• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ درست ہے کہ منہگائی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہے۔ عالمی اقتصادیات کے گورکھ دھندے میں بعض عوامل ایسے ہیں جن پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کا کوئی زور نہیں چلتا،چناں چہ انہیں ہمیں جوں کا توں تسلیم کرنا پڑتا ہے، مثلا تیل کے نرخ۔ لیکن منہگائی صرف باہر سے نہیں آتی،بلکہ اس کے بہت سے اندرونی عوامل بھی ہوتے ہیں۔ مثلا،آپ کی اقتصادی حالت خراب ہے تو قرض لینا پڑے گا اور قرض دینے والے کی سخت شرایط بھی ماننا پڑیں گی،لہذا عوام کو دی جانے والی مختلف رعایتیں آئی ایم ایف کی ہدایت پرختم کردی جاتی ہیں،روپے کی قدر کم کرنی پڑتی ہے،لوگوں اور اداروں پر محاصل بڑھانے پڑتے ہیں۔

بدعنوانی،نااہلی اورغلط منصوبہ بندی بھی منہگائی کے ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دو برسوں میں گندم، شکر، ایل این جی، تیل وغیرہ کی درآمد اور برآمدکے ضمن میں سرکاری سطح پر جو فیصلے کیے گئے،ان کے وقت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں،کیوں کہ بعض فیصلے بروقت نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ریاست بلکہ عوام کو بھی سخت مالی دھچکے لگےاور بعض افراد اور اداروں کے وارے نیارے ہوگئے۔ لیکن پاکستان جیسے ملک میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اور عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پاس جانا ہمارا کوئی پہلا تجربہ نہیں ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مزید قرض کے حصول کے لیے تیکنیکی سطح کے مذاکرات کا دور مکمل ہو چکا ہے اور اگلے مرحلے میں پالیسی کی سطح کے مذاکرات امریکا میں ہوں گے۔ تیکنیکی سطح کے ورچوئل مذاکرات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان میں آئی ایم ایف کے تحفظات واضح نظر آتے ہیں‘ خاص طور پر محصولات جمع کرنے کی کارکردگی کے ضمن میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں اور رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہمارے ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کی ہدف سے زاید وصولیوں کو کارنامہ ماننے سے انکار کیا ہے‘ وہ حیران کن ہے۔ چناں چہ مذاکرات کا اگلا دور محصولات اور توانائی کے حوالے سے اہم ہے۔

تیکنیکی سطح کے مذاکرات سے یہ بھی واضح ہے کہ آئی ایم ایف کا زور سیلز ٹیکس،آمدن اور توانائی کےنرخوں میں اضافے کی اُن ہی شرایط پر ہے جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ حکومت نے رواں سال کے شروع میں ان پر عمل درآمد کا یقین دلایا تھا، مگرجب اس فارمولے کی حقیقت واضح ہوئی اور اس کے مضمرات کا احساس ہوا تو حکومت کو اس یقین دہانی سے پیچھےہٹنا پڑا ۔

رواں برس مئی کے آخر میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی مزید ٹیکس لگانے اور مراعات ختم کرنے کی شرایط مانے بغیر ریونیو بڑھایا جائے گا۔ مگر ہماری وزارت خزانہ کی اس حکمت عملی کو عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے منظوری ملنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ 

محصولات کی جس اضافی آمدن پر چند روز پہلے وزیر اعظم قوم کو اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مبارک باد دے رہے تھے اور ہدف سےاڑتیس فی صد زاید وصولی کو کارنامہ قرار دے رہے تھے، آئی ایم ایف نے درآمدات کی مد سے اضافی وصولیوں کا نتیجہ قرار دے کر اس کارنامے کو ماننے ہی سے انکار کر دیا ہے۔لہذا یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ماننے کے بجائے منوانے کے موڈ میں ہے۔

طویل کہانی

پاکستان کے وجود میں آنے کے صرف تین سال بعد، پاکستان گیارہ جولائی 1950 کو آئی ایم ایف کا رکن بنا تھا۔تب سے اب تک ہم قرض خاصل کرنے کے لیے اِکّیس مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جاچکے ہیں۔ تاہم چار عشرے پہلے اور آج کے معاہدوں میں زمین آسمان کا فرق آچکا ہے۔اب ہم زیادہ مجبور ہوکر زیادہ سخت شرایط قبول کرکے معاہدہ کرتے ہیں، قرض کی رقم بھی زیادہ ہوتی ہے لہذا واپسی کی قسط بھی تگڑی ہوتی ہے۔ یعنی مجموعی طورپر ہم نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کی داستان لکھی ہےاوربار بار آئی ایم ایف کے پاس جانے کے باوجود ہم اقتصادی طورپر آگے نہیں بڑھے بلکہ پیچھے ہٹے ہیں۔ ہمارے اندرونی اور بیرونی قرضے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور عوام کی حالت خستہ ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان 1988سے پہلے ہونے والے معاہدے قلیل المدت بنیادپر ہوتے تھے جن میں عمومی طور پر قرض اقتصادی اصلاحات سے مشروط نہیں ہوتے تھے۔ تاہم 1988کےبعد ’’اسٹرکچلرل ایڈجسمنٹ پروگرامز‘‘، یعنی ایس اے پی، شروع ہو گئے۔ ایس اے پی کے تحت قرض دینے والا ادارہ شدید اقتصادی مشکلات کےشکارقرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرایط کے تحت نیا قرض دیتاہے۔ مئی2019تک ہمارااکتیس برسوں میں مشروط قرض کا بارہواں معاہدہ تھا۔

دراصل آئی ایم ایف کےرکن ممالک جو قرض حاصل کرتے ہیں وہ ان ہی ممالک کے ہوتے ہیں۔ ہر رکن ملک آئی ایم ایف کو اپنے حصے کے پیسے دیتا ہے اور اس حصے کے عوض آئی ایم ایف ہررکن ملک کا ایک کوٹا بناتا ہے۔ اس کوٹے کے اندر رہ کر آئی ایم ایف سے ضرورت کے تحت قرض حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی رکن ملک اپنے مخصوص کوٹے سے زیادہ قرض حاصل کرنے کا خواہاں ہوتاہے تو یہ قرض مشروط ہوتا ہے اور قرض حاصل کرنے والےملک کو چنداقتصادی اصلاحات پر مبنی شرایط پوری کرنی پڑتی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ آئی ایم ایف کو قرض کی واپسی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف سے عاید کردہ شرایط کو پورا نہ کرنا ہے۔پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ وہ قرض تو لے لیتا ہے، مگر اسےلیتے وقت جو شرایط قبول کرتا ہے(مثلا اقتصادی اصلاحات) انہیں پورا نہیں کرتا۔اس مرتبہ ایک مشکل یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ شاید قرض کے حصول میں امریکا ہمارا سفارشی نہیں ہے۔ شرایط پوری نہ کرنے پر آئی ایم ایف سےنیا قرض حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔

اس وقت پاکستان کو امریکی سفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔پاکستان آدھی، پونی شرایط پوری کرتا ہے،امریکا سے سفارش کرواتا ہے اور آئی ایم ایف نیا قرضہ دے دیتا ہے۔لیکن یوں محسوس ہورہا ہے کہ افغانستان کے معاملے کی وجہ سے ہواوں کے رخ بدل چکے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان اس مرتبہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر ہے اور پاکستان کو سخت شرایط پوری کرنا پڑیں گی۔ لہذا یہ کام پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے اورعوام کومزید سختیاں بھی جھیلنا پڑیں گی،کیوں ہمیں نیا قرض لینا ہے اور پرانوں کی قسطیں واپس بھی کرنی ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض لیا ہو اور واپس نہ کیا ہو۔ 

آئی ایم ایف کوئی روایتی بینک نہیں ہے،اس کا ڈیفالٹر ہونا خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔ قرض واپس نہ کرنے کا مطلب پورے عالمی اقتصادی نظام سے الگ تھلگ ہونا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض کا حصول کسی ملک کی معیشت چلانے کے لیے آخری حربہ ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کی قرض واپس کرنے کی شرایط کوئی زیادہ سخت نہیں ہوتیں۔ 'پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں 2013 میں پاکستان نےآئی ایم ایف کے ساتھ جس معاہدے پر دست خط کیے تھے ،وہ قرض واپس کرنے کا وقت بیس برس تھا اور شرح سود لگ بھگ دوفی صد تھی۔

بعض ماہرین معیشت کا تازہ مذاکرات کےبعد سامنے آنے والی صورت حال کے ضمن میں شکوہ ہے کہ آئی ایم ایف میں مصر کو پوسٹر چائلڈ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔حالاں کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے پہلے مصر میں تقریباً تیس فی صد لوگ خطِ غربت سے نیچے تھے، لیکن چند برس بعد، 2019 میں یہ شرح پچپن فی صد تک جاپہنچی تھی۔ مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور مصری کرنسی کی قدر کم ہونے سے منہگائی بہت تیزی سے بڑھی۔

خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ ی ہوگا، ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام اقسام کی زرِتلافیاں ختم کرناہوں گی، پیٹرولیم کی مصنوعات، گیس اور بجلی کے نرخ مزیدبڑھیں گی اوربعض محاصل بھی بڑھائے جائیں گے۔ یہ سب پاکستانی عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا کیوں کہ وہ پہلے ہی بہت مشکل سے زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔

اُمڈ اُمڈ کر بلائیں آتی ہیں

پاکستان کی تاریخ ہر طرح کے بحرانوں سے بھری پڑی ہے، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کی رفتار تیز اور جہتیں وسیع ہوگئی ہیں۔ تاریخ کے طالب علم کے لیے اب یہ سوال پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے کہ بحران کیوں آتے ہیں؟ تاریخ اس کا یہ سادہ سا جواب دیتی ہے کہ جب زندگی کے کسی شعبے میں زوال آتا ہے یا اس شعبے کے لیے اربابِ اختیار غلط حکمت عملی اور ترجیحات کا تعین کرتے ہیں تو اس کے منطقی انجام کے طور پر اس شعبے میں بحرانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ 

اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں وقتاً فوقتاً آنے والے اقتصادی بحرانوں کی وجہ یہ ہے کہ ہر دورِ حکومت میں اقتصادی شعبےکےلیے وقت گزارنے والی حکمت عملی اختیار کی گئی اور ترجیحات کا غلط تعین کیا گیا۔ موجودہ اقتصادی بحران کے بارے میں ایک ممتاز ماہر معیشت کا کہنا ہے کہ معیشت چند گروہوں کے ہاتھوں میں رہنے کی وجہ سے اب مسائل سامنے آرہے ہیں۔ معیشت کی صحت کا اندازہ اگر صرف بازارِ حصص کے اتار چڑھائو کی بنیاد پر لگایاجائے تو پھر اس طرح کے بحران ناگزیر ہیں اور ہم ایسے مزید بحران دیکھیں گے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اورسالانہ ترقی کے بارے میں سرکاری دعوئوں کو غلط قرار دینے والے اس ماہر معیشت کے مطابق کئی ماہرینِ معیشت مستقل یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اعداد و شمار درست نہیں ہیں اور اس بارے میں ثبوت بھی پیش کیے گئے ہیں۔

تیل اور خوراک کے تازہ بحران کے قلیل المیعاد اثرات ملک کی معیشت پر منفی انداز سے مرتب ہوں گے۔ یہ دونوں اشیاء انسان لازماً استعمال کرتا ہے اور کرے گا۔ ہماری افراط زر کی ٹوکری میں تیل اور خوراک کا وزن زیادہ ہے، مگر درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں، لہٰذا افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ اس صورت حال سے تن خواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثرہوا ہے اور ہوگا۔پیٹرول ،ڈیزل، اشیائے خورونوش کے ہوش رُبا نرخ،تیزی سے کم ہوتی روپے کی قدر اور ڈالر کی اونچی اُڑان نے بیش تر ہم وطنوں سے جینے کی اُمنگ چھین لی ہے۔

موجودہ حالات میں اس مسئلے کا کوئی قلیل المیعاد حل نہیں ہے، تاہم عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے دو چار فوری نوعیت کے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ بجلی اور پیٹرول پر سے سبسڈی کم کردی جائے،اس سے سرکاری خزانے پر بوجھ کم اور عوام پر زیادہ ہوجائے گا۔ اس کے توڑ کے لیے کم آمدن والے طبقے کی ٹیکس کے دائرے میں آنے والی آمدنی کی حد بڑھا دیں تو لوگوں کی گھر لے جانے والی تن خواہ میں اضافہ ہوجائے گا۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے طبقےکےلیے راشن کارڈ سسٹم اور یوٹیلیٹی اسٹورز یا کسی اور ذریعے سے ضروری اشیائے خورونوش رعایتی نرخ پر فراہم کی جائیں۔

حالات میں بہتری پیدا کرنے کے لیے وسط مدتی حکمتِ عملی بھی طے کرنی ہوگی۔ اس وقت زراعت کے شعبے پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے، مگر وہ عدم توجہ کا شکار ہے، اسے بہتر بنائیں، زرعی پیداوار بڑھائی جائے۔ زرعی پیداوار کی قیمتِ خرید عالمی سطح پر لائی جائے تو کسان کو اس سے بہ راہ راست فائدہ ہوگا، ایکسپورٹ اورینٹڈ ایگری صنعت کو فروغ دیا جائے۔ 

سویابین اور سورج مکھی کی فصل اگانے کے لیے مراعات اور سہولتیں دی جائیں اور اناج کی پیداوار بڑھائیں۔ ہمارے دیہات میں ملک کی ستّر فی صد آبادی رہتی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اسے بہ راہ راست فائدہ ہوگا، اس کی آمدن اور قوتِ خرید بڑھے گی تو مثبت تبدیلی آئے گی۔ اس کے علاوہ ہماری برآمدات دو تین برس میں کئی ارب ڈالرز تک بڑھ سکتی ہیں۔

ان اقدامات کے ساتھ توانائی کے نرخ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گیس پائپ لائن بچھانے کے ضمن میں کسی بیرونی دبائو کے بغیر حقیقت پسندانہ فکر اپنائی جائے اور پائپ لائن کے لیے وہ راستہ اختیار کیا جائے، جو ملک کے مفاد میں ہو۔ تیل اورگیس کی تلاش کےلیے مراعات اور سہولتیں دیں۔ مثلاً تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیز کو اس وقت پاکستان میں گیس کے کنویں پر نکلنے والی گیس کے نرخ بین الاقوامی منڈی کے مقابلے میں پچاس فی صد کم ملتے ہیں۔ اس میں اضافہ کرنے سے سرمایہ کاروں کے لیے اس شعبے میں کشش بڑھے گی۔توانائی کے متبادل ذرایع پر بھی خاص توجہ دی جائے۔

پاکستان میں غلط اقتصادی حکمت عملیوں اور بیرونی دھچکوں کی وجہ سے اقتصادی بحران آتے ہیں، اس وقت بیرونی دھچکا بھی زیادہ ہے۔ موجودہ حالات سے نمٹنےکے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو قربانیاں دینا اور حکومت کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی۔ اس وقت سرکاری خزانے میں بہت کم محاصل جمع ہوتے ہیں۔پروفیشنل کیڈر کے ٹیکس کی شرح کم ہے۔ معیشت دستاویزی نہیں ہے اور بدعنوانیاں ہیں۔ ہم سیلز ٹیکس میں پچاس تا سو ملین روپے سالانہ کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ آزاد ذرایع کے مطابق خراب طرزِ حکم رانی کی وجہ سے سالانہ پچاس تا ستّر ارب ڈالرز سرکاری خزانے میں نہیں جا پاتے۔ یہ خرابیاں دور کرکےڈیڑھ تا دوسو ارب ڈالرز سرکاری خزانے میں جمع کیے جاسکتے ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق اگرچہ غربت میں اضافے پر قابو پانا موجودہ حالات میں ممکن نہیں، لیکن لوگوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے دیگر اقدامات اٹھائےجاسکتے ہیں، مثلاً بے روزگاروں کو مراعات اور سہولتیں دیں، تاکہ وہ زمانے کی ضرورت کے مطابق تعلیم اور ہنر حاصل کرکے روزی کمانے کے قابل ہوجائیں۔موجودہ بحران سے پوری دنیا، بالخصوص ترقی پزیر دنیا متاثر ہوئی ہے۔ اس سے نکلنے میں ڈیڑھ تا دو برس لگیں گے۔ موجودہ بحران کی ایک اہم وجہ کووڈ کی وبا بھی ہے۔ چین، بھارت، روس اور برازیل کی بہت زیادہ آبادی اور ان ممالک کی معیشت کی شرحِ نمو بھی ہے۔ لہٰذا وہاں لوگوں کا معیار زندگی بلند ہورہا ہے اور ان کا طرزِ زندگی بدل رہا ہے۔ 

پہلے جو شخص وہاں روزانہ گوشت یا چاول اور کار استعمال نہیں کرتا تھا، وہ اب انہیں استعمال کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ پھر ان ممالک میں صنعت کاری کی رفتار تیز ہوجانے سے توانائی کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے۔بعض ممالک میں تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنے کے لیے ایتھانول بہ طور ایندھن استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ ایتھانول مکئی سے بنایا جارہا ہے، لہٰذا وہاں گندم کی فصل کم اگائی جارہی ہے۔ 

دنیا کا درجۂ حرارت بڑھنے کی وجہ سے موسمی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ کہیں بارشیں زیادہ ہورہی ہیں تو کہیں قحط ہے۔ کہیں گندم اورکہیں کپاس کی فصلیں خراب ہوگئی ہیں۔تیل کے نرخ بڑھنے سے دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرایع اختیار کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔ ایتھانول کی پیداواری لاگت پیٹرول سے زیادہ ہے، لیکن امریکا اور برازیل بیرونی انحصار کم کرنے کے لیے اس کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔

ملک کی اقتصادی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے ایک غیرسرکاری،غیر منافع بخش ادارے میں اہم عہدے پرفائض ماہر کے بہ قول پاکستان میں موجودہ گرانی کا ایک سبب زرمبادلہ کی پالیسی بھی ہے۔ کرنسی ری ویلیو ہو رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ڈالرکی شان و شوکت پہلے جیسی نہیں رہی ہے۔ تیل کے نرخ کا تعین ڈالر میں ہوتا ہے، لہٰذا وہ منہگا پڑ رہا ہے۔ بھارت اپنی کرنسی پر دباؤ نہیں پڑنے دے رہا،کیوں کہ اس کی برآمدات، ترسیلِ زر سروسز سیکٹر کی برآمدات (مثلاً آئوٹ سورسنگ) اور آفیشل ٹرانسفر زیادہ ہے اور اس کی معیشت پر قرضے کا زیادہ بوجھ نہیں ہے۔ اگر ہم اچھے دور میں اپنی کرنسی کو ری ویلیو کرلیتے تو آج یہ مسائل نہ ہوتے۔ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری ہوئی، مگر اس سے پیداوار میں اضافہ ہوا، نہ روزگار کے مواقعے پیدا ہوئے ۔

ہمارا تیل کی درآمد کا بل بڑھتا جارہا ہے، لیکن کسی حکومت نے اسے کم کرنے کے لیے ماس ٹرانزٹ سسٹم پر توجہ نہیں دی۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر دو مرتبہ بڑھے، لیکن ایک مرتبہ میاں نواز شریف نے یلو کیب اور دوسری مرتبہ پرویز مشرف کے دور میں موٹرکاریں درآمد کرلیں۔ یہ کوئی ترقی نہیں۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں فوڈ انفلیشن زیادہ ہونے کی دو بنیادی وجوہ تھیں، ایک تو کرنسی کے تبادلے کی شرح کا فرق تھا اور دوسرے ڈبلیو ٹی اوکے معاہدے پر دست خط کرنے کی وجہ سے کسانوں کو دی جانے والی سبسڈیز کا خاتمہ تھا۔ اس وقت توانائی کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے کسان بایو فیول کی طرف متوجہ ہوگئے اور دنیا بھر میں گنّا اور کنولا وغیرہ زیادہ کاشت کیا جانے لگا ہے۔ اس کے نتیجے میں اجناس اور دالوں وغیرہ کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔

موجودہ حالات میں ملک میں غربت کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔ سرکاری طورپر یہ شرح کم بتائی جاتی ہے، لیکن غیر سرکاری ذرایع زیادہ بتاتے ہیں۔ غربت میں اضافے سے جرائم اور بدعنوانیاں بڑھیں گی۔ حکومت کو خوراک اور روزگار سے متعلق ترجیحات کو بہتربنانا ہوگا۔ پاکستان میں خوراک کے بحران کی بڑی وجہ چند مخصوص لوگوں کی اجارہ داری ہے، تیل کے نرخ کم کرنے کے لیے حکومت کو آئل کمپنیز کے منافعے کی شرح اور جی ایس ٹی کم کرنا چاہیے۔

گھٹتی آمدن، بڑھتے اخراجات

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عوام تیزی سے بڑھتی ہوئی منہگائی سے سخت پریشان ہیں۔چناں چہ ہم نے عام آدمی کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ میری ویدر ٹاور کے قریب بس اسٹاپ پر کھڑے ہوئے شرجیل مصطفیٰ کے مطابق منہگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ لوگوں کی آمدن نہیں بڑھ رہی اور اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ عام آدمی روٹی کو ترس رہا ہے اور ذخیرہ اندوز اپنے گوداموں میں مال جمع کرکے بے تحاشا منافع کما رہے ہیں، کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ۔ 

اب سننے میں آرہا ہے کہ پچھلی حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو عوام کو عذاب میں مبتلا کرنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا اور انہیں جلد از جلد سزادلوانے کے لیے مضبوط کیس کیوں نہیں بنایا جاتا؟ غریب آدمی مرغی چوری کرے تو اسے جیل میں بند کردیا جاتا ہے، لیکن امیر آدمی اربوں کھربوں لوٹ کر مزے کرتا رہتا ہے۔ آخر عوام کا کیا جرم ہے اور انہیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟ اسی مقام پر کھڑے ہوئے احمد نوید کے بہ قول غریب آدمی، بجلی، پانی، آٹے، دال، چاول اور پیٹرول کے بحرانوں میں ساری زندگی پھنسارہتا ہے۔

جب سے ہوش سنبھالا ہے، طرح طرح کے بحران دیکھتے رہتے ہیں، لیکن ان بحرانوں کا کوئی دیرپا حل تلاش نہیں کیا جاتا۔ مشرف الدین نامی شخص کے بہ قول پہلے غریب آدمی کے چائے روٹی کھا کر گزارہ کرنے کی بات کی جاتی تھی، لیکن اب روٹی کے لیے آٹا ملنا مشکل ہوگیا ہے۔ چائے کی پتی، دودھ اور شکر کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں اور پانی کی قلت ہے۔ غریب آدمی کیا کرے؟ 

ایسے حالات میں اس کے پاس صرف خودکشی کا راستہ بچتا ہے، لہٰذا آئے روز اخبارات میں خودکشی کے واقعات کی خبریں شایع ہوتی رہتی ہیں۔ سخت دل والے شخص کو بھی اولاد بہت عزیز ہوتی ہے۔ اب لوگ بیوی بچّوں کے ساتھ خودکشی کررہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ لوگ اب حالات کے ہاتھوں اتنے مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے ہاتھ سے بچّوں کو ہلاک کردیتے ہیں۔ یہ قیامت ہے قیامت۔

ویسٹ وہارف سے ملیر جانے والی بس یوٹی ایس بارہ میں سوار احتشام، فخر الدین، مجاہد خاں، احسان منور اور شفیع احمدکے مطابق موجودہ حالات میں بچّوں کو دودھ پلانا اور پڑھانا تک غریب عوام کے لیے عیاشی کرنے کی مانند ہوگیا ہے۔ کرائے کے گھروں میں رہنے والے مہینے کے آغاز پر مالک مکان سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ محلے کی کریانے کی دکان والوں نے ادھار دینا بند یا بہت کم کردیا ہے۔ نجی اسکول کے مالکان تعطیلات والے مہینوں کی فیس اور اسکول وین کی فیس بھی وصول کرلیتے ہیں۔ 

چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، غنڈہ گردی اور بدعنوانی کا راج ہے، لیکن کوئی انہیں نہیں پکڑتا۔ سارا نزلہ غریبوں پر گرتا ہے۔ پہلے اشیاء کے نرخ چار آٹھ آنے بڑھتے تھے، اب ایک جھٹکے میں ایک شے پر دس پندرہ روپے بڑھا دیے جاتے ہیں۔ پہلے منہگائی کے خلاف لوگوں سڑکوں پر نکل آتے تھے، لیکن اب عوام کو اتنے خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور روٹی پانی کے چکر میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ عوام سر جھکا کر ہر ظلم سہہ لیتے ہیں۔

ملک میں بری طرزِ حکم رانی اور عالمی منڈی میں تیل اور خوراک کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان جیسے ممالک کئی اقسام کی مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق اس صورت حال کی وجہ سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہورہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے میزانیے کا خسارہ بڑھنا منطقی بات ہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ میزانیے کا خسارہ کم کرنے کے لیے سماجی شعبے پر اخراجات میں کمی کی جائے گی، یعنی تعلیم، صحت، صاف پانی کی فراہمی وغیرہ کے شعبوں کو کم فنڈز ملیں گے۔ 

دوسری جانب توانائی کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے پیداواری شعبہ مشکلات کا شکار ہے اور خطرہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ بہت سے افراد کو ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک خطرناک منظرنامہ ہے، جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بعض سنگین مسائل کا شکار ہوسکتا ہے، جس کے دوررس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔