• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا افغانستان سے عجلت میں نہیں نکلا، ڈاکٹر اسفندیار میر


کراچی (ٹی وی رپورٹ) اسٹینڈفورڈ یونیورسٹی امریکہ کے ڈاکٹر اسفندیارمیر نے جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکا افغانستان سے عجلت میں نہیں نکلا ہے، امریکا گزشتہ چند برسوں سے دہشتگردی کیخلاف جنگ سے پیچھے ہٹنا چاہ رہا تھا۔

امریکا کی نیشنل سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نائن الیون کی جنگوں کو ناکامی سمجھتی ہے، امریکا نے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے بھی اپنی پالیسی میں یہ تبدیلی کی ہے۔

امریکا اور چین کا مقابلہ جنوبی ایشیا یا وسطی ایشیا میں نہیں بلکہ ایسٹ ایشیا پیسیفک اوشین ہے، امریکا کو انڈیا کی صورت میں چین کی مخالف ایک بڑی طاقت مل گئی ہے،امریکا چین سے مقابلہ کیلئے ملٹری ماڈرنائزیشن کی طرف بھی جارہا ہے۔ 

ڈاکٹر اسفند یار میر کا کہنا تھا کہ امریکا چین کے بی آر آئی پراجیکٹ سے خوش نہیں ہے، چین پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے تو امریکی ناراض نہیں ہوتے، امریکا کو پاکستان میں بی آر آئی کے منصوبے ملٹرائز ہونے کے خدشات ہیں، پاکستان نے امریکا کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستان میں چین کے منصوبوں کو ملٹرائز کرنے کی نیت نہیں ہے۔

پاکستان میں چینی ملٹری سہولتیں کھلتی ہیں تو معاملہ گرم ہوسکتا ہے، امریکا کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز کیلئے پاکستان میں اڈوں کی خواہش رکھتا ہے۔ ڈاکٹر اسفندیار میر نے کہا کہ ویتنام کے مقابلہ میں افغانستان میں امریکا کا جانی نقصان کم ہوا ہے۔

افغانستان میں دو ڈھائی ہزار جبکہ ویتنام میں پچاس ہزار فوجی مارے گئے تھے،امریکا میں افغانستان کی شکست کی بڑی وجہ پاکستان کو سمجھا جاتا ہے، القاعدہ دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیل گئی ہے، امریکا میں کاؤنٹر ٹیررازم پر کام کرنے والے اب بھی القاعدہ کو خطرہ سمجھتے ہیں، امریکا کو پاکستان میں فضائی اسپیس کی سہولت ابھی بھی دستیاب ہے۔ 

ڈاکٹراسفندیار میر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ کے 500کے قریب لوگ موجود ہیں، القاعدہ کی صومالیہ اور مغربی افریقہ میں تنظیم بہت مضبوط ہے، یمن کی سول وار میں القاعدہ کو نقصان ہوا لیکن ابھی بھی وہاں موجود ہے، القاعدہ کو سب سے زیادہ نقصان عراق اور شام میں ہوا ہے۔

عراق میں القاعدہ کی تنظیم داعش بن گئی ہے جبکہ شام میں بھی ان کی تنظیم ان کے ہاتھ سے نکل گئی،پچھلے ایک دو سال میں داعش کو عراق اور شام میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، افغانستان میں بھی داعش کو طالبان، امریکا اور افغان فورسز نے مارا ہے، پاکستان کے پشاور ویلی کے علاقوں میں بھی داعش کی موجودگی پائی جاتی ہے۔ 

ڈاکٹر اسفند یار میر نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا ہمیشہ سے ایک تعلق رہا ہے، نیک محمد کو شاید ملا عمر کی طرف سے ہدایت دی گئی تھی کہ وزیرستان جاکر مہاجرین کو ریسیو کریں، افغان طالبان نے نہ صرف ٹی ٹی پی کی تشکیل میں کردار ادا کیا بلکہ مختلف مواقع پر افغان طالبان لیڈرز ٹی ٹی پی کو پولیٹیکل ڈائریکشن دینے کی کوشش کرتے رہے، ٹی ٹی پی کے سینئر لیڈرز حکیم اللّٰہ محسود اور ولی الرحمٰن محسود کے ساتھ تعلق میں سراج الدین حقانی کا نام بار بار آتا ہے، افغان طالبان کی شیڈو گورنمنٹ کے ساتھ ٹی ٹی پی کے قریبی تعلق کے شواہد ملتے ہیں، ٹی ٹی پی پر افغان طالبان اور القاعدہ کا زیادہ اثر و رسو خ ہے۔ 

ڈاکٹر اسفند یار میر کا کہنا تھا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کیخلاف ملٹری ایکشن نہیں کریں گے، افغان طالبان پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مذاکرات کروانے کی کوشش کریں گے، پچھلے کچھ مہینوں سے ایسے مذاکرات کی کچھ خبریں بھی آئی ہیں۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ افغانستان سے بغیر کسی ڈیل کے نکلنے کے چکر میں تھے، امریکی صدر بائیڈن دس سال سے سمجھتے ہیں کہ افغانستان غیرضروری جنگ ہے، افغانستان میں ہمارا اسٹیٹ بلڈنگ کا مشن مس گائیڈڈ ہے ہمیں دہشتگردوں کو مارنے کے علاوہ وہاں کچھ نہیں کرناچاہئے۔ 

ڈاکٹر اسفند یار میر کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل پر بزور طاقت قبضہ کیا تو اس کا صدر بائیڈن کو امریکا کے اندر بڑا نقصان ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید