• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا حکومت موجودہ چیئرمین نیب کو مزید کام کرنے دے گی؟

اسلام آباد (انصار عباسی) موجودہ چیئرمین نیب جاوید اقبال آئندہ ماہ کی 8؍ تاریخ کو اپنے عہدے کی چار سالہ ’’ناقابل توسیع‘‘ مدت مکمل کرلیں گے تاہم وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے در میان کوئی مشاورت عمل شروع ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ 

حکومت کی جانب سے بھی ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ وہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بدستور کام کرنے کی خواہاں ہے یا نیا چیئرمین نیب لایا جائے گا۔ 

سرکاری ذرائع کے مطابق، ممکن ہے کہ جس طرح موجودہ پراسیکوٹر جنرل نیب کو عہدے میں توسیع دی گئی ویسے ہی چیئرمی نیب کو عہدے میں ایک آرڈیننس کے ذریعے توسیع دی جائے یا پھر حکومت کے سامنے زیر التوا معاملے کی حیثیت سے موجود نیب کے رولز کے مسودے کی منظوری دیدی جائے تاکہ موجودہ چیئرمین نیب تاحکم ثانی کام کرتے رہیں۔ 

تاہم، ماہرین قانون کی رائے ہے کہ نیا چیئرمین نیب لانے کے کوئی جواز یا قانونی راستہ نہیں ہے یا پھر موجودہ چیئرمین نیب کو پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے عہدے میں توسیع دی جائے۔ 

رولز یا آرڈیننس پر انحصار کرنا بنیادی قانون سازی سے متصادم عمل ہے اور قانوناً یہ ایک تنازع پیدا کرے گا اور عدالت ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں اسے غیر قانونی بھی قرار دے سکتی ہے۔ چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ اور نئے سربراہ کی غیر موجودگی میں ادارے میں کام کاج ٹھپ ہو جائے گا۔ 

سینئر وکیل اور سابق ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب راجہ عامر کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی حکومت چیئرمین نیب کو آرڈیننس کے ذریعے کام کرنے دیتی ہے تو ایسی قانون سازی سپریم کورٹ کے چوہدری نثار بنام وفاق پاکستان کیس کے فیصلے کی روشنی میں عدالتی جائزے (اسکروٹنی) کا بوجھ برداشت نہیں کر پائے گی۔ 

عامر نے کہا کہ چیئرمین نیب کی غیر موجودگی سے بیورو کسی کو گرفتار کر پائے گا اور نہ کسی کیخلاف کوئی ریفرنس یا انوسٹی گیشن شروع کی جا سکے گی۔ 

ایک سرکاری ذریعے کے مطابق، اگر حکومت موجودہ چیئرمین کو مکمل مدت دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو اُسے ڈرافٹ رولز کا سہارا لینا ہوگا، یہ رولز منظوری کیلئے حکومت کے پاس گزشتہ سال سے منظوری کیلئے موجود ہیں۔ تاہم، کہا جاتا ہے کہ قانون سازی کے بغیر ایسے رولز تیار کرنے سے انہیں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور عدالتیں انہیں کالعدم قرار دے سکتی ہیں۔ 

سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد، نیب نے 2020ء میں ڈرافٹ رولز تیار کیے تھے جو نہ صرف سپریم کورٹ میں بلکہ حکومت کو بھی منظوری کیلئے پیش کیے گئے تھے جنہیں حکومت نے تاحال منظور نہیں کیا۔ 

ان رولز میں چیئرمین کو پہلے سے زیادہ طاقتور بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان رولز میں نیب چیف کی جانب سے مبینہ طور پر اختیارات کے غلط استعمال کے معاملے میں کوئی روک تھام یا ضابطہ نہیں ہے جس سے وہ اپنی مرضی سے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتے ہیں۔ 

نیب آرڈیننس 1999ء کے سیکشن 6(b) میں لکھا ہے کہ چیئرمین نیب کو صدر مملکت قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کے ساتھ ناقابل توسیع چار سال کیلئے تعینات کریں گے اور اس کیلئے شرائط و ضوابط صدر مملکت طے کریں گے۔

چیئرمین کو اُنہیں بنیادوں پر ہٹایا جا سکے گا جن بنیادوں پر سپریم کورٹ کے کسی جج کو ہٹایا جاتا ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو 8؍ اکتوبر 2017ء کو اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان مشاورت کے نتیجے میں مقرر کیا گیا تھا۔ 

عباسی اور شاہ دونوں کو ان کے رہنمائوں (نواز شریف اور آصف زرداری) نے کہا تھا کہ جاوید اقبال کے نام پر اتفاق کر لیا جائے۔ تاہم، آئندہ برسوں میں چاروں (عباسی، شاہ، نواز اور زرداری) کو نیب نے اِسہی چیئرمین کے احکامات پر گرفتار کیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید