبے کا حصّہ ہیں، لیکن اب اُنہی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

ایک اندازے کے مطابق ان پیکیجز کے ذریعے دس کھرب ڈالرز سے زاید رقم مارکیٹ کا حصّہ بنی۔اس سے ایک جانب قیمتوں میں اضافے کا رجحان پیدا ہوا، تو دوسری طرف افراطِ زر کے امکانات بڑھ گئے۔لہٰذا، جب تک یہ رقم کسی مناسب طریقۂ کار سے معیشتوں کا باقاعدہ حصّہ نہیں بنتی، اُس وقت تک افراطِ زر کا مسئلہ عوام کے سروں پر تلوار بن کر لٹکتا رہے گا۔ عالمی وبا کی وجہ سے یہ امکان نظر آرہا تھا کہ کچھ برسوں تک تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہے گا، جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے ریلیف تھا، کیوں کہ ہمارے امپورٹ بِل کا زیادہ حصّہ تیل ہی سے تعلق رکھتا ہے، جو پہلے چڑھی ہوئی قیمتوں میں بارہ ارب ڈالرز سے تجاوز کر جاتا تھا، لیکن کم قیمتوں نے اسے سات ارب ڈالر کر کے پانچ ارب ڈالر کی بچت فراہم کی۔

اب اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو بِل بھی دوبارہ بڑھ جائے گا۔ دراصل، معیشتوں میں سُست رفتاری کی وجہ سے تیل کی کھپت میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی، جس سے اس کی قیمتیں کم ہوئیں، لیکن اب جو معاشی تیزی دیکھنے میں آرہی ہے، اس سے تیل کی طلب میں اضافہ ہوگا۔تیل پیدا کرنے والے ممالک نے گزشتہ پانچ برسوں میں بدترین مندی دیکھی، اب وہ اِس تیزی سے اپنے پچھلے نقصان کا ازالہ کرنا چاہیں گے۔البتہ، اِس موقعے پر کون کس مُلک کو کتنی رعایت دے سکے گا، یہ دیکھنے کی بات ہوگی، لیکن یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یہ ایک خالص اقتصادی معاملہ ہے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت سے براہ ِراست جڑا ہوا ہے۔اس میں دوستی اور رشتوں کی بات کرکے معاملات طے کرنا بہت مشکل ہوں گے۔

عالمی وبا کے اثرات سے نمٹنے کے ضمن میں دو طرح کی حکمتِ عملی سامنے آئی ہے، جو جی۔7 ممالک کے برطانیہ میں ہونے والے اجلاس میں تیار کی گئی۔ایک تو یہ کہ مختلف ممالک کو اربوں کی تعداد میں ویکسینز مفت فراہم کی جائیں تاکہ وہ جلد ازجلد اِس وبا سے جان چھڑا سکیں۔ نیز، اُنھیں امداد کی شکل میں سرمایہ بھی فراہم کیا جائے، جو اُن کی معیشتوں کے ہونے والے نقصانات کا فوری ازالہ کرسکے۔اِس معاملے میں چین کا کردار پہلے ہی قابلِ ستائش ہے کہ اُس نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے مختلف ممالک کی ترقّی میں حصّہ لیا۔ پاکستان سی پیک سے استفادہ کرتے ہوئے ترقّی کی راہ پر گام زن ہے۔

اسی طرح اب مغربی ممالک بھی’’بِلڈ بیک بیٹر فار دی ورلڈ‘‘ کے عنوان سے ایک عالمی منصوبے کے ذریعے امداد فراہم کرنے جا رہے ہیں، جس سے انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے پر توجّہ دی جائے گی، لیکن اِس میں اہم کردار خود اُن ممالک کا ہوگا، جو اِن منصوبوں کو زمین فراہم کر رہے ہیں۔اگر اُنہوں نے یہ مواقع سیاسی نعروں کے طور پر استعمال کیے یا بیرونی سرمائے کو مالِ مفت سمجھ کر اُڑایا، تو وہاں کے عوام خالی ہاتھ ہی رہیں گے،لیکن اگر پوری سنجیدگی سے مُلکی حالات میں بہتری لائی گئی، تو ترقّی کے امکانات بہت وسیع ہیں۔ اِس ضمن میں تعلیم اور ٹیکنالوجی کی تربیت پر توجّہ مرکوز رکھنا ہوگی کہ یہی جدید ترقّی کے’’ کی ورڈز‘‘ ہیں ۔