• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تقریباً سال سے اوپر کا عرصہ بیت گیا، زندگی کے معمولات کو عام حالات سے مختلف ہوئے۔ وہ وبا جو دنیا کے ایک خطے سے شروع ہوئی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے عالمی وبا کی صورت اختیار کرگئی۔ زندگی کے معمول میں ایک دن کا اتار چڑھائو انسان کو ذہنی و جسمانی طور پر تھکا دیتا ہے اور یہ لاک ڈائون کا سلسلہ دنوں سے مہینوں پر محیط ہوتا چلا گیا۔ جو جانی نقصان اس وبا نے پہنچایا وہ تو روزانہ کی بنیاد پر گنا گیا کہ آج اتنے لوگ اس موذی بیماری سے جنگ ہار گئے اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لیکن وہ نقصان جو زندہ دماغوں پر ہوا اسے ماپنے کا کوئی آلہ نہیں اور نہ ہی گننے کے لئے کوئی تعداد کیونکہ وہ نقصان ذہنی صحت کا ہے جس کو عام حالات میں بھی ہمارے معاشرے میں کم ہی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ہماری اکثر صرف جسمانی تکلیف کو تصور کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں ایک سروے کیا گیا جس کے مطابق 18 سال کی عمر سے زائد افراد میں ڈپریشن جیسی بیماری میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ بہت زیادہ ہے اور شاید ہمارے ملک میں اس سے بھی زیادہ ہو۔ ڈپریشن کی وجوہات میں سب سے اول نمبر پر قریبی عزیز اور رشتہ داروں کی اچانک موت ہے اپنے قریبی عزیزوں کو وینٹی لیٹر نہ ملنے کی وجہ یا دوائیوں کے وقت پر میسر نہ آنے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کو دیکھتے دیکھتے وہ نقش ذہن پر ثبت ہوگئے۔
SOPsپر عمل درآمد کیلئے پارکس اور تفریحی مقامات کو مکمل بند کردیا گیا جو کہ بے شک وبا کے قابو کے لئے اچھا قدم تھا لیکن اس سے صحت مندانہ سرگرمیاں بالکل ہی ختم ہو کر رہ گئی اور تمام فارغ وقت سوشل میڈیا کی نذر ہونے لگالہٰذا جہاں اس وبا کو روکنے کےلئے اعلیٰ پیمانے پر اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کے ذہنی صحت پر اثرات کو بھی زیر غور لانا چاہئے۔ اس کے لئے لوگوں کو ٹی وی اور باقی میڈیا کے ذریعے آگاہی کے پیغام دیے جائیں۔ ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لئے روزمرہ کی روٹین میں معمولی تبدیلیوں کے بارے میں بتایا جائے روزمرہ کی ورزش یا چہل قدمی کی تمام SOPs پر عمل کرتے ہوئے معمول بنایا جائے اور سرکاری سطح پر سائیکاٹرسٹ کی موجودگی لازمی بنائی جائے اور عوام کو ان سے مدد لینے پر ابھارا جائے تاکہ وہ منفی اثرات ہماری نسل کی شخصیات کو تباہ کرکے جرائم میں اضافہ کی بجائے وہیں پر قابو کرلئے جائیں۔(ڈاکٹر رمشا)