• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زمانہ قدیم میں جاسوسی کرنے کے حوالے سے کوئی واضح تفصیل نہیں ملتی۔ قصہ کہانیوں میں البتہ بھیس بدل کر جانے کوئی کارروائی کرنے کے قصے، جادوئی کہانیاں دستیاب ہیں۔ تاہم اٹھارہ سو قبل مسیح مصر کے بادشاہ ہمورابی کے دربار میں باقاعدہ جاسوس اہلکاروں کا تقرر کرنے اور انہیں سرکاری ملازمین کی سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے کچھ تفصیلات ملتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم میں بھی جاسوسی کے فن یا فرض نبھانے کی اہمیت تھی۔ 

بعدازاں چین کے فوجی کمانڈر سن وو نے پانچ سو قبل مسیح میں کتاب ’’جنگ کا فن‘‘ کے عنوان سے تحریر کی تھی۔ اس کتاب میں سن وو نے جنگی حکمت عملی کے مختلف طریقوں کا ذکر کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ دشمن کے بارے میں پوشیدہ یا خفیہ معلومات حاصل کرنے کے حوالے سے چند نکات بیان کئے ہیں۔ سن وو کہتا ہے پہلے اپنے بارے میں جانو ، پھر دشمن کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔ اپنے جاسوس دشمن کی صفوں میں داخل کرو، غلط معلومات پھیلائو تاکہ تمہارا دشمن تذبذب کا شکار رہے۔ سن وو نے دہرے ایجنٹ کا بھی تصور پیش کیا ہے۔

چار سو قبل مسیح میں بھارت کا معروف فلسفی چانکیہ یاکوٹیلہ نے بھی واضح طور پر جنگ اور امن کے ادوار، جنگی حکمت عملی کے بارے میں بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ چانکیہ جاسوسی کو خفیہ معلومات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ وہ عوام کو پرامن رکھنے کے حوالے سے بھی بعض طریقہ کار وضع کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ جنگ کے زمانے سے زیادہ امن کا دور اہم ہے، کیونکہ امن کے دور میں جنگی تیاریاں کی جاتی ہیں، حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔ چانکیہ کہتا ہے دشمن کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کے بعد جنگ جیتنا آسان ہوجاتا ہے۔ دشمن کو میدان میں ہرانا آسان ہوتا ہے۔ چانکیہ کے نزدیک جنگ جیتنے کے لئے ہر حربہ آزمانا جائز ہے۔

یونان اور روم کی سلطنتوں میں بھی جاسوسی کا سراغ ملتا ہے۔ خاص طور پر جولیس سیزر کے دور میں جاسوسوں کا جال اتنا وسیع ہوچکا تھا کہ نہ صرف وسطی ایشیا، بحیرہ روم کی ریاستیں بلکہ افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ جولیس سیزر کو ہر جگہ کی خبریں اور پوشیدہ معلومات حاصل ہوجاتی تھیں۔ اور جولیس سیزر نے جرات، چالاکی، حکمت عملی سے رومن سلطنت کو دور تک پھیلا دیا تھا۔ یونانی اور رومی درباروں میں خواتین جاسوسوں کو باقاعدہ تربیت کے بعد مشن پر روانہ کیا جاتا تھا۔ 

اس دور میں جاسوس پکڑا جائے تو اس کی سزا صرف موت تھی۔ شاہی حکومتوں میں بادشاہ کا حکم چلتا تھا اور ذرا سے شبہ میں مرد ہو یا عورت موت اس کا مقدر ہوتی تھی۔ قدیم دور سے دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے جاسوسوں کو زہر کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔ جاسوس اپنی سرگرمیوں کے دوران ضرورت پڑنے پر حریف کو کسی طرح زہر دے دیتے تھے، خنجر، تیر کمان بھی زہر میں بجھے دوران جاسوسی یا دوران جنگ استعمال کئے جاتے تھے۔

نویں صدی میں بغداد میں مسلم خلفاء کے دور میں ہر مشن کے لئے الگ جاسوس کام کرتا تھا۔ اس سے قبل عرب کفوجی اپنے پیشہ میں یکتا سمجھے جاتے اور انہوں نے کھوج کے فن کو بہت ترقی دی تھی جس سے مسلمانوں کو دشمن کا کھوج لگانے میں آسانی تھی مگر خلفہ مامون رشید نے اپنے دربار میں ماہرین نجوم اور علم جفر کے ماہروں کو بھی ملازم رکھا ہوا تھا۔ اس دور میں علم نجوم بہت مقبول تھا اور نجومی ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ ہندوستان میں بھی یہی سب کچھ تھا۔ 

 جاسوسی کرنے، خفیہ معلومات کے حصول اور دشمن کی فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے جاسوسی کا مکمل نظام موجود تھا۔ اس دور میں ان جاسوسو ںکو ’’فرعون کی آنکھ‘‘ کہا جاتا تھا۔ پرانے وقتوں میں زیادہ تر جاسوس راہبوں، تاجروں اور عالموں کے بھیس میں ہوتے تھے۔ بعض جاسوس ماہر قاضیہ شناس، ماہر علم نجوم کے بھیس میں حریف ملک کے دربار تک رسائی حاصل کرتے تھے۔ پندرہویں صدی کے بعد سے جاسوسی کے پیشہ کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا اور جاسوسوں کو درباروں میں سرکاری ملازمتوں پر فائز کیا جانے لگا۔

ماضی کے جاسوسوں کی دنیا
چنگیز خان

منگولوں کے دور میں ان کے قبیلوں میں بھی جاسوسی کا اپنا نظام رائج تھا۔ منگول اپنے اطراف کے علاقوں کے زیرک افراد کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملاتے تھے اور ان کو جاسوس کے مشن پر روانہ کرتے تھے۔ چنگیز خان، ہلاکو خان اور قبلائی خان کے ادوار میں منگولوں کے کرایہ کے جاسوس مصر، عراق، ایران اور وسطی ایشیا و بحیرہ روم کی ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ اس بنیاد پر بھی منگولوں نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں تھیں۔ خاص طور پر وہ شب خوں مارنے میں یکتا تھے اور ہر مہم میں سو فیصد کامیاب رہتے تھے۔

جاپان میں اس دور کے جاگیردار طبقے نے جاپان میں بہت منظم گروہ کو جاسوسی کی تربیت دلواکر باقاعدہ اکیڈمی قائم کرلی تھی۔ جاپان میں جاسوسوں کو شنوبی کہا جاتا تھا۔ جاسوسی کے لئے ایسے افراد کو تربیت دی جاتی تھی جو پہلے کسی جرم میں سزا بھگت چکے ہوں۔ جاسوس کی صلاحیت کا معیار یہ تھا کہ وہ سفید جھوٹ بولنے کا ماہر ہو، نوسرباز ہو، چالاکی اور عیاری میں بھی قابلیت رکھتا ہو اس کو تربیت کے بعد جاپان میں یا غیرممالک میں جاسوسی کے لئے تعینات کیا جاتا تھا۔ جاپان میں شہنشاہ کے اطراف رہنے والے بااثر بڑے بڑے جاگیردار ایک دوسرے کی خبر رکھنے کے لئے جاسوس رکھتے تھے۔ 

چونکہ جاپان میں اس دور میں واضح جاگیرداری نظام رائج تھا اور مستحکم شہنشاہیت قائم تھی ایسے میں جاگیرداروں کی آپس میں مسابقت بہت زیادہ تھی اس مسابقت اور مخاصمت کی وجہ سے وہ خفیہ طور پر جاسوسوں سے رابطہ رکھتے اور انہیں ٹاسک دیا جاتا تھا۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں جاپان میں عام افراد بھی شنوبی اور ننجا اکیڈمی کی خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں جان گئے تھے اور یہ جاپانی معاشرہ میں ایک موضوع بن چکا تھا۔ مگر حکومت کے بدلنے کی کسی میں بھی جرات نہیں تھی۔ یوں بھی جاپانی معاشرہ مستحکم اور بہت روایت پسند واقع ہوا تھا اس لئے کسی ہلچل کا کوئی امکان نہ تھا۔ یوں بھی فوجی کمانڈر سن وو کی کتاب ’’جنگ کا فن‘‘ کے مطابق جاسوسوں کی تربیت کی جاتی تھی۔

ہر چند کہ چین میں بھی چینی کمانڈر سن وو کے ترتیب کردہ اصولوں کے مطابق جاسوسی کا اپنا طریقہ کار موجود تھا مگر چین کو بیرونی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ منگولوں کے دور میں چین پر بار بار حملے ہوتے تھے ایسے میں چین نے مشہور زمانہ دیوار چین تعمیر کی تھی۔ مگر حیرت انگیز بات یہ کہ اس کے باوجود بیرونی حملوں سے نجات نہیں ملی تھی۔ چینی قوم نے خود بھی ملک سے باہر نکل کر کسی ملک پر حملہ نہیں کیا تھا۔ مگر چین سترہویں صدی تا بیسویں صدی کے اوائل تک بیرونی حملوں کا نشانہ بنتا رہا۔ اس دور میں فرانس، برطانیہ اور جاپان نے چین کو زبردست نقصانات پہنچائے۔ جاپان نے پورے ملک پر قبضہ بھی کیا۔ اس طرح ہند چین خطے کے ممالک بھی یورپی نوآباد کاروں کے ہاتھوں زچ ہوتے۔ اسی دور میں جاپان بھی طاقت بن کر ابھر چکا تھا اور اس نے بحرالکاہل کے علاقوں اور چین سمیت فلپائن اور برما پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ روس کو پہلے شکست دی، پھر امریکہ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔

قرون وسطیٰ کے دور سے جاسوسی کے لئے، خفیہ پیغام رسانی کے لئے تربیت یافتہ کبوتروں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ کبوتروں کا خفیہ پیغام رسانی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ اس حساس مقصد کے لئے کبوتروں کو محفوظ ذریعہ خیال کیا جاتا تھا۔ ہر چند کہ کبوتر ایک چھوٹا نازک معصوم پرندہ ہے مگر اس کی یادداشت اور ذمہ داری کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ وسطی ایشیائی، جنوبی ایشیا اور بیش تر یورپی ممالک میں کبوتروں کو خصوصی طور پر پالا جاتا تھا اور انہیں ضروری تربیت کے بعد مشن پر روانہ کیا جاتا تھا۔ زیادہ تر کبوتر فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے تھے اور بعض حالات میں وہ شاہی دربار کے پرکارے کے طور پر بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ 

پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے دو سو سے زائد سپاہی گھنے جنگل میں دشمن کے علاقے میں محصور ہوگئے تھے ایسے میں برطانوی فوج کے میجر چارلس ڈیک نے ایک کبوتر کے ذریعہ فوری مدد درکار ہے کا پیغام ارسال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کبوتر حریف فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑ سے بے پروا مسلسل اڑتا ہوا منزل تک پہنچا اور پیغام پہنچا دیا۔ اس طرح اس فرض شناس کبوتر نے دو سو سے زائد فوجیوں کی جان بچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کبوتر کو اس کارنامے پر بہادری کا میڈل عطا کیا گیا تھا۔

انیسویں صدی تک مختلف ممالک میں جاسوسی کے باقاعدہ مختلف شعبے ترتیب دئیے جاچکے تھے۔ مثلاً جاسوسی سرگرمیاں، خفیہ معلومات کا حصول، جوابی جاسوسی، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، خفیہ آگہی وغیرہ۔ اس طرح فوجی معلومات، دشمن کی حکمت عملی سے آگہی، اس دور کی عملی تحقیق، معلومات کا حصول، اندرون ملک حالات کا جائزہ۔ اس نوعیت اور مقصد کے حصول کے لئے خصوصی سیل بنائے گئے تھے… مگر کبوتروں کو خفیہ پیغام رسائی دشمن کی جاسوسی کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ زیادہ مقبول تھا۔ ہر چند کے صدیوں سے کبوتر پیغام رسائی کے لئے استعمال ہوتے آئے تھے کبوتر اس دوران بہت مفید ثابت ہوتے تھے۔ جولیس سیزر اور چنگیز خان کے دور میں بھی کبوتروں کے ذریعہ خفیہ پیغام رسائی کا سلسلہ جاری تھا۔

ماضی کے جاسوسوں کی دنیا
جولیس سیزر

مگر جنگ عظیم اول میں امریکہ نے کبوتروں کا الگ شعبہ قائم کردیا تھا۔ ان کے لئے اونچی اونچی چھتریاں بنائی گئیں تھیں۔ اس شعبہ میں سیکڑوں کبوتر پلتے تھے جن کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی فوج میں سیکڑوں کبوتر کام کرتے رہے تھے۔ رات گئے سب اپنے اپنے ڈربوں میں پہنچ جاتے تھے۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی کے فوجی تحقیقی مرکز میں امریکی عسکری ماہرین نے شب و روز محنت سے ایک بہت چھوٹا اور ہلکا کیمرہ ایجاد کیا تھا۔ جس کو ماہرین کبوتر کی چھاتی کے ساتھ چپکا دیتے تھے جو ننھی سی بیٹری کے ذریعہ کام کرتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ طیاروں اور سیٹلائٹ سے اتنے صاف امیج حاصل نہیں ہوئے تھے جو اس کیمرہ کے ذریعہ حاصل ہوتے تھے۔ امریکی اور برطانوی جاسوس کبوتروں نے زبردست خدمات سر انجام دیں تھیں۔ یہ کبوتر کیمرہ سمیت دشمن کی صفوں اور ٹھکانوں پر سے پرواز کرتے ہوئے جو تصاویر لے کر آتے تھے وہ تصاویر قدرے بڑے سائز میں بنا کر فوجی مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی تھیں۔ اس طرح کبوتروں نے جاسوسی دنیا میں اپنا نام کیا اور بیش تر کبوتروں کو اعزازات سے نوازا بھی گیا۔ انیسویں صدی میں کبوتروں سے امریکہ یورپ میں عام پیغام رسائی، خفیہ پیغام رسائی کے لئے جزیروں، دیہاتوں اور ان شہروں میں جہاں ٹیلی گراف کی سہولت نہیں تھی کبوتر خدمات سرانجام دیتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک برطانیہ کے پاس دو لاکھ سے زیادہ پیغام رساں کبوتر موجود تھے…

ملکہ ایلزبتھ اول کے دور میں ان کے شاہی دربار میں معروف رمز نویس تھامس فلپ ملازم تھا جو خفیہ سر بہ مہر لفافوں کو سیل کھول کر پڑھنے اور پھر سیل اسی طرح موڑ کر لفافہ بند کرنے کا ماہر تھا۔ تحریر بدل بدل کر لکھنے میں بھی یکتا تھا۔ جعلی دستخط کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ملکہ ایلزبتھ کے دور میں برطانیہ کی جاسوسی کا جال دور تک پھیل چکا تھا۔ اٹھارہویں صدی تک جاسوسی کے نظام میں مختلف تبدیلیاں آچکی تھیں۔ نئے طریقے اور رنگ ڈھنگ رائج ہوئے۔ یہ جنگ کا دور تھا یورپی ممالک آپس میں جنگ و جدل میں مصروف تھے۔ مختلف محاذ گرم تھے۔

برطانیہ نے اپنے ہر غیرملکی سفارت خانے میں خصوصی مشن پر جاسوس مقرر کردئیے تھے۔ برطانیہ کے علاوہ فرانس میں بھی جاسوسوں کا نیٹ ورک کام کررہا تھے۔ برطانیہ کے علاوہ فرانس میں بھی جاسوسوں کا نیٹ ورک کام کررہا تھا۔ اس دور میں برطانیہ، فرانس، اسپین، ہالینڈ، پرتگال وغیرہ براعظم ایشیا، افریقہ اور اطراف میں تجارتی منڈیوں کی کھوج کرنے وہاں جگہ بنانے کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ زار روس کی فوجی کارروائیوں سے بھی یورپی ممالک پریشان تھے۔ زار روس دوسرے ممالک سے اس دور کے جدید صنعتی راز حاصل کرنے اور علمی سائنسی تحقیق کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا کیونکہ اس کے پاس دنیا کا رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک تھا۔ اس لئے روس کو اس دور کی جدید علمی، سائنسی معلومات اور ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات کی اشد ضرورت تھی اس حوالے سے روسی جاسوس برطانیہ، فرانس، امریکہ میں زیادہ سرگرم رہتے تھے۔

امریکہ میں مارج واشنگٹن نے اٹھارہویں صدی میں پہلی بار باقاعدہ ایک نظام ترتیب دیا تھا جس میں واضح طور پر داخلی اور خارجی خفیہ خبروں معلومات تک رسائی کے لئے خفیہ محکمہ قائم کیا جو سول اور ملٹری دونوں جانب خفیہ معلومات کے حصول کے لئے عمل پیرا ہوتا۔ اس حوالے سے پہلا امریکی جاسوس ناتھن ہیلے کو کہا جاتا ہے جو اسی دور میں میدان عمل میں اترا تھا۔ امریکہ اس دور میں اپنی سول وار میں الجھا ہوا تھا۔ بیرونی دنیا سے کم کم رابطے تھے۔ جوناتھن کے علاوہ، امریکہ میں خفیہ محکمے کے لئے جمیں آرمیڈس، بنجمن ٹالیج، کروس بائی اور لوٹس کوسٹیسن نے بطور جاسوس گراں قدر خدمات سرانجام دیں تھیں۔ 

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں امریکہ، یورپ، جاپان اور بعض دیگر ممالک میں جاسوسی کے نئے جال بچھ رہے تھے۔ جدید صنعتی ترقی کے راز، سائنسی علمی تحقیق کے راز، جوہری ہتھیاروں کے راز اور اس طرح دفاعی راز کے حصول کے لئے جاسوس سرگرم عمل تھے۔ اس دوڑ میں امریکی جاسوس ایڈرچ آڈمس کو بہت بڑا جاسوس تسلیم کیا جاتا ہے اس کے بیش تر کارنامے دنیا کے اہم رازوں میں شامل ہیں اور تاحال عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں جاسوسوں کی دنیا میں بہت زیادہ مشہور ہونے والی رقاصہ ماتا ہیری اصل میں جرمنی کے لئے جاسوسی کرتی تھی۔ فرانس میں ایک مشن کے دوران گرفتار ہوگئی۔ اس کی گرفتاری کو اس دور کے میڈیا نے خوب کوریج دیں۔ 

فرانسیسی عوام کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہوگئیں۔ بیش تر لوگوں کا خیال تھا ماتا ہیری بے قصور ہے۔ مگر اس کو عدالت نے موت کی سزا سنا دی۔ فرانسیسی خفیہ ایجنسی ماتا ہیری کی سزا کو اپنے لئے کارنامہ تصور کرتی ہے۔ ماتا ہیری کے علاوہ جاسوس جولیس، ایتھیل، کم فلپ، زوز نبرگ، اینی پلان اور بریان ریگن اپنے دور کے نہایت فعال اور خطرناک جاسوس کہلاتے ہیں۔ مگر ایڈرچ آڈمس کا نام سرفہرست آتا ہے۔ معروف مصنف تیحر نگار الفریڈ ہچکاک نے جاسوسی اور سسپنس تحریروں و فلم سازی میں بہت شہرت پائی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں سے جاسوسی اور سسپنس تحریریں دنیا بھر میں بے حد مقبول رہی ہیں۔ بیسویں صدی میں جاسوسی ناولوں کو جیسے سیلاب امڈ آیا تھا۔

اسی طرح جاسوسی کہانیوں فکشن پر بہت زیادہ فلمیں بنی اور مقبول ہوئیں۔ جاسوسی دنیا کے بعض فکشن کردار عوام میں بہت مقبول ہوئے۔ پہلی جاسوسی فلم ایک جرمن جاسوس کی کہانی پر مشتمل تھی۔ یہ فلم 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران ریلیز ہوئی تھی جس نے بہت بڑا بزنس کیا تھا۔ اس طرح امریکی جاسوس خاتون ایلین جس نے سوویت یونین کو جوہری راز چرا کر فراہم کئے تھے اور اس کو بھی موت کی سزا ہوئی تھی اس کی کہانی پر مبنی فلم نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی تھی۔ تاحال جاسوسی ناولوں، فلموں اور ٹی وی سیریل کا سلسلہ جاری ہے۔

قدیم جاسوسوں کی دنیا مہم جوئی، خطرات و دیگر مشکلات سے بھری پڑی تھی۔ محض شک کی بنیاد پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ مگر جدید دنیا کے جاسوسوں کی دنیا بھی ہرچند خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ مگر انہیں بہت سی جدید سہولیات اور قانون کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جاسوسی کو آج ایک تسلیم شدہ پیشہ تصور کیا جاتا ہے۔ جاسوس کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر جرم سنگین نہ ہوتو بہت کم سزا یا جرمانہ پر رہائی مل جاتی ہے۔ بصورت دیگر موت اس کا بھی مقدر ہے۔