• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوبل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ لڑکیوں کی تعلیم کیلئے پُرعزم

لندن (شہزاد علی) نوبل انعام یافتہ پاکستانی اوریجن ایجوکیشنل کمپینر ملالہ یوسف زئی نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں 130ملین سے زیادہ لڑکیاں اسکول کی تعلیم سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان لڑکیوں کے تعلیمی مستقبل کے لئے لڑنا چاہیے ، بی بی سی کے مطابق ایجوکیشن کیمپین نے لندن میں منعقدہ عالمی تعلیمی اجلاس کو بتایا ہے کہ کورونا وبائی بیماری سے صحت یاب ہونے کا مطلب تعلیم تک منصفانہ رسائی ہونا ہے۔ کمپینرز غریب ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کی معاونت کے لئے 3 اعشاریہ 6 بلین پونڈ کی رقم اکٹھی کرنا چاہتے ہیں۔ دی گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن سمٹ برطانیہ اور کینیا کے زیر اہتمام اگلے پانچ سال کے لئے فنڈ اکٹھا کرے گا ، اس سے 88 ملین اسکولوں کی جگہیں پیدا ہوں گی اور 175 ملین بچوں کی تعلیم میں مدد ملے گی۔ کورونا وبائی بیماری نے غریب ممالک میں اسکولوں کو درپیش مشکلات کو بڑھاوا دیا ہے۔ متنبہ کیا گیا ہے کہ جن بچوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولوں سے گھر بھیج دیا گیا تھا وہ کبھی شاید واپس اسکول نہیں جا سکتے جب تک کہ امیر ممالک مدد نہ کریں۔ برطانیہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 430 ملین پاؤنڈ کی رقوم مہیا کرے گا دیگر ڈونرز 2 اعشاریہ 9 بلین کے لگ بھگ عطیات کا وعدہ کر رہے ہیں۔ جولیا گیلارڈ، سابق آسٹریلیائی وزیر اعظم اور عالمی پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی چیئر جو ڈونر ممالک کی مالی اعانت تقسیم کرتی ہیں، کو یقین ہے کہ 5 بلین ڈالر کی رقم اکٹھی کی جائے گی لیکن مختلف قومی بجٹ کے سائکلز کا مطلب ہے کہ یہ رقم مراحل میں ملے گی، انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری نے تمام ممالک میں تعلیم کو درہم برہم کردیا ہے لیکن اسکولوں کو بند کرنے کا اثر غریب ممالک میں زیادہ پڑا ہے جہاں بہت سے خاندانوں کو گھروں میں انٹرنیٹ کنیکشن یا بجلی تک رسائی حاصل نہیں تھی۔پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ، جنہوں نے خواتین کی تعلیم کے لئے مہم چلائی ہے، نے لندن میں ہونے والے اجلاس میں تعلیم میں سرمایہ کاری کی اہمیت کے بارے میں بتایا خاص طور پر ان لڑکیوں کے لئے ، جنھیں مواقع نہیں مل رہے ہیں ، صرف ان کی صنف کی وجہ سے۔ بی بی سی کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سارے بچے خاص طور پر لڑکیاں کورونا پینڈیمک سے پہلے ہی اسکول سے باہر تھیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس فنڈ میں مدد فراہم کریں۔ تاہم مسٹر جانسن کو برطانیہ کے بیرون ملک امداد کے بجٹ میں کمی کرنے پر اپنے ہی کچھ ممبران پارلیمنٹ سمیت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آکسفیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر گیبریلا بُچر نے ایسی دنیا کی ترجیحات پر سوال اٹھایا جس میں ارب پتی نجی خلائی راکٹ لانچ کرنے کا مقابلہ کرسکتے ہیں جبکہ لاکھوں بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے ڈرامائی انداز سے امداد میں کٹوتی کرنے کے منفی اثرات سے بھی خبردار کیا۔ امدادی خیراتی ادارے کی سربراہ نے کہا کہ اس سے خاص طور سے لڑکیوں کے کلاس روم میں قدم رکھنے سے پہلے کم صحت مند اور کم محفوظ رہ جائے گی۔ اس پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے ، برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب نے ترقی کے انجن کے طور پر لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کی اہمیت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ بہتر تعلیم یافتہ ماؤں کے ساتھ ان کے کنبہ کی صحت بہتر ہوگی۔ انہوں نے سمٹ کو بتایا کہ لڑکیوں کے لئے تعلیم سب سے بڑا گیم چینجر ہے۔ کینیا کے کابینہ کے سکریٹری برائے امور خارجہ رچیل اوامو نے وبائی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹ کے بارے میں متنبہ کیا لیکن کہا کہ تعلیم ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

یورپ سے سے مزید