• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سفری معمولات بحال نہیں ہوسکے،شعبہ ہوابازی کو ناقابل تلافی نقصان

راچڈیل(نمائندہ جنگ)عالمی وباء کورونا وائرس نے جہاں شعبہ ہوا بازی کو بحران کے دوران ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اوربرطانیہ سمیت دنیا بھر کی معیشت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا وہیں کامیاب ویکسی نیشن مہم اور مثبت اثرات سامنے آنے کے باوجود سفری معمولات کورونا بحران سے پہلے کی سطح پر نہ آ سکے۔ برطانیہ نے بین الاقوامی سفر شروع کرنے کیلئے تیسرے قومی لاک ڈائون کا خاتمہ کر نے کے بعد مختلف قواعدو ضوابط متعارف کرا رکھے ہیں ٹریفک لائٹ سسٹم کے تحت تین مختلف کیٹگری میں تقسیم کر کے دنیا کے مختلف ممالک کو درجہ جات دیے گئے ہیں جس کے مطابق ریڈ لسٹ میں ایسے ممالک رکھے گئے ہیں جہاں کورونا کا انفیکشن بہت زیادہ ہے ایسے ممالک سے واپس آ نے والے مسافروں کو دس یوم تک منظور شدہ ہوٹلوں میں قرنطین کرنے کا پابندرکھا گیا ہے امبر لسٹ والے مسافر دس یوم تک گھروں میں جبکہ گرین لسٹ والے ممالک کے لوگوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے مگر موجودہ حالات میں عوام کی تین چوتھائی شرح یہ ماننے پر مجبور ہے کہ ہمیں مستقبل میں بھی کورونا کیساتھ جینا ہے غیر ملکی سفر کو کنٹرول کرنے والے غیر معمولی بدلتے ہوئے قواعد غیرموثر ہونے کے باوجود ایک اور سطح پر پہنچ گئے ہیںوہ ممالک جن میں سفر کی اجازت ہے انہیں بھی امبر واچ لسٹ میں رکھا جا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ بغیر کسی نوٹس کسی بھی وقت ریڈ لسٹ میں انہیں شامل کیا جا سکتا ہے برطانوی حکام کی طر ف سے کورونا ویکسین کی دو خوارکیں لینے والے امبر مسافروں کو قرنطین کی پابندی سے آزاد کرنے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم مسافروں ذہنی دبائو کا شکار ہیں اور اس بارے میں تشویش میں مبتلا کہ چھٹیوں کے دوران گرین یا امبر ممالک کو کسی بھی وقت انفیکشن کی شرح کے اتار چڑھائو کے باعث ریڈ لسٹ میں شامل کر کے ان کیلئے سنگین مشکلات پیدا کر دی جائیں گی۔ ایک تجویز کے مطابق جب مسافرکسی بھی ملک کا سفر کرتے ہیں تو ان کی اس دوران جو حیثیت رکھی جاتی ہے مسافرکی واپسی کے وقت بھی وہ کیفیت لاگو رہنی چاہیے۔
یورپ سے سے مزید