• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف وحکایت … ظفر تنویر
یہ پہلی بار نہیں ہوا اکثر ایسا ہوتا ہے جب کالم پڑھنے والے آپ کے لکھے گئے پر اپنے اچھے برے تبصرے کرتے ہیں کچھ لوگ آپ کی تائید کرتے ہیں اور بعض اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پڑھنے والوں کو معاملہ کی سنگینی کا احساس بڑی شدت سے ہو رہا ہے اور تقریباً سبھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم بحیثیت کمیونٹی اور بحیثیت ایک معاشرہ اس کے ذمہ دار ہیں، کسی نے بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ تسلیم کیا کہ بڑھتی ہوئی ان برائیوں کو روکنے کیلئے ہمیں آگے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا اور اس ذمہ داری کو قبول کرنا ہوگا جس سے اب تک ہم منہ چھپائے ہوئے ہیں، برطانیہ میں آباد ہماری کمیونٹی (پاکستانی،کشمیری) میں بڑھتے ہوئے جرائم خصوصاً بچوں سے جنسی زیادتی اور ’’چائلڈ سیکس گرومنگ‘‘ کے بارے میں لکھے گئے کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے لیڈز کے ایک پاکستانی عبدالکریم نے ایک لمبا چوڑا خط لکھا ہے جس کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر میٹرو پولیٹن پولیس محکمانہ طور پر پائے جانے والی نسلی منافرت کو تسلیم کرسکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم بحیثیت کمیونٹی اپنی ناکامیوں کو تسلیم نہیں کرتے، عبدالکریم لکھتے ہیں کہ سٹیفس لارنس انکوائری میں میکفرسن رپورٹ میں دی گئی تجاویز کی روشنی میں وہ خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں تو ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر اپنی ان غلطیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ کیوں نہیں لیتے جن کی وجہ سے ہمیں آج ان حالات کا سامنا ہے، عبدالکریم کا یہ بھی خیال ہے کہ ہم عموماً ایسے موقعوں پر دوسروں پر الزام لگا کر خود کو اس سے بری الزمہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ ہونا نہیں چاہئے، اس بگاڑ کی تمام تر ذمہ داری صرف مساجد یا مدرسوں پر عائد نہیں کی جاسکتی اور کمیونٹی کی تمام اکائیوں کو اپنا کردار بہتر کرنے کی ضرورت ہے، عبدالکریم نے اس سارے بگاڑ کی بعض نظر آنے والی وجوہات بھی بتائی ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ یہ موضوع اتنا گمبھیر ہے کہ اصل صورت جاننے اور اس کا حل نکالنے کیلئے اس اہم موضوع پر کسی پی ایچ ڈی کی سطح کی تحقیق و جستجو کی ضرورت ہے، عبدالکریم نے اپنے طویل خط کا اختتام تین نکات پر کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ والد عموماً اپنی ٹیکسی یا ٹیک اوے کے کاروبار میں الجھے زیادہ وقت گھر سے باہر ہوتے ہیں اور مائیں یا تو ادھر ادھر کی گفتگو میں اور یا ٹی وی ڈراموں میں گم ہوتی ہیں اور دونوں ماں باپ اس امر سے قطعی لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کے بچے اور بچیاں کیا کررہی ہیں، ان کا یہ بھی خیال ہے کہ آج بھی بچوں اور ماں باپ کے مابین زبان کا مسئلہ ہے، بچے عموماً انگریزی بولتے ہیں جب کہ والدین کو بچوں کی زبان میں ان سے بات کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے، عبدالکریم نے لالچ کو بھی اس مسئلہ کی بنیاد قرار دیا ہے، راتوں رات امیر بننے اور اپنے آبائی وطن میں بچوں کیلئے ایک بڑی کوٹھی بنانے کے خواب نے بھی والدین کو بچوں سے دور کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے ان کا خیال ہے کہ جگہ جگہ بغیر سوچے سمجھے کھڑی کی جانے والی مساجد بھی کوئی اہم کردار ادا نہیں کرسکیں حالانکہ مساجد میں صرف بچوں کی ہی نہیں ان کے والد کی تربیت کی بھی ضرورت ہے لیکن مساجد کو اس مقصد کیلئے خطبہ جمعہ کے دوران جو موقع ملتا ہے اسے بھی صحیح طرح استعمال نہیں کیا جاتا، مساجد میں کیا ہوتا ہے اور انہیں کس طرح تربیت کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے اس کا تجربہ قاضی اشتیاق احمد سے زیادہ کس کو ہوسکتا ہے، انہوں نے اپنی زندگی کے 40 برس ایسے ہی کاموں میں لگائے ہیں اور اسی ہفتہ وہ بریڈ فورڈ میں کونسل آف مساجد کی 40 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ بریڈ فورڈ برطانیہ کا وہ پہلا شہر ہے جس نے بہت سے دوسرے کام شروع کرنے میں پہل کرنے کے ساتھ ساتھ بریڈ فورڈ میں پہلی کونسل آف مساجد کی بنیاد رکھی، اشتیاق احمد نے اسی کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ افسوسناک خبر دی ہے کہ اس وقت برطانوی جیلوں کی 82 ہزار آبادی میں سے 16ہزار مسلمان ہیں حالانکہ ملک کی آبادی میں مسلمانوں کی شرح اس سے بہت کم ہے، اشتیاق احمد کو خدشہ ہے کہ جس تیز رفتاری سے جیلوں میں مسلمان قیدیوں کا اضافہ ہو رہا ہے اگر صورتحال یہی رہی تو آئندہ10 برس میں جیلوں کی نصف آبادی مسلمان قیدیوں پر مشتمل ہوگی، انہوں نے اس تباہی کی تمام ذمہ داری معاشرہ کی تمام اکائیوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ والدین، اساتذہ کمیونٹی لیڈر، سیاسی لیڈر شپ اور مذہبی رہنما (مساجد کے علماء) تمام اس برائی میں برابر کے شریک ہیں، یہی نہیں جیلوں میں بند عورتوں میں بھی مسلم خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک لمحہ فکریہ ہے، اشتیاق احمد نے والدین کو بھی اپنے رویہ، کردار اور برتائو کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے، ان کے خیال میں کمیونٹی کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اس معاملہ کو دیکھنا ہوگا، وہ اس مسئلہ پر کھلی بحث کے بھی حق میں ہیں ۔کمیونٹی معاملات پر کڑی نگاہ رکھنے والے کرامت اقبال کا کہنا ہے کہ 2000 سے اب تک 21؍برس میں وہ بریڈفورڈ اور پاکستانی،کشمیری کمیونٹی سے متعلق اسی قسم کی پانچ رپورٹس دیکھ چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان مسائل پر کوئی ایکشن لیں اور اپنے کسی ردعمل کا اظہار کریں، ان کا خیال ہے کہ اراکین پارلیمنٹ اور ہماری مساجد کی لیڈر شپ کو آگے بڑھ کر اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ کرامت اقبال کو یہ اطلاع بھی ہے کہ جیلوں میں بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کے پیش نظر جیلوں میں توسیع کی گفتگو بھی چل رہی ہے، برطانیہ کے کسی بھی شہر میں منتخب ہونے والے پہلے مسلمان لارڈ میئر محمد عجیب کا کہنا ہے کہ ایشیائی نوجوانوں میں جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ہمارے بارے میں پہلے سے پائے جانے والے منفی تاثر کا رنگ مزید پختہ ہو رہا ہے، ان کا خیال ہے کہ مذہبی، سیاسی اور سماجی لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ والدین سمیت سب کا اہم اور اولین مسئلہ یہی بیماری ہونا چاہئے۔مانچسٹر کے قانون دان فاروق احمد، نیو کاسل کے کشمیری رہنما راجہ نوید اور دوسرے سب کی رائے بھی تقریباً یہی ہے لیکن جس طرح عبدالکریم نے کہا ہے کہ مسئلہ کی جڑ تلاش کرنے سے پہلے ہمیں اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرلینا چاہئے کہ ایسا کرنے سے آگے کا راستہ صاف نظر آنے لگے گا۔
یورپ سے سے مزید