• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی ماہرینِ تعمیرات اس بات پر متفق ہیں کہ آسمان سے باتیں کرتی بلند و بالا تعمیرات میں اگر ردھم نہ ہو تو کئی عمارتیں پایہ تکمیل کو پہنچنے سے قبل ہی زمین بوس ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مایہ ناز مفکرین نے بھی تعمیرات میں توازن، سمت اور تناسب پر زور دیا تھا۔ دائرہ، مثلث، مربع، مستطیل وغیرہ۔ 

جیومیٹری کی ایسی اشکال ہیں جو بظاہر تجدیدی دکھائی دیتی ہیں لیکن ان میں ریاضی کی موسیقی جسے موسیقار اپنے گانوں اور راگوں میں بھی استعمال کرتے ہیں، جیسا ربط اور ترتیب ہے۔ جس ردھم اور توازن پر چاند، تارے، زمین اور کائنات ایک دوسرے کے گرد گھوم رہے ہیں، ان میں اگر ایک مالیکول برابر بھی فرق آجائے تو کائنات درہم برہم ہو جائے۔ کیونکہ ریاضی میں بھی موسیقی کے سُر چھپے ہوتے ہیں، اس لیے بعض جمالیاتی تعمیراتی اسٹرکچر مثلاً سڈنی کا ’’اوپیرا ہاؤس‘‘ محو رقص نظر آتا ہے۔

اسٹرکچرل انجینئر کی اہمیت

ماہرین تعمیرات، تاریخ اقوام عالم میں لکھتے ہیں اور یہ ان کی متفقہ رائے ہے کہ اسٹرکچرل انجینئر جیومیٹری اور ریاضی کا شاعر ہوتا ہے۔ اسٹرکچرل انجینئرنگ، سول انجینئرنگ کا ایک شعبہ ہے۔ یہ ایسے ڈیزائن کا تجزیہ کرتا ہے جو وزن کی مزاحمت کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ وزن کو سپورٹ دیتا ہے۔ وزن اگر بے ربط ہو تو عمارت کا اسٹرکچر مزاحمت کرتا ہے اور اسٹرکچرل انجینئر اسے توازن میں لاتا ہے۔ 

ہرچند کہ اسٹرکچرل انجینئرنگ کو سول انجینئرنگ کا شعبہ مانا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی الگ حیثیت کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسٹرکچرل انجینئر زیادہ تر عمارتوں کے ڈیزائن کی تشکیل کرتے ہیں۔ وہ عمارتوں کے علاوہ بھی اسٹرکچرز بناتے ہیں مثلاً مشینری، میڈیکل ساز و سامان اور وہیکلز وغیرہ یا کوئی پراڈکٹ یا آئٹم جہاں اسٹرکچرل حیثیت خطرے میں ہو یا تحفظ کا مسئلہ پیدا ہو جائے، اس وقت صرف اسٹرکچرل انجینئر ہی تعین کر سکتا ہے کہ ڈیزائن کتنا پائیدار اور محفوظ ہے۔ 

مزید یہ کہ ڈیزائن کی مبادیات کیا ہیں۔ ان کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ عمارت کتنے عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہے تاکہ رہائش پذیر لوگوں کو اس بات کا یقین رہے کہ وہ مزید کتنا عرصہ اس عمارت میں رہائش اختیار کرسکتے ہیں۔

اسٹرکچرل انجینئر کا نظریہ

اسٹرکچرل انجینئرنگ کا نظریہ فزیکل لاء اور تجرباتی علم پر مبنی ہوتا ہے یعنی مختلف لینڈ اسکیپ اورمٹیریل کی کیا کارکردگی، کس نوعیت کی سروس اور کتنی پائیدار ہوتی ہے۔ اب تو دنیا میں ڈیجیٹل تعمیرات کا اجراء بھی ہو گیا ہے اور عجیب و غریب زاویئے والی تعمیرات ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ لیکن اس کے معنی ہر گز یہ نہیں کہ قدیم زمانے کے لوگ جو اپنی دانائی اور وژن سے تاج محل اور اہرام مصر جیسے عجوبات بنا چکے ہیں، بغیر تعلیم حاصل کیے بادشاہوں کے درباروں میں معماربنے بیٹھے ہوتے تھے۔ 

لوگ یہ نہ سمجھیں قدیم زمانے میں ہنرمندی کم تھی، اندازہ کیجیے ایسے مصور گزرے ہیں جو اجنتاکی غاروں میں رہ کر اندھیروں میں ایسی پینٹنگ کے شاہکار بنا چکے ہیں جسے دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے فن کار اور فن کے دلدادہ سیاحت کی غرض سے جاتے ہیں۔ اسٹرکچرل انجینئر بھی صرف عمارت کے ڈیزائن، ردھم، توازن، تناسب، سمت اور تحفظ کا ہی ضامن نہیں ہوتا بلکہ عمارت پر فنڈز کے استعمال کو بھی بڑی دانائی اور تخمینہ کاری سے استعمال کرتا ہے۔ مٹیریل استعمال کرنے کا اس کا اپنا ہی سلیقہ اور انوکھا طریقہ کار ہوتا ہے۔

گولڈن سِپائرل اور تعمیرات

جب یورپ میں تاریک دور کا خاتمہ ہوا تو جیومیٹری کی ایک قدیم مگر دانش پر مبنی نظری تجدید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کام ہوا، جسے گولڈن سپائرل کہتے ہیں۔ یہ کائنات کے اندر گھونگھوں، پھولوں، پنکھڑیوں، پتیوں، ریت، کہکشائوں سے لے کر موسیقی اور مصوروں کے رنگوں میں رقصاں نظر آتا ہے۔ یہ تعمیرات میںبھی ردھم اور تناسب کو قائم رکھتا ہے۔ عصرِ حاضر میں 3Dوغیرہ میں بھی اسی سے اخذ کردہ عجوبات نظر آتے ہیں۔ 

تاہم اس تناسب کو دو پر تقسیم نہیں کر سکتے۔ اس کی ریاضی میں عددی شکل 22/2کے تناسب کو ظاہر کرتی ہے۔ اس تناسب کا مؤجد ’فیبوناچی‘ ہے، اعداد کی جیومیٹری اسی کی دریافت ہے۔ بڑے آرکیٹیکٹس اور مصوروں نے اسی تناسب کو اپنی شاہکار پینٹنگ اور عمارتی ڈیزائن میں سمویا ہے، ان مصوروں میں رافیل، مائیکل اینجلو، لیوناردو داوینچی قابل ذکر ہیں۔ فیبوناچی کے اعداداسٹرکچرل انجینئرنگ کا مرکزی خیال ہیں۔

ماسٹر بلڈر

کسی بھی عمارت میں شہتیر (Beams)، ستون (Columns) یا پھر فرش بنانے سے مذکورہ معمار ابتدا کریں، جسے تکنیکی زبان میں انٹری لیول بھی کہتے ہیں۔ تجربہ کار انجینئرز اور آرکیٹیکٹس پورے تعمیراتی عمل کی ذمہ داری خود لیتے ہیں۔ تاریخ کا مشاہدہ کریں تو اسٹرکچرل انجینئرنگ فطری طور پر بعض انسانوں کے ذہن میں موجود تھی۔ یہ صنعتی انقلاب کے بعد زیادہ ہمہ گیر شعبہ ہو گیا، جب آرکیٹیکچر کا فن اُبھر کر سامنے آیا۔ 

قدیم زمانے میں یہ دونوں شعبے یکجائی کی صورت میں تھے، دونوں کی آمیزش کو ماسٹر بلڈرز کہتے تھے۔ جب اسٹرکچرل انجینئرنگ کا نظری ادراک کتابوں کی شکل میں آیا تو19 ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے آغاز میں پروفیشنل اسٹرکچرل انجینئر وجود میں آیا، تب آرکیٹیکچر کا شعبہ الگ ہو گیا۔ اسٹرکچرل انجینئرنگ کا آج جو کردار ہے اس میں اہمیت کے حامل Staticاور Dynamicلوڈنگ ہیں، جن کے اُردو زبان میں متبادل الفاظ نہیں ہیں۔

اسٹرکچرل انجینئرنگ کا تاریخی جائزہ 

اسٹرکچرل انجینئرنگ کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو 2700قبل از مسیح سے اس کا سلسلہ ملتا ہے جب اہرام مصر تعمیر ہوئے تھے۔ پہلے انجینئر کا نام اِمہوٹپ(Imhotep)تھا جس نے اہرام مصر تعمیر کیے۔ اہرام مصر مخروطی طرز تعمیر اور قدیم تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں جو آج بھی نہایت پائیدار اور مضبوط ہیں۔ 

دنیا بھر سے لوگ انہیں دیکھنے آتے ہیں۔ ان میں جسامت اور وزن کا انوکھا توازن ہے۔ ان کے وزن اور جسامت کو کم یا زیادہ نہیں کیا جا سکتا۔ ازمنہ وسطیٰ (پانچویں سے پندرہویں صدی عیسوی کا دور کہلاتا ہے) کی تاریخ میں زیادہ تر آرکیٹیکچرل ڈیزائن اور تعمیرات دستکاروں کی ہیں، جن میں راج مستری اور ترکھان بھی شامل تھے۔ 

ترکھان تو عظیم پینٹر پکاسو کی طرح کیوبک آرٹ کے نمونے، فرنیچر اور دیگر لکڑی کے اشکال آج بھی تخلیق کر رہے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں انہیں وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا جس کے وہ مستحق ہیں۔ معمار تو قبل از مسیح کے دور سے موجود تھے، تاہم اسٹرکچرل انجینئر کے پیشے کا آغاز صنعتی دور کے بعد ہوا۔ اس دور میں کنکریٹ کو از سر نو دریافت کیا گیا۔ صنعتی انقلاب سے اب تک اسٹرکچرل انجینئرنگ میں ترقی کا ارتقاء جاری و ساری ہے۔