• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان حسین و دل کش فطری مناظر، منفرد سیّاحتی مقامات اورقدرتی ذخائر سے مالا مال خطّہ ہے، جہاں تاریخی عمارات، صنوبر کے قدیم جنگلات، قدرتی آب شاریں، بلند و بالا پہاڑ، سنگلاخ چٹانیں اور ہر اقسام کے خشک میوہ جات اور پھل پائے جاتے ہیں، تو وہیں یہ سرزمین دنیا کے سرد علاقوں سے نایاب اور ہجرت کرکے آنے والے پرندوں اور جانوروں کا بھی مسکن ہے۔ جنگلی حیات کسی بھی خطّے کا سرمایہ ہوتی ہے، جس کا تحفّظ سرکار سے لے کر افراد تک کی ذمّے داری ہے اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ جنگلی حیات صرف جنگلات تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے آس پاس، ہمارے ارد گرد بھی موجود ہے۔ مختلف جانور، پرندے ہمہ وقت ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں کہ انہیں بھی ہماری طرح زندہ رہنے کے لیے گھر اور کھانے پینے کی ضرورت ہے۔ 

زمین، آسمان اور سمندر میں موجود آبی حیات انسانی توجّہ کی متقاضی ہے اور انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ زمینی ماحول کو انسان دوست بنانے میں اس جنگلی حیات کا کردار بہت اہم ہے۔ مختلف النّوع جانور نہ صرف ماحول کو متوازن رکھتے ہیں، بلکہ قدرتی خُوب صُورتی کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ تاہم، موجودہ دَور میں انسان دانستہ یا نادانستہ طور پر جنگلی حیات پر بُری طرح اثر انداز ہورہا ہے، جس کی وجہ سے نایاب جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جارہی ہیں، حالاں کہ دنیا بھر میں نایاب پرندوں اور جانوروں کو بچانے کے لیے حتی الامکان اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ مگرہمارے یہاں سرکاری سطح پر جنگلی حیات کے تحفّظ کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں، خصوصاً بلوچستان میں۔ کیوں کہ جنگلی حیات کے اعتبار سے یہ ملک کا نہ صرف منفرد صوبہ ہے، بلکہ پورے ایشیا میں اہمیت کا بھی حامل ہے، جو جانوروں کی افزایش کی دو اہم پٹّیوں ’’پلارائک‘‘ اور ’’اورینٹل‘‘ کے درمیان واقع ہے۔

پاکستان میں 174 اقسام کے دودھ دینے والے جانوروں میں سے 94اقسام کےجانور صوبۂ بلوچستان میں پائے جاتے ہیں، جب کہ صوبے میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے نایاب پرندوں اور جانوروں میں آبی مرغابیاں، تلور، باز، جنگلی بکرے، اڑیال، چنکارا ہرن، سرخ، سیاہ خرگوش، خار پشت، ایرانی چوہے، بھیڑیے، گیدڑ، جنگلی بلّیاں، جنگلی خرگوش، مگرمچھ، کچھوے، صحرائی بکرے، گرگ، گورپٹ، لکڑبگڑ، لومڑیاں، کالے تیتر، چکور، سلیمانی مارخور، چلتن مارخور، ڈولفن، پرشین لیپرڈ، بلبل، سی سی اور گوگو سمیت مختلف اقسام کے کبوتر،مینا، ہدہد، بٹیر، فاختائیں، سانپ، مگرمچھ، زیتونی کچھوے، سمندری کچھوے، عقابوں میں گدھ، ایمپریل ایگل، گولڈن ایگل، سنہری عقاب، لوگھ عقاب، گدھوں میں گریفون، مصری گدھے، انڈین کوبرے، ضلع چاغی کے ایگما جی سوکس، رینگنے والے نایاب جانور، خاران کی صحرائی لومڑیاں، ہرن، نوشکی کی صحرائی بلّیاں، خضدار کے کالے ریچھ، مارخور اور چکور کے علاوہ دیگر بہت سے نایاب پرندے اور جانور شامل ہیں، جو بین الاقوامی اہمیت کے حامل ہیں۔ 

اسی طرح سائبیریا سے آنے والے مہمان پرندے بھی بلوچستان کو اپنا مسکن بناتے ہیں، جو ماہِ ستمبر میں روس اور یورپی ممالک سے یہاں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔یہ پرندے ہمارے ماحول کے لیے یوں سود مند ثابت ہوتے ہیں کہ یہ ماحول کے لیے غیر موزوں، نقصان دہ اور ناپسندیدہ کیڑے مکوڑے کھاجاتے ہیں۔ یہ ایسی مچھلیاں، پودے اور گھاس کھاتے ہیں، جن کا حد سے زیادہ بڑھنا ماحول کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔یعنی بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ہمارے ماحول کو متوازن رکھتے ہیں۔

ان پرندوں میں تلور، کونجیں، پیلی کان، شاہین، مرغابیاں، بطخیں اور دیگر پرندے شامل ہیں۔ یہ پرندےہزاروں میل کا سفر طے کرکے پاکستان کےمختلف علاقوں، بالخصوص صوبہ بلوچستان کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔ تاہم، ان کا بے دریغ شکارکیے جانےکے باعث اب زیادہ تر پرندے محض خوراک کے حصول ہی کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں، جب کہ کچھ پرندے سندھ اور پنجاب کا رُخ کرلیتے ہیں کہ جہاں پانچ چھے ماہ قیام کے بعد یہ مہمان پرندے مارچ کے وسط میں اپنے ممالک کی طرف واپسی کا سفر شروع کردیتے ہیں۔

محکمۂ جنگلی حیات نے ان نادر و نایاب پرندوں اور جانوروں کے تحفّظ اور دیکھ بھال کے لیےصوبے میں واقع تین پارکس,14 وائلڈ لائف ہیچریز،8گیم ریزروز،7کمیونٹی ریزروز، ایک کومینجمنٹ اور ایک میرین پروٹیکٹڈ ایریا میں خصوصی انتظامات کیے ہیں، جب کہ مکران کے ساحلی علاقے میں واقع 10ہزار مربع کلومیٹر پر محیط پاکستان کے دوسرے بڑے قومی پارک، ’’ہنگول نیشنل پارک‘‘ کو جنگلی حیات کے تحفّظ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ کراچی سے 190کلومیٹر کے فاصلے پر گوادر، لسبیلہ اور آواران کی ساحلی پٹّی پر واقع ہنگول پارک کو 1988ء میں قومی پارک کا درجہ دیا گیا۔ 

اس کا نام ’’دریائے ہنگول‘‘ کے نام پر رکھا گیا، جو بحیرئہ عرب کے ساحلوں کے ساتھ بہتا ہے اور بڑی تعداد میں آبی پرندوں اور سمندری حیات کا گھر ہے۔ ہنگول نیشنل پارک ریگستانی اور میدانی علاقوں پر مشتمل ہے، جو اسے پاکستان کے دیگر قومی پارکس سے منفرد بناتا ہے۔ پارک کی سرحد، جنوب میں واقع خلیج عمان اور بنجر پہاڑی سلسلے سے ہوتے ہوئے دریائے ہنگول سے جاملتی ہے۔ یہ علاقہ ہجرت کرنے والے ہزاروں پرندوں اور دلدل مگرمچھوں کی آماج گاہ ہے۔2004ء میں مکران کوسٹل ہائی وے کی تکمیل کے بعد سےیہاں کی انوکھی چٹانیں مُلک بھر سے آنے والے سیّاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ یاد رہے، پاکستان میں خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے لیے ہنگول نیشنل پارک ایک قدرتی پناہ گاہ ہے۔ 

یہ مختلف آبی اور رینگنے والے جانوروں کے علاوہ 30سے زائد ممالیہ سمیت سیکڑوں نایاب نسل کے پرندوں کا مسکن ہے۔ پارک سے متصل ساحلی پٹّی پر جا بہ جا مارشل مگرمچھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، یہاں دیگر آبی حیات کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، جن میں انڈو پیسیفک ڈولفنزاور سبز اور زیتونی کچھوے شامل ہیں۔ نیز،مچھلیوں اور کچھووں کی مختلف نایاب نسلیں پارک سے متصل ساحلی علاقوں میں بھی رکھی گئی ہیں۔ 

مادہ کچھوے اگست کے مہینے میں ساحلِ سمندر پر رات کو انڈے دیتے ہیں، لیکن کچھ عرصے سے ساحلوں پر پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے باعث مادہ کچھووں نے انڈے دینا خاصے کم کردیئے ہیں، جس کے باعث سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر ان کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ہزار گنجی، چلتن پارک،کوئٹہ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع 27 ہزار421ہیکٹر پر مشتمل ہے۔ یہاں کے چلتن مارخوراور چلتن وائلڈ گوٹ عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ 

محکمۂ جنگلات کے مطابق 1976ء میں صرف 168 چلتن وائلڈ گوٹ رہ گئے تھے اور خدشہ تھا کہ چند برسوں میں ان کی نسل معدوم ہوجائے گی، لیکن محکمۂ جنگلات کےموثر اقدامات کے باعث اب ان کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ ہزار گنجی نیشنل پارک میں مجموعی طور پر 106 اقسام کے پرندے اور225 اقسام کے پودے موجودہیں۔یہاں رواں برس ماہ جون میں ایک اہم پیش رفت دیکھی گئی، جب محکمۂ جنگلات و جنگلی حیات، بلوچستان نے پارک کے اطراف نایاب پرشین تیندوے کےجوڑے کی چہل قدمی کرتے تصاویر بطورِ خاص جاری کیں۔یاد رہے، پرشین لیپرڈ کی نسل دنیا بھرمیں تیزی سے معدوم ہوتی جارہی ہے۔

جنگلی حیات کے تحفّظ کے ضمن میں ایک افسوس ناک امر یہ ہے کہ محکمۂ جنگلی حیات کے پاس افرادی قوت کی سخت کمی ہے اور اسی وجہ سے جانوروںکا مکمل تحفّظ اب تک یقینی نہیں بنایا جاسکا۔ دوسرا بڑا مسئلہ قبضہ مافیا کا ہے، جو ہنگول نیشنل پارک اور ہزار گنجی نیشنل پارک کے اطراف تیزی سے غیرقانونی قبضے کررہے ہیں۔ بہرحال، کوئٹہ سے 125کلو میٹر دور اور سطحِ سمندر سے 8850فٹ کی بلندی پر واقع زیارت نیشنل پارک قائم کرنے کا واحد مقصد سلیمانی مارخور کو بہترین قدرتی ماحول اور تحفّظ فراہم کرنا ہی ہے۔ 

اس پارک کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں دنیا کا دوسرا بڑا جونیپر (صنوبر) کا قدیم جنگل بھی ہے، جہاں چکور، گوگواور مختلف اقسام کی چٹریاں بھی پائی جاتی ہیں، جب کہ قدرتی چشموں کے پانی میں رنگین مچھلیوں کی بھی وافر مقدار موجود ہے۔ جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق صورتِ حال جاننے کے لیے ہم نے چیف کنزرویٹر جنگلی حیات، بلوچستان، شریف الدّین بلوچ سے رابطہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ’’ صوبہ بلوچستان جنگلی حیات کے حوالے سے منفرد مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں سرد و گرم موسموں کے قیمتی، ایاب جانور اور پرندے پائے جاتے ہیں۔ جنگلی حیات کا تحفّظ ہمارا مشن ہے اور کم وسائل کے باوجود ہماری پوری کوشش ہے کہ صوبے میں جنگلی حیات کے تحفّظ کو یقینی بنایا جائے۔‘‘

نایاب پرندوں اور جانوروں کی نسلوں کی معدومی کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’’اس حوالے سے ہم بہت کام کررہے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ محکمے کی کاوشوں کے سبب ماخور کی نسل معدوم ہونے سے بچ گئی ہے۔ اسی طرح ہم دیگر پرندوں اور آبی حیات کے تحفّظ کے لیے بھی کمربستہ ہیں۔محکمۂ جنگلی حیات نے صوبے بھر میں بغیر لائسینس پرندوں کی خرید وفروخت کے خلاف کارروائی کافیصلہ کرلیا ہے۔ کیوں کہ صوبائی دارالحکومت، کوئٹہ کی پرندہ مارکیٹ میں نایاب نسل کے پرندے بڑے پیمانے پر فروخت ہوتے ہیں اور ملک کے کونے کونے سے لوگ ان کی خریداری کے لیے یہاں ہیں۔ 

کوئٹہ میں لوگوں نے گھروں کے چھتوں اور اندرونی حصّوں میں بھی چھوٹے چھوٹے فارمز بنا رکھے ہیں، جہاں پرندوں کی بریڈنگ کی جاتی ہے۔ پھر آن لائن خرید و فروخت بھی جاری ہے، یوں کہیے، اس پرندہ مارکیٹ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، لیکن ’’وائلڈ لائف ایکٹ 2014ء ‘‘کے مطابق چکورسمیت قیمتی پرندوں کی بغیر لائسنس خرید وفروخت پر پابندی ہے اور مور سمیت دیگر اقسام کے پرندوں کی فروخت کے لیے پرمٹ کا ہونا لازمی ہے۔نیز، مہمان سائبیرین پرندوں کی خرید وفروخت بھی قانوناً جرم ہے۔‘‘

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ’’ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات، بلوچستان سائبیرین پرندوں کے تحفّظ کے لیے ہمیشہ متحرک رہا ہے،خصوصاً سیزن میں تمام اضلاع میں چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں، جو شکاریوں کے خلاف وائلڈلائف ایکٹ کے تحت کاروائی عمل میں لاتی ہیں۔ جنگلی حیات کا تحفّظ ہمارا فرض اور مشن ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوئی غفلت اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسی لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں وائلڈ لائف افسران تعینات کیے گئے ہیں اور نتیجتاً شکار کی روک تھام ممکن ہوگئی ہے۔‘‘ 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’کئی دہائی قبل کوہِ چلتن، قلّات، ہربوئی، شاہ نورانی اور بلوچستان سے ملحقہ سندھ کےکیرتھر کے پہاڑی سلسلوں میں پرشین لیپرڈز موجود تھے، لیکن بے رحمانہ شکار کے باعث ان کی نسل معدوم ہوگئی، تاہم کچھ عرصہ قبل محکمۂ جنگلی حیات، بلوچستان کو کوہ چلتن و ملحقہ پہاڑی رینج میں اس کے آثار ملےہیں۔ اور ہم نے مسلسل چھے ماہ کی تگ و دو کے بعد ان کی عکس بندی میں بھی کام یابی حاصل کرلی ہے۔ نیز، ہم نےتیندووں کے تحفّظ کے لیے خصوصی اقدامات کا بھی آغاز کردیا ہے اور اس سلسلے میں ہم آئی یو سی این، ڈبلیو ڈبلیو ایف اور چیتوں کے تحفّظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں سے بھی رابطے کررہے ہیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید