• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

جاپانی میں لکھے گئے دنیا کے پہلے ناول گینجی کی کہانی کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی


جاپانی زبان میں لکھے گئے دنیا کے پہلے ناول ’گینجی مونو گتاری‘ یعنی ’گینجی کی کہانی‘ کا اردو میں ترجمہ کرلیا گیا ہے۔ 1128 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی تعارفی پریس کانفرنس قونصل جنرل جاپان توشی کازو ایسومورا نے کراچی پریس کلب میں کی۔

پاکستان کے معروف ادیب شاعر اور مترجم باقر نقوی مرحوم کے کیے گئے ترجمہ کو کتابی شکل تک پہنچانے والے محقق خرم سہیل اور سیکریٹری پریس کلب رضوان بھٹی بھی پریس کانفرنس میں قونصل جنرل کے ہمراہ تھے۔

قونصل جنرل جاپان نے بتایا کہ یہ عظیم ناول جاپانی زبان میں ایک خاتون ناول نگار ’موراساکی شیکیبو‘ نے گیارہویں صدی کے ابتدائی برسوں میں تخلیق کیا۔

یہ ناول خیالی کہانی اور کرداروں پر مبنی ہے، اس ناول میں جاپانی شہنشاہ، اس کے شہزادے ’گینجی‘ اور پوتے ’کاؤرو‘ کی زندگی کا نقشہ مفصل طور سے پیش کیا گیا ہے۔ توشی کازو ایسومورا نے بتایا کہ گینجی کی کہانی نے جاپانی ثقافت، مقامی اور عالمی ادب پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں، اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کالسیکی ناول نگاری کی ابتدا جاپان سے ہوئی۔

اس عظیم ناول کی مصنفہ موراساکی شیکیبو کا تعلق اس وقت کے طبقہ اشرافیہ سے تھا۔ مصنفہ جاپانی دربار سے وابستہ ہوئیں، تو ملکہ کی نائب کے طور پر ان کا تقرر ہوا۔ ان کے حالات زندگی بہت زیادہ دستیاب نہیں ہیں۔

قونصل جنرل نے بتایا کہ محتاط اندازے کے مطابق ان کی پیدائش کا سال 973 عیسوی سے 978 عیسوی کے درمیان کا کوئی برس ہے جبکہ وفات کا سال 1014 سے 1031 کے درمیانی عرصے میں سے ہے۔ موراساکی شیکیبو نے جب جاپانی گینجی کی کہانی ناول لکھا تو شہنشاہ جاپان کے دربار میں چینی اور جاپانی زبانیں سرکاری طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ 

یہی نہیں علم و ادب اور علمی تفاخر کیلئے چینی زبان پر عبور کو سراہا جاتا تھا۔ اس ناول کی مصنفہ کو چینی زبان پر حیرت انگیز عبور حاصل تھا۔

قونصل جنرل جاپان کے مطابق اس زمانے میں کاغذ کی دستیابی جوئے شیر لانے کے مترادف تھی مگر مصنفہ چونکہ دربار سے وابستہ تھیں، اس لئے ان کو کاغذ کی فراہمی ممکن بنائی گئی یوں تاریخ کا پہلا ناول قلمبند ہوا۔ اس عظیم ناول میں اس وقت کے شہنشاہ، سرکار، عوام، اشرافیہ کے معاملات اور احساسات کے نشیب و فراز کا عکس بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ناول کو دنیا کا پہلا ناول ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ کہانی صدیوں پرانے رسم و رواج، رہن سہن اور خاندانی اقدار کو دیکھنے کا ایک روزن ہے۔ اس ناول کے اردو مترجم باقر نقوی کے انتقال کے بعد کام کو آگے بڑھانے والے محقق خرم سہیل کے مطابق معروف جاپانی فلم ساز "آکیرا کوروساوا" نے بھی اس ناول کو اپنی پسندیدہ ترین کتاب قرار دیا۔ 

جاپان کے پہلے نوبیل انعام یافتہ ادیب "یاسوناری کاواباتا" نے بھی نوبیل انعام حاصل کرنے کی تقریب کے موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں اس ناول گینجی مونوگتاری کا تذکرہ کیا تھا۔ ہر جاپانی شہری اسے اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے اسکول کے نصاب میں بھی پڑھتا ہے۔ گینجی مونوگتاری ایک عظیم ناول ہے جو کہ دو لاکھ سے زائد جملوں پر مبنی ہے۔ ایک ادبی روایت کے مطابق اس کہانی کے آٹھ سو سے زیادہ جاپانی شاعری کے صنف و سخن پر مبنی اشعار اور کہانی موجود ہیں۔ 1971 میں بھارت کے پروفیسر احتشام حسین نے اس ناول کے ابتدائی چند ابواب کی تلخیص لکھی مگر باقاعدہ ترجمہ ندارد تھا۔ توشی کازو ایسومورا کے مطابق پہلی بار پاکستان سے اس ناول کا اردو زبان میں ترجمعہ شائع ہوا ہے۔

یہ اردو زبان میں اس ناول کا پہلا اور مستند ترجمہ ہے، جو تمام پاکستانیوں کے لئے قابل فخر بات ہے۔ اس ناول کو پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے تعاون سے "راحیل پبلی کیشنز" نے شائع کیا ہے۔ اس کی اشاعت میں جاپانی دوستوں کا تعاون بھی شامل ہے۔ اس کتاب کیلئے دونوں ممالک کے سفیروں نے بھی اپنے پیغامات فراہم کئے ہیں، جبکہ جاپان میں اردو زبان کی تدریس سے وابستہ اساتذہ کے پیغامات بھی شامل ہیں۔

قومی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید