• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بائبل میں حضور اکرمﷺ کی آمد کی واضح بشارتیں

تحریر و تدوین :ثروت جمال اصمعی

بائبل کی کتاب’’ استثناء‘‘ کے باب ۱۸ کی آیت ۱۸ میں تمام تر تحریفات کے باوجود ایک ایسی دوٹوک بشارت آج بھی موجود ہے، جس کا مصداق نبی اکرمﷺکے سِوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ شخ احمد دیدات نے صرف اسی ایک آیت کی بنیاد پر دو عیسائی پادریوں سے نہایت خُوب صُورت گفتگو کی، جسے بعد میں اُنہوں نے ایک لیکچرمیں بیان کیا۔

یہ گفتگو "What the Bible Says about Muhammad" کے عنوان سے کتابی شکل میں بھی دست یاب ہے اور انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے۔ احمد دیدات کہتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی جوانی میں جنوبی افریقا کے شہر، ڈربن کے رائل تھیٹر میں ایک عیسائی عالم، ریورینڈ ہٹن کے خطبات میں یہ بات سُنی کہ بائبل میں قیامت تک ہونے والے تمام واقعات کی پیش گوئیاں موجود ہیں۔

اُنھوں نے سوچا، جب بائبل میں ساری باتوں کا پیشگی ذکر ہے، تو اسے لامحالہ انسانیت کے محسنِ اعظمؐ کے بارے میں بھی خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ چناںچہ وہ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے اور یکے بعد دیگرے بہت سے پادریوں سے ملے،اُن کے خطبات میں شریک ہوئے، موضوع سے متعلق ہر وہ چیز جو اُن کے ہاتھ لگی، پڑھ ڈالی اور اِن ہی ملاقاتوں میں سے ایک کا حال اُنہوں نے اس لیکچر میں بیان کیا ہے۔

عیسائی پادری وان ہیرڈین سے ملاقات

جنوبی افریقا کے صوبے ٹرانسوال میں، جہاں احمد دیدات، نبی اکرمﷺکے یومِ ولادت پر ہونے والے پروگرام میں شرکت کے لیے گئے تھے، ہیرڈین نامی پادری سے ٹیلی فون پر ملاقات کا وقت لیا اور پھر اُن کے گھر پہنچ گئے۔اِن صاحب نے جناب دیدات سے گفتگو میں اپنے خسر کو بھی شریک کرنے کی خواہش ظاہر کی، جو ایک ۷۰ سالہ عیسائی عالم تھے۔ شیخ دیدات نے بڑی خوشی سے اس پر اپنی رضامندی ظاہر کردی۔ شیخ دیدات کہتے ہیں،’’مَیں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سوال کیا’’ بائبل محمّدﷺکے بارے میں کیا کہتی ہے؟‘‘پادری بلاتأمل بولا،’’ کچھ نہیں‘‘۔ 

مَیں نے کہا،’’کیوں کچھ نہیں؟ آپ لوگوں کے مطابق تو بائبل میں سوویت روس کے عروج، دنیا کے آخری ایّام، حتیٰ کہ رومن کیتھولک پوپ تک کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں، تو آخر محمّدﷺ کے بارے میں اس میں کچھ بھی کیوں نہیں ہے؟‘‘ پادری نے کہا،’’ہاں بائبل میں یہ ساری باتیں تو ہیں، مگر محمّدﷺ کے متعلق اس میں کچھ نہیں ہے۔‘‘ مَیں نے اپنی بات پھر دُہرائی کہ’’آخر کیوں کچھ نہیں ہے۔

محمّدﷺبلا شک و شبہ وہ انسان ہیں، جنہوں نے کروڑوں خدا پرست افراد پر مشتمل ایک ایسی برادری تیار کی، جو اُنھیں اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہوئے ان کے کہنے پر ایمان رکھتی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ معجزانہ طریقے سے پیدا ہوئے، حضرت عیسیٰؑ اللہ کے حکم سے مُردوں کو زندگی‘ پیدائشی اندھوں کو بینائی اور کوڑھیوں کو تن درستی عطا کرتے تھے۔

لہٰذا، بائبل میں انسانیت کے ایک ایسے رہنما کے لیے، جس نے حضرت عیسیٰؑ اور اُن کی والدۂ محترمہ حضرت مریمؑ کے بارے میں اِتنے اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے، ضرور کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔‘‘ احمد دیدات کی ان گزارشات پر اب پادری صاحب کے بجائے اُن کے خسر گویا ہوئے،’’میرے بیٹے! مَیں گزشتہ پچاس برس سے بائبل پڑھ رہا ہوں، اگر اس میں کہیں بھی محمّد(ﷺ)کا کوئی تذکرہ ہوتا، تو مَیں اس سے ضرور واقف ہوتا‘‘۔ اس پر دیدات نے پوچھا،’’ کیا آپ کے مطابق عہدنامۂ قدیم میں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں سیکڑوں پیش گوئیاں موجود نہیں ہیں؟‘‘ 

پادری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا،’’سیکڑوں نہیں، ہزاروں‘‘۔ احمد دیدات نے کہا’’ پرانے عہد نامے میں یسوع مسیح کی آمد پر پیش گوئیوں کے بارے میں کوئی تنازع پیدا کرنا میرا مقصد نہیں، کیوں کہ مسلم دنیا بائبل کی کسی گواہی کے بغیر بھی حضرت عیسیٰؑ پر ایمان رکھتی ہے۔ ہم مسلمان تو صرف محمّدﷺکی اتھارٹی پر یسوع کی شخصیت کو ایک عملی حقیقت مانتے ہیں۔اب مَیں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بائبل میں آنے والی جن ہزاروں پیش گوئیوں کا ذکر آپ کررہے ہیں، کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی ہے، جس میں اُن کا ذکر اُن کے نام کے ساتھ ہو؟

کیوں کہ ’’مسیح‘‘کی اصطلاح تو، جس کا ترجمہ انگریزی میں ’’کرائسٹ ‘‘ کیا گیا ہے، کوئی نام نہیں، بلکہ خطاب ہے۔کیا ایسی کوئی پیش گوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہو کہ مسیح کا نام عیسیٰ یا یسوع، اُن کی ماں کا نام مریم اور ان کے مفروضہ باپ کا نام یوسف نجار ہوگا اور وہ شہنشاہ ہیرودیس کے عہد میں پیدا ہوں گے۔ظاہر ہے، ایسی تفصیلات بائبل کی پیش گوئیوں میں نہیں ہیں، تو پھر آپ یہ نتیجہ کیسے اخذ کرتے ہیں کہ ان کا مصداق حضرت عیسیٰؑ ہیں؟‘‘ پادری نے کہا،’’ دیکھیے، پیش گوئیاں دراصل مستقبل کے واقعات کی لفظی تصویریں ہوتی ہیں۔ 

جب یہ واقعات عملاً ظہور پذیر ہوتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے بارے میں ماضی میں جو پیش گوئیاں کی گئی تھیں، یہ ان کی کسوٹی پر کس حد تک پورا اُترتے ہیں۔‘‘ دیدات نے کہا،’’یعنی ایسی صُورت میں آپ عملاً ظہور پذیر ہونے والے واقعات کا ان پیش گوئیوں سے تقابل کرتے ہیں اور دلائل کی روشنی میں ان کا جائزہ لے کر دیکھتے ہیں کہ یہ واقعات پیش گوئیوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔‘‘ 

پادری نے کہا،’’ بالکل درست، ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔‘‘ اِس پر شیخ دیدات نے کہا’’ اگر آپ یہ طریق کار ان ہزاروں پیش گوئیوں کی صحت کو جانچنے اور انہیں جائز قرار دینے کے لیے روا رکھتے ہیں، جو آپ کے دعوے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں ہیں، تو آخر کیوں نہ ہم بالکل اسی طریقے کو محمّدﷺ کے لیے بھی اختیار کریں؟‘‘ پادری نے دیدات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل مناسب تجویز اور مسئلے کے حل کا درست طریقہ ہے۔

موسیٰ کی مانند نبی کی آمد کی خبر

دیدات نے پادری سے کتاب ’’استثناء‘‘ کو کھول کر ۱۸ ویں باب کی ۱۸ ویں آیت نکالنے کے لیے کہا اور اپنی یادداشت سے کام لیتے ہوئے یہ آیت پڑھی،جس کے الفاظ ہیں،’’مَیں اُن کے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا، وہی وہ اُن سے کہے گا۔‘‘ دیدات نے پوچھا کہ یہ آیت کس کے بارے میں ہے؟ پادری بلا جھجک بولا،’’یسوع کے بارے میں‘‘۔ دیدات نے کہا،’’ اِس میں اُن کا نام تو نہیں بتایا گیا۔‘‘ 

پادری نے جواب دیا،’’ہم اس پیش گوئی کا مصداق یسوع مسیح کو سمجھتے ہیں کیوں کہ وہ اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں۔ اس آیت کے اہم ترین الفاظ ہیں’’تیری مانند‘‘ یعنی موسیٰ کی طرح اور عیسیٰؑ، موسیٰؑ کی طرح ہیں۔‘‘ اب شیخ دیدات کا سوال تھا،’’ عیسیٰؑ، موسیٰؑ جیسے کس طرح ہیں؟‘‘ پادری نے جواباً کہا،’’پہلی بات تو یہ ہے کہ موسیٰؑ بھی یہودی تھے اور عیسیٰؑ بھی۔ اور دوسرے یہ کہ موسیٰ بھی پیغمبر تھے اور عیسیٰ بھی اور یہی وہ بات ہے جو اللہ نے موسیٰ کو بتائی تھی کہ وہ ’’تیری مانند ہوگا‘‘۔ 

شیخ دیدات نے دریافت کیا،’’ کیا آپ موسیٰ اور عیسیٰ میں اس کے سوا بھی کوئی مماثلت سوچ سکتے ہیں؟‘‘ پادری کا کہنا تھا کہ’’ وہ ان دونوں پیغمبروں کے درمیان کسی اور قدرِ مشترک کی نشان دہی نہیں کرسکتا۔‘‘ دیدات نے کہا،’’ اگر یہی دو مماثلتیں اِس پیش گوئی کے امیدوار کی آزمائش کا معیار ہیں، تو اس پر تو موسیٰؑ کے بعد آنے والی بائبل کی دوسری بہت سی اہم شخصیات مثلاً سلیمان، یسعیاہ، حزقی ایل، دانیال، ہوسیع، یوایل، ملاکی، یوحنا وغیرہ بھی پوری اُترتی ہیں، کیوں کہ یہ سب کے سب یہودی تھے اور نبی بھی۔ 

آخر ہم ان رسولوں میں سے کسی کو اس پیش گوئی کا مصداق کیوں نہیں ٹھہراتے، اسے صرف حضرت عیسیٰؑ کے لیے کیوں مخصوص قرار دے رکھا ہے؟‘‘پادری کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ دیدات نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا،’’آپ دیکھیں گے کہ میرے اخذ کردہ نتائج کے مطابق حضرت عیسیٰؑ، حضرت موسیٰؑ سے انتہائی مختلف ہیں۔‘‘

عیسائی عقیدے کی رو سے حضرت عیسیٰ کے چند واضح منفردات

دیدات نے اپنے دلائل کا آغاز یوں کیا،’’سب سے پہلے تو حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ جیسے اس لیے نہیں ہیں کہ آپ لوگوں کے بقول عیسیٰ ایک خدا ہیں، لیکن موسیٰ خدا نہیں ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟‘‘ پادری کا جواب اثبات میں تھا۔ ’’دوسرے یہ کہ آپ لوگوں کے بقول حضرت عیسیٰؑ نے دنیا والوں کے گناہوں کے کفارے میں اپنی جان دی، لیکن حضرت موسیٰؑ کو یوں جان نہیں دینی پڑی، کیا یہ درست ہے؟‘‘ پادری بولا’’بالکل‘‘۔ اُنہوں نے نئی دلیل دی،’’ تیسرے یہ کہ آپ کے مطابق حضرت عیسیٰ تین دن دوزخ میں بھی رہے، لیکن حضرت موسیٰؑ کو وہاں نہیں جانا پڑا، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟‘‘ 

پادری نے بولا،’’جی‘‘۔ شیخ دیدات بات کو نئے موڑ پر لاتے ہوئے بولے،’’ لیکن یہ ٹھوس، قطعی اور محسوس حقائق نہیں ہیں۔ یہ محض عقائد کے معاملے ہیں، جن میں الجھ کر ایک عام آدمی ٹھوکر بھی کھا سکتا ہے۔لہٰذا، کیوں نہ ہم چند بہت سادہ اور بہت آسان پہلوؤں پر بات کریں۔‘‘ پادری صاحب اس تجویز پر بہت خوش ہوئے۔چناں چہ اس کے بعد اُنہوں نے بالکل واضح حقائق کی بنیاد پر اپنے دلائل شروع کیے اور پادری حضرات سے پوچھتے رہے کہ کیا ان کی بات درست ہے اور ہر مرتبہ ان کی جانب سے شیخ دیدات کی دلیل کے درست ہونے کی توثیق کی گئی۔

حضرت موسیٰ اور حضرت محمّدؐ میں گہری مماثلت

جناب دیدات کے دلائل یہ تھے کہ موسیٰؑ اور حضرت محمّدﷺ کی ولادت ماں، باپ کے فطری ملاپ سے ہوئی، جب کہ حضرت عیسیٰؑ کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمّدﷺنے شادیاں کیں، جب کہ حضرت عیسیٰ کنوارے رہے۔حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمّدﷺکو ان کی قوموں نے نبی مان لیا، لیکن حضرت عیسیٰ کی قوم یعنی بنی اسرائیل نے اُنہیں تسلیم نہیں کیا۔

حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمّدﷺکو ان کی قوموں پر اقتدار حاصل تھا، جب کہ حضرت عیسیٰؑ کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمّدﷺدونوں نئی شریعت لے کر آئے، جب کہ حضرت عیسیٰؑ کا مشن توراۃ کی تعلیمات کو زندہ کرنا تھا۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمّدﷺدونوں دنیا سے طبعی وفات کے نتیجے میں رخصت ہوئے، جب کہ حضرت عیسیٰؑ کو انجیل کے مطابق بڑی بے رحمی کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ 

حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمّدﷺ کی باقاعدہ تدفین عمل میں آئی، جب کہ حضرت عیسیٰؑ عیسائی عقیدے کے مطابق جنّت میں مقیم ہیں۔ دیدات کے پیش کردہ کسی ایک نکتے کی بھی پادری صاحبان نے تردید نہیں کی اور اس طرح عملاً تسلیم کرلیا کہ حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ کی مانند نہیں، بلکہ ان سے سراسر مختلف تھے، جب کہ حضرت محمّدﷺہر حوالے سے حضرت موسیٰؑ کی مانند تھے۔دیدات نے کہا،’’اب تک مَیں بائبل کی پیش گوئی کے صرف ایک حصّے یعنی’’وہ نبی موسیٰ کی مانند ہوگا‘‘ کو ثابت کر رہا تھا، لیکن اس پیش گوئی میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

اب ہم جن الفاظ پر غور کریں گے، وہ ہیں،’’اُن کے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے‘‘۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم یعنی یہودیوں سے یہاں ایک نسلی وحدت کے طور پر خطاب کیا جارہا ہے اور جن لوگوں کو ان کا بھائی قرار دیا جارہا ہے، وہ عربوں کے سِوا کوئی اور نہیں ہوسکتے، کیوں کہ یہودی، حضرت ابراہیم کے چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق کی اولاد ہیں اور عرب حضرت ابراہیم کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کی اولاد۔ 

اس لیے ان دونوں بھائیوں کے بچّے بھی ایک دوسرے کے بھائی ہوئے۔ محمّدﷺ، حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل کے بھائی ہیں۔ یہ پیش گوئی صاف صاف بتاتی ہے کہ اس کے مطابق موسیٰ ؑکی مانند آنے والا نبی خود یہودیوں یعنی بنی اسرائیل میں سے نہیں، بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہوگا، یوں محمّدﷺ اس پیش گوئی کے ان الفاظ کے بھی پوری طرح مصداق ہیں۔ دیدات نے پیش گوئی کے اگلے الفاظ کو موضوعِ سخن بنایا،’’اور اپنا کلام مَیں اس کے منہ میں ڈالوں گا۔‘‘ 

اُنہوں نے وحی کا طریقہ بتایا کہ حضرت جبرائیلؑ قرآن کے الفاظ بولتے تھے اور رسول اللہﷺ اُنہیں دُہراتے جاتے تھے اور یہ طریقہ بالکل الفاظ منہ میں ڈالنے کے مترادف ہے۔پہلی وحی کے لیے جب حضرت جبرائیل ؑآپؐ کے پاس آئے اور کہا،’’اقراء‘‘ یعنی’’ پڑھو‘‘، تو حضورﷺ اس غیر متوقّع صُورتِ حال سے پریشان ہوگئے اور فرمایا،’’ مَیں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس کے بعد آپ گھر پہنچے، تو پسینے میں شرابور اور گھبرائے ہوئے تھے، آپ ؐ نے اپنی اہلیہ محترمہ، حضرت خدیجہؓ سے اپنی جان کے خطرے میں ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، انھوں نے تسلّی دی کہ آپؐ اللہ کے نیک اور پارسا بندے ہیں، اس لیے وہ آپؐ کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔جناب دیدات نے یہ تفصیلات بیان کرکے بات اس نتیجے پر پہنچائی کہ یہ کیفیات کسی جھوٹے شخص کی نہیں ہوسکتیں، یہ ردّعمل ایک دیانت دار، مخلص اور راست باز انسان ہی کا ہوسکتا ہے۔

بائبل میں محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی اُمّی ہونے کا ذکر

اب جناب دیدات نے کہا،’’ جو تجربہ محمّدﷺکو غارِ حرا میں ہوا اور آپؐ کی جانب سے جو ردّعمل سامنے آیا، اس سے بائبل کی ایک اور پیش گوئی کی تکمیل ہوتی ہے۔‘‘ اُنہوں نے انگریزی بائبل کے شاہ جیمز یعنی منظور شدہ نسخے سے کتاب یسعیاہ کے ۲۹ ویں باب کی ۱۲ ویں آیت کے یہ الفاظ پڑھے "AND THE BOOK IS DELIVERED TO HIM THAT IS NOT LEARNED SAYING:READ THIS I PRAY THEE AND HE SAID I AM NOT LEARNED." دیدات نے اپنا دعویٰ یوں ثابت کیا،’’ غور سے دیکھیے، اس آیت میں’’دی بُک‘‘ کا لفظ ٹھیک ان ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے، جن معنوں میں قرآن کے لیے’’ الکتاب‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور ’’دیٹ از ناٹ لرنڈ‘‘ کے الفاظ ٹھیک ٹھیک ’’النبی الامّی‘‘ کی اصطلاح کی ترجمانی کرتے ہیں۔ 

پھر ’’الکتاب‘‘ کے دیے جانے پر جواباً یہ کہا جانا کہ’’آئی ایم ناٹ لرنڈ‘‘ ہو بہو ’’ما انا بقارء‘‘ کے الفاظ کا ترجمہ ہے، جو حضورﷺنے حضرت جبرائیلؑ کی طرف سے’’اِقراء‘‘کی ہدایت پر زبان مبارک سے ادا کیے، جس کے معنی ہیں ’’مَیں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘۔ اِس مباحثے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پادری صاحبان نے احمد دیدات کے دلائل کی تعریف کی اور انھیں اپنے سالانہ مذہبی اجتماع میں بُلانے اور خطاب کا موقع دینے کا وعدہ کیا، لیکن یہ دعوت کبھی موصول نہیں ہوئی۔

سنڈے میگزین سے مزید