• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریکِ پاکستان کے اوائل سے لے کر قیام ِپاکستان تک میدانِ سیاست میں خواتین کے سرگرم کردار کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بانیٔ پاکستان، قائد اعظم محمّد علی جناح نے نہ صرف اپنے متعدّد خطابات میں،خواتین کو عملی سیاست میں مَردوں کے کاندھے سے کاندھا ملاکر چلنے کی ترغیب دی، بلکہ محترمہ فاطمہ جناح کو قدم بہ قدم ساتھ رکھتے ہوئے خود اپنے عمل سے بھی ثابت کر دکھایا۔ تاریخِ انسانی بلکہ تاریخِ اسلامی بھی ایسی اَن گنت خواتین کے تذکروں سے بَھری پڑی ہے کہ جن کے قائدانہ کردار اور مدبّرانہ فیصلوں نے دنیا کا نقشہ ہی بدل کےرکھ دیا۔ 

بھلا اس حقیقت سے کون صرفِ نظر کرسکتا ہے کہ ’’ عورت نصف انسانیت ہے‘‘ اور نوعِ انسانی کے نصف کو کسی ایک بھی شعبہ ٔہائے زندگی سےمنہا یا محض نظر انداز بھی کرنے کی صُورت میں عدم مساوات یا عدم توازن پیدا ہونا یقینی ہے۔ قائدِ اعظم محمّد علی جناح نے1944ءمیں اپنے ایک خطاب میں فرمایا کہ’’ کوئی قوم اُس وقت تک بامِ عروج پر نہیں پہنچ سکتی ، جب تک اُس کی خواتین زندگی کی سرگرمیوں میں مَردوں کے ساتھ شریک نہ ہوں ۔‘‘

پھر قیامِ پاکستان کے فوری بعد اپنے ایک خطاب میں کہا’’ حصولِ پاکستان کی طویل جدّوجہد میں خواتین نے بڑی مضبوطی سے مَردوں کا ساتھ دیا، مگر اب ہمارےسامنے ایک اس سے بھی بڑی جدّوجہد تعمیر پاکستان ہے۔ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ دیجیے کہ پاکستانی خواتین اپنا فرض ادا نہیں کرسکیں‘‘۔ تو بلاشبہ تحریکِ پاکستان سے لے کر تعمیرِ پاکستان تک خواتین کو جب بھی کبھی، کہیں بھی آزمایا گیا، انہوں نے کسی کو یہ کہنے کا موقع نہیں دیا کہ’’، خواتین اپنا فرض ادا نہیں کرسکیں‘‘۔

ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے کہا تھا؎ مَیں سر افراز ہوں تاریخ کے کرداروں میں… مَیں رہی شعلہ نواشام کے درباروں میں… مَیں محبّت کی علامت، مَیں وفا کی تصویر… مَیں ہی چُنوائی گئی قصر کی دیواروں میں… صنفِ نازک ہوں، مگر گردشِ دوراں ہے گواہ… کاٹ مجھ سی نہیں ملتی، کہیں تلواروں میں… مجھ سے دنیا میں رفاقت کا چلن عام ہوا… نام آیا مِراایوبؑ کے غم خواروں میں… مَیں بندھے پَر سے بھی اُڑنے کا ہُنر جانتی ہوں…میری پرواز نظر آتی ہے،سیاروں میں… قدر یوسف ؑکی زمانے کو بتائی مَیں نے… تم تو بیچ آئے، اُسے قصر کے دیواروں میں۔تو ، مادرِ ملّت، محترمہ فاطمہ جناح، اُمّ الاحرار(بی امّاں)، مجاہدہ اعظم (امجدی بانو) ، لیڈی عبداللہ ہارون، بیگم غلام حُسین ہدایت اللہ ، لیڈی سر شفیع، بیگم تصدّق حُسین، بیگم جہاں آراء شاہنواز، گیتی آرا ، بیگم وقار النسا ءنون، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بیگم رعنا لیاقت علی خان سے لے کر بیگم نسیم ولی خان، بیگم نصرت بھٹو، ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ، آپا نثار فاطمہ، بیگم اشرف عباسی، ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو، بیگم تہمینہ دولتانہ، سیّدہ عابدہ حُسین، زرّیں مجید، عائشہ منوّر، فوزیہ وہاب، نسرین جلیل،ناہیدخان، غنویٰ بھٹو، بیگم کلثوم نواز شریف،سیّدہ شہلا رضا، شیری رحمٰن، شاذیہ مری، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، حنا ربّانی کھر، فہمیدہ مرزا، نفیسہ شاہ،خوش بخت شجاعت ، زبیدہ جلال،شیریں مزاری، اور مریم نواز شریف تک ملکی سیاست میں ایک متحرک، بھرپور کردار ادا کرنے، ہلچل مچانے والی خواتین کی ایک طویل فہرست ہے۔ 

خصوصاً محترمہ بے نظیر بھٹّو توایک ایسی تاریخ ساز خاتون ہیں کہ جنہوں نے پاکستانی سیاست کا دھارا ہی موڑ دیا۔ انہیں دنیا کی پہلی منتخب مسلمان خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور یہ اعزاز یوں ہی حاصل نہیں ہوگیا۔ ان کا پورا سیاسی کیرئیر ہی مصائب والم سے پُر، جہدِمسلسل سے عبارت رہا، حتیٰ کہ ایک سیاسی جلسے ہی کی قیادت کے دوران،دہشت گردی کا نشانہ بن کے جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔

پاکستان کے سفرِ آزادی کے ساتھ سرگرمِ عمل خواتین کے قدم بھی آگے اور آگے بڑھتے رہے۔ عمدہ قائدانہ صلاحیتوں، بہترین سیاسی بصیرت کی حامل متعدّد خواتین نے خار زارِ سیاست میں قدم رکھے اور اس شان اور سج دھج سے کہ بقول فیض ؎ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے… یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جان کی تو کوئی بات نہیں۔حالاں کہ یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ’’ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا‘‘، جب کہ عورت سے متعلق مختلف سماجی ونفسیاتی تجزیوں کا نچوڑ ہے کہ ’’ عورت مجسّم دل ہوتی ہے‘‘۔ 

بہرکیف، جس طرح کوئی شعبۂ حیات مستثنیات سے مبرّا نہیں، میدانِ سیاست میں بھی بھانت بھانت کی بولیوں، نت نئی بازی گریوں، ایک سے بڑھ کر ایک قصّے کہانیوں، رُوپ بہروپ اور بھیس سوانگ کا سرکس لگا ہی رہتا ہے۔ سچ کہیے تو یہ اونچ نیچ ،طلوع وغروب، نشیب وفراز اور عروج وزوال کا بڑا ہی دل چسپ وعجیب کھیل ہے، جسے کھیلنے والے انجام سے بخوبی واقف ہوتے ہوئے بھی کھیلے ہی چلے جاتے ہیں۔ اب کوئی پار لگے، نہ لگے، مگر پیچھے ثبت قدموں کے گہرے نشاں کوئی نہ کوئی داستاں ضرور رقم کرتے ہیں۔

ہمارا یہ سلسلہ ’’ اِن اینڈ آؤٹ‘‘ بالخصوص خارزار ِسیاست میں قدم رکھنے والی اور بالعموم کسی نہ کسی سیاسی حوالے سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والی خواتین ہی کے عروج وزوال کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ہمیں یقین ہے، وقتاً فوقتاً شایع ہونے والی ان کہانیوں سے جہاں آپ کو زندگی کے اُتار چڑھاؤ سمجھنے میں مدد ملے گی، وہیں شعبۂ سیاست میں خواتین کے مثبت ومنفی لیکن بہت اہم کردار کا جائزہ لینے کا بھی موقع ملے گا۔ وہ کیا ہے کہ ؎ مِرے عروج کی لکھی تھی داستاں جس میں… مِرے زوال کا قصّہ بھی اس کتاب میں تھا، تو سمجھیں، یہ اُسی کتاب کا ایک باب ہے۔ سلسلے سے متعلق ہمیں اپنی آرا سے آگاہ کرنا ہرگز مت بھولیے گا۔

نرجس ملک

(ایڈیٹر، سنڈے میگزین)

بیگم عشرت اشرف

قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر، چوہدری جعفر اقبال گجر کی اہلیہ اور زرعی ترقیاتی بینک کے چیئرمین ،ذکااشرف کی ہم شیرہ ،بیگم عشرت اشرف دو بار قومی اسمبلی کی رُکن رہی ہیں اور اس وقت بھی پنجاب سے صوبائی اسمبلی کی رُکن ہیں۔ گجر قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس سیاسی گھرانے کی مسلم لیگ (نون) سے وابستگی بہت پرانی ہے بلکہ اس گھرانے کی میاں نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ سے ذاتی سطح پروابستگی ہے، جو برسوں سےقائم ہے۔بیگم عشرت اشرف کے خاندان نے ہر آڑے وقت میں اپنے قائد اور جماعت کا ساتھ دیا اورسیاست میں وفاداری کا عہد نبھایا ، مگر یہ سب کچھ یک طرفہ نہیں تھا۔ 

ذکا اشرف زرعی ترقیاتی بینک کے چیئرمین بنے، پھر انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی بنایا گیا، حتیٰ کہ سندھ کے وزیرِاعلیٰ ، سید قائم علی شاہ کے مشیر بھی بنائے گئے۔ چوہدری جعفر اقبال گجر دو مرتبہ قومی اسمبلی کا الیکشن ہارے تو انہیں گجرات سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے کر رکنِ قومی اسمبلی اور پھر ڈپٹی اسپیکر بنوایا گیا۔ تاہم، چوہدری جعفر اقبال نے اس منصب کے تقاضے انتہائی احسن طریقے سے انجام دیئے اور یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کی عدم موجودگی میں انہوں نے نہایت شان دار طریقے سے ایوان کی کارروائی چلائی اور حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو ساتھ ساتھ لے کر چلے۔ بیگم عشرت اشرف کی ایک صاحب زادی ، زیب جعفر بھی رکن ِقومی اسمبلی رہیں اور اس وقت بھی پنجاب اسمبلی کی رکن ہیں، جب کہ ایک بیٹا، محمّد عُمر جعفر پنجاب اسمبلی کا رکن ہے اور یہ سب مناصب اور اعزاز اس گھرانے کو پاکستان مسلم لیگ (نون) کے پلیٹ فارم ہی سے حاصل ہوئے۔

سینئر پارٹی رہنمائوں کے بیچ میں
سینئر پارٹی رہنمائوں کے بیچ میں

بیگم عشرت اشرف کا تعلق جنوبی پنجاب کے آخری ضلعے، رحیم یار خان کے مضافاتی گائوں سے ہے۔ مسلم لیگ (نون) میں شامل ہونے کے بعد انہیں خواتین وِنگ کا انچارج بنایا گیا، تو بیگم عشرت اشرف اور ان کی صاحب زادی نے پوری لگن اور شبانہ روز جدّوجہد سے مسلم لیگ (نون) کے خواتین ونگ کو بے حد فعال کیا۔ پھر وقت نے کروٹ لی ، 80ء کی دَہائی سے عملی سیاست میں سرگرم ، چار دَہائیوں کے اثرات ظاہرہونے لگے،پیرانہ سالی آڑے آئی، توانہوں نے بھی وقت کی بے رحمی کو تسلیم کرلیا۔ 

ایک زمانہ تھا کہ مسلم لیگ (نون) میں بیگم عشرت اشرف کا طوطی بولتا تھا، وہ اپنی صاحب زادی زیب جعفر کے ساتھ مسلم لیگ (نون) کے ہر اجتماع ، جلوس میں پیش پیش رہتیں۔ صوبائی یا قومی اسمبلی کے ایوان ہوں یا دیگر سیاسی معاملات، انہیں جو ذمّے داریاں تفویض کی جاتیں، وہ ان کی ادائی میں پوری محنت اوردیانت داری کا مظاہرہ کرتیں۔ پھر یوں ہوا کہ ان کی جگہ بیگم طاہرہ اورنگزیب اور مریم اورنگزیب (موجودہ اراکینِ اسمبلی)اور نجمہ حمید نے لے لی، جو سینیٹر تھیں ۔بعد میں نجمہ حمید بھی علالت کے باعث سیاست سے تقریباً کنارہ کش ہوگئیں ۔ 

بیگم عشرت اشرف، کلثوم نواز اور مریم نواز کے ساتھ
بیگم عشرت اشرف، کلثوم نواز اور مریم نواز کے ساتھ

اب طاہرہ اورنگزیب (نجمہ حمید کی چھوٹی بہن) اور مریم اورنگزیب دونوں ماں، بیٹیوں نے سیاسی اور پارلیمانی محاذ سنبھالا ہوا ہے۔ بیگم عشرت اشرف اب پنجاب اسمبلی کے رُکن کی حیثیت سے اجلاسوں میں تو شرکت کرتی ہیں، لیکن اجلاس میں حاضری کی حد تک اور ان کی سیاسی مصروفیات صرف اسمبلی کے اجلاس میں خاموش شرکت کی حد تک ہی رہ گئی ہیں۔ طرزِزندگی میں نمایاں مشرقیت کی حامل، بیگم عشرت اشرف اپنے صنعتی اور زرعی اثاثہ جات کے ساتھ وسیع و عریض رہایشی جائیداد کی بھی وَراثتی مالک ہیں۔یہاں تک کہ الیکشن کمیشن میں خود ان کے اپنے ظاہر کردہ اثاثہ جات میں 100تولہ سونااورلندن میں ایک لگژری اپارٹمنٹ تک شامل ہے۔

فرزانہ راجا

فرزانہ راجاکا تعلق گوجر خان سے ہے۔انہوںنے ابتدائی تعلیم راول پنڈی سے حاصل کی ۔ سر نیم ’’راجا‘‘ہونے کے سبب اکثر لوگ انہیں سابق وزیراعظمِ راجا پرویز اشرف کی رشتے دار سمجھتے تھے، لیکن دونوں میںکوئی رشتے داری نہیں۔ البتہ، دونوں ہی سیاست دانوں کا تعلق گوجر خان سےاور سیاسی وابستگی پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ پیپلزپارٹی سے فرزانہ راجا کا تعلق اتنا شدید ، گہرا اوردیرینہ تھا کہ انہیں پارٹی میں’’جیالی‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس وقت واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ پارٹی کی ایک اہم شخصیت کے کہنے پر انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے انداز میں سر پر دوپٹا لینا شروع کیا اور انہی کے انداز میں گفتگو بھی کرنے لگیں۔ 

اسی اہم شخصیت کی نوازشات پر 2002ء کے عام انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر انہیں پیپلزپارٹی کا ٹکٹ دیا گیا اوریوں وہ پنجاب اسمبلی کی رُکن بن گئیں۔ نوازشات کا یہ تسلسل جاری رہا اور 2008ء کے انتخابات میں بھی وہ پارٹی ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشست پر قومی اسمبلی تک جا پہنچیں۔ یہی نہیں، انہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چیئرپرسن بھی بنا دیا گیا۔ 2012ء میں انہیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا اور اس طرح فرزانہ راجا بغیر کوئی الیکشن لڑے وفاقی وزیر بن گئیں ۔

واضح رہے، ان کا یہ منصب وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی کابینہ میں بھی برقرار رکھا گیا۔ فرزانہ راجا کی شادی سندھ کے وزیر پیر مظہرالحق کے بھائی پیرمکرم الحق سے ہوئی، مگرچل نہ سکی اور علیحدگی ہوگئی۔ یاد رہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو ایک فلاحی منصوبہ تھا، جس کے تحت مُلک کے 20 لاکھ سے زیادہ انتہائی غریب لوگوں کو ماہانہ ایک ہزار روپے کی مالی امداد دی جاتی تھی اور اس مقصد کے لیے متعدّد ممالک امداد بھی فراہم کیا کرتے تھے۔

آصف علی زرداری سے ہلالِ امتیاز لیتے ہوئے
آصف علی زرداری سے ہلالِ امتیاز لیتے ہوئے

اس سے متعلق بعد ازاں انکشاف ہواکہ اس امداد سے غربا کے بجائے سرکاری افسران اور ان کے ملازمین مستفید ہوتے رہے اورجب فنڈز میں غبن کی باقاعدہ تحقیقات شروع ہوئیں ،تو انکشاف ہوا کہ اس پروگرام میں فرزانہ راجا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مِل کر 54کروڑ روپےسے زائد کی رقم خوردبرد کی،جس کے بعد وہ مُلک سے فرار ہوگئیں۔ تاہم، اس سے قبل انہوں نے معروف عالمِ دین، علّامہ رشید ترابی کے صاحب زادے، ٹی وی اینکر ڈاکٹر عمّار ترابی سے خاموشی سے شادی بھی کرلی تھی۔بہر کیف، رقم کی خوردبرد کے الزام میں اُن پر مقدمہ درج کرلیا گیا اور اسی مقصد کے سلسلے میں نیب تا حال ان کی تلاش میں ہے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے دَورِحکومت ہی میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکا چلی گئی تھیں اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرنے کے تمام انتظامات کرلیے تھے،لہٰذاآج انتہائی آسودہ زندگی گزار رہی ہیں۔ نہ تو وہ اس کے بعد کبھی پاکستان آئیں، نہ ہی سوشل میڈیا پر ان کی کوئی سرگرمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے سیاست سے بھی قطعی طور پر لاتعلقی اختیار کرلی ہے اورپاکستان میں علانیہ طور پر کسی سے رابطے میں بھی نہیں ہیں ۔تاہم، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جب سے نیب نے ان کے گرد شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور امریکا میں بھی اپنے قونصل خانے کو اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، تب سے فرزانہ راجا بھی مزید محتاط ہوگئی ہیں ۔ 

یوسف رضا گیلانی کے ساتھ
 یوسف رضا گیلانی کے ساتھ

اس حوالے سےانہوں نے دفاعی سرگرمیاں بھی شروع کردی ہیں اور اس ضمن میں سوشل میڈیا پر بعض یو ٹیوبرز کی خدمات حاصل کرلی ہیں کہ وہ ان کو مظلوم اورہم دردی کی مستحق کے طور پر پیش کریں۔ تب ہی سوشل میڈیا پر فرزانہ راجا کو ’’مظلومیت اور معصومیت‘‘ کی تصویر بنا کر پیش بھی کیا جارہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ ان کے دوسرے شوہرسے بھی ان کی علیحدگی ہو گئی ہے۔ ایک طرف تو یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں مستحق لوگوں کو امداد تقسیم کرنے والی فرزانہ راجا اب خود سوشل سیکیوریٹی پر حکومتی امداد کے سہارے زندگی گزار رہی ہیں، تو دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں ایک جزوقتی معاہدے کے تحت زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہی ہیں ،حالاں کہ یہ امریکی حکومت کی پالیسی ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی سطح کی نوکری کررہا ہے ،تو وہ سوشل سیکیوریٹی لینے کا مجاز نہیں ۔ بہرحال، فرزانہ راجا کا اس اسکینڈل سے جس میں کروڑوں روپے کے خوردبرد کے شواہد موجود ہیں، بچنا مشکل ہی ہے ۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید