• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تائیوان تنازعے پر چین، امریکا آمنے سامنے

گو کہ تائیوان، چین کا حصّہ ہے، لیکن یہ چین اور امریکا کے درمیان تنازعے کا سبب بھی ہے۔حالیہ دنوں میں ایک بار پھر تائیوان کی صُورتِ حال پر امریکا اور چین کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا۔معاملات کی سنگینی کا اندازہ اِس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس کے بعد کہیں جاکر معاملات ٹھنڈے ہوئے۔صدر شی جن پنگ نے چین میں بادشاہت کے خاتمے کی 110 سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ تائیوان کا اتحاد مکمل ہونا چاہیے۔‘‘

تاہم ،چینی صدر نے واضح کیا کہ یہ اتحاد پُرامن طریقے سے ہونا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اُنہوں نے خبردار کیا کہ چینی عوام علیٰحدگی پسندی کی مخالفت کی ایک عظیم روایت رکھتے ہیں۔ چینی صدر سے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد صدر جوبائیڈن نے کہا کہ’’ مَیں نے چین پر واضح کردیا کہ’’ امریکا وَن نیشن، ٹُو سسٹمز‘‘ کے تحت تائیوان پالیسی پر کاربند ہے۔‘‘ امریکا کے تائیوان کے ساتھ سرکاری تعلقات نہیں ہیں، تاہم وہ ایک قانون کے تحت اِس جزیرے کو تحفّظ فراہم کر سکتا ہے اور وہ اسی بنیاد پر تائیوان کو فوجی ٹیکنالوجی اور دیگر ساز و سامان دیتا ہے۔تائیوان کی حکم ران، سوئی اینگ وین نے پچھلے دنوں بیان دیا کہ’’ مُلک کا مستقبل اس کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘ 

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ تائیوان اپنی سلامتی کو مضبوط کرتا رہے گا تاکہ کوئی بھی جزیرے میں طاقت کا استعمال نہ کرسکے۔‘‘ اگر اِس نئے تنازعے کی ٹائمنگ دیکھی جائے، تو معاملات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔یہ وہ وقت ہے، جب امریکا، ایشیا کے دوسرے خطّوں سے نکل کر جنوب مشرقی ایشیا میں، جسے وہ انڈو پیسیفک کہتا ہے، پوری طرح داخل ہوگیا ہے۔ وہ بار بار نہ صرف اپنی اِس موجودگی کا اعلان کر رہا ہے، بلکہ تیزی سے ایسے جارحانہ اقدامات بھی کر رہا ہے، جس سے اُس کی موجودگی مستحکم ہو۔اِن اقدامات میں’’ آکوس معاہدہ‘‘ سب سے اہم ہے، جس کے تحت آسٹریلیا کو 12 نیوکلیئر آب دوزیں دی جائیں گی۔اِس کے علاوہ، کواڈ فورم کا غیر معمولی طور پر فعال ہونا اور آسیان کی بڑھتی کارکردگی بھی اِسی جانب اشارہ ہے۔

تائیوان اور چین 1940 ء کی خانہ جنگی کے دَوران تقسیم ہو گئے تھے۔تاہم چین، تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے، جب کہ تائیوان خود کو ایک آزاد و خود مختار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔دنیا کے بیش تر ممالک چین کا مؤقف تسلیم کرتے ہیں، جب کہ15 ممالک تائیوان کی آزاد حیثیت کے بھی حامی ہیں۔تائیوان جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے۔تقسیم کے وقت اسے’’ فارموسہ‘‘ کہا جاتا تھا اور چیانگ کائی شیک اُس کے لیڈر تھے، جن کی پارٹی’’ کومنٹنگ‘‘ کہلاتی تھی۔ 

چین کا سرکاری نام’’ پیپلز ری پبلک آف چائنا‘‘ہے اور اُس کے لیڈر مائوزے تنگ تھے۔چین کا نظام کمیونسٹ ہے، جب کہ تائیوان میں صدارتی جمہوریت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔اس کی سرحدیں چین (جس کا وہ حصّہ ہے)،جاپان اور فلپائن سے ملتی ہیں۔تائپے اس کا دارالحکومت ہے، جب کہ آبادی23 ملین کے لگ بھگ ہے۔اس کا دنیا کے گنجان آباد علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔اِسے عالمی سیاست کا عجوبہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں تائیوان کو ری پبلک آف چائنا قرار دے کر1971 ء تک چین کی جگہ رُکن رکھا گیا۔

1971ء میں چین کو اقوامِ متحدہ کی رُکنیت ملی، جس کا وہ ہمیشہ سے ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے حق دار تھا۔ یاد رہے، یہ وہی سال ہے، جب امریکا نے چین کو تسلیم کیا اور صدر نکسن نے چین کا تاریخی دَورہ کیا، جس میں پاکستان نے اہم سہولت کاری کی۔ہنری کسنجر کے دورۂ چین میں بھی پاکستان کا کردار تاریخ کا حصّہ ہے۔آج چین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کے پانچ مستقل ارکان میں شامل ہے۔تائیوان کی اصل پہچان اُس کی اقتصادی ترقّی ہے۔

1960 ء کے بعد سے اُس نے زبردست معاشی ترقّی کی اور وہ نہ صرف علاقے، بلکہ دنیا میں ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کے ایک حب کے طور پر سامنے آیا۔کہا جاتا ہے کہ اِس وقت وہ جاپان کے بعد جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے تیز رفتار ترقّی کرنے والا علاقہ بن گیا ہے۔تائیوان، سنگاپور، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا کے ساتھ ایشین ٹائیگرز میں شامل ہے۔غالباً یہی اقتصادی ترقّی اُس کے برقرار رہنے کی وجہ بھی بنی ہوئی ہے، اِسی لیے سرکاری طور پر تسلیم نہ کرنے کے باوجود اکثر ممالک اُس سے تعلقات رکھتے ہیں۔

اگر تائیوان کے قائم رہنے کی ایک وجہ اُس کی غیر معمولی اقتصای ترقّی ہے، تو دوسرا سبب امریکا کی مدد ہے۔امریکا نے اس کی حفاظت کا اُسی طرح ذمّہ لیا ہوا ہے، جیسے ایک زمانے میں جاپان کا لیا تھا۔تاہم، تائیوان کے پاس اپنی فوج بھی ہے، جس کی تعداد تین لاکھ بتائی جاتی ہے اور جو شاید اِس علاقے میں چین اور شمالی کوریا کے بعد سب سے بڑی فوج ہے۔امریکا اسے جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر فوجی سازو سامان فراہم کرتا ہے۔ایف۔16 لڑاکا طیاروں کی ایڈوانس قسم اُسے دی گئی ہے، جس پر چین نے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے احتجاج بھی کیا۔ 

چند سال قبل امریکا اور چین کے درمیان تلخی کی ایک بڑی وجہ یہی ایشو تھا۔تائیوان نے اُسی زمانے میں اقتصادی ترقّی کی، جب جاپان دنیا کی دوسری اقتصادی قوّت بن رہا تھا، چوں کہ دونوں امریکا کے قریبی اتحادی اور جنوب مشرقی ایشیا میں موجود ہیں، اِس لیے تائیوان نے جاپانی ماڈل اپنایا اور اس سے بہت زیادہ مدد حاصل کی، اِسی لیے باقی ایشین ٹائیگرز کے مقابلے میں وہ اقتصادی افق پر پہلے نمودار ہوا۔حالیہ کشیدگی اپنی جگہ، لیکن چین اور تائیوان کے گزشتہ عشروں میں خاصے اچھے تعلقات رہے ہیں، جس کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ تائیوان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔

روزانہ کئی پروازیں لوگوں کو ایک دوسرے کے حصّوں میں لے کر آتی، جاتی ہیں۔اس کے علاوہ، دونوں کے درمیان زمینی راستے بھی کُھلے ہوئے ہیں۔چین اِس امر سے بخوبی واقف ہے کہ تائیوان کو امریکا اور جاپان نے بہت ترقّی یافتہ ٹیکنالوجی دی ہے، اِسی لیے دونوں کے درمیان تلخ بیانات اور کچھ غیر معمولی اقدامات کے باوجود مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے۔جنوب مشرقی ایشیا کی انتہائی تیز رفتار اقتصادی ترقّی کے اثرات علاقے کی سیاسی صُورتِ حال پر بھی مرتّب ہو رہے ہیں۔

جس کی واضح جھلک چین اور تائیوان کے تعلقات میں دیکھی جاسکتی ہے۔اگرچہ دونوں حصّوں کے درمیان سیاسی پیش رفت سُست رہی، تاہم اقتصادی اور اسی پس منظر میں عوامی رابطوں میں بہت تیزی آئی ہے۔تائیوان کی کمپنیز نے چین میں تقریباً60 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے، تو وہاں کی بہت سی فیکٹریز بھی چین میں کام کر رہی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق، دس لاکھ تائیوانی باشندے چین میں سکونت اختیار کرچُکے ہیں۔

اِن دنوں امریکا کی پوری توجّہ انڈو پیسیفک پر ہے، جس کا تائیوان ایک اہم حصّہ ہے۔ ظاہر ہے، اس علاقے میں دیکھی جانے والی ہل چل کا تعلق امریکا جیسی سُپر پاور سے ہے، جو اپنی قوّت منوانا چاہتا ہے۔آج کے حالات اُس دَور سے یک سَر مختلف ہیں، جب رواں صدی کے اوائل میں تائیوان ایشین ٹائیگر تھا۔یہ تبدیلی چین کے عالمی اور علاقائی طاقت کے طور پر مستحکم پوزیشن حاصل کرنے کی وجہ سے رونما ہوئی ہے۔شاید ہی جنوب مشرقی ایشیا کا کوئی مُلک آج چین کے اقتصادی اثرات سے الگ ہو سکتا ہو۔ 

اِس کا یہ مطلب بھی ہوا کہ علاقے کی اقتصادی اسپیس میں چین پھیلتا جارہا ہے اور باقی ممالک سُکڑ رہے ہیں۔جاپان دوسری بڑی اقتصادی قوّت سے تیسرے نمبر پر آگیا۔ 1996ء میں ہانگ کانگ میں ایک سو سالہ برطانوی راج کا اختتام ہوا اور وہ چین سے دوبارہ مل گیا۔گو اُس کی حیثیت بھی اُسی چینی سیاسی فلسفے کے تحت برقرار رکھی گئی ، جسے’’ وَن نیشن، ٹُو سسٹمز‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اِس فارمولے کے تحت وہاں جو نظام، یعنی مغربی جمہوریت طرز کی حکومت چل رہی تھی، اُسے ویسا ہی رکھا گیا اور ایک ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چین کی حاکمیتِ اعلیٰ قائم کی گئی، لیکن گزشتہ برسوں میں ہانگ کانگ میں خاصے احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، جنہیں مغربی دنیا کی مدد حاصل رہی۔ چین نے وہاں اپنی حاکمیتِ اعلیٰ آہستہ آہستہ مضبوط کرنا شروع کردی ہے اور ایسے قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں، جن سے ہانگ کانگ کی گزشتہ حیثیت، جسے وہ’’ آزادی‘‘ کہتے ہیں، محدود ہو رہی ہے۔البتہ، چین نے اپنی روایت کے مطابق ابھی تک فوجی طاقت کا استعمال نہیں کیا، جس کی وجہ سے مغربی تنقید انسانی حقوق ہی تک ہی محدود ہے۔یہی معاملہ تائیوان کا ہے اور چین وہاں بھی یہی ماڈل استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

چین اور تائیوان کی حالیہ کشیدگی کی وجہ فوجی طیاروں کی وہ پروازیں بنیں، جو اُس نے تائیوان کی فضا میں کیں۔یہ تائیوان کے قومی دن سے ایک روز قبل کا واقعہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اِن پروازوں کا مقصد تائیوان کی قیادت کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ایک حد سے آگے نہ جائیں۔ شاید ایسا کرنا اِس لیے بھی ضروری سمجھا گیا کہ تائیوان کی حکم ران اِن دنوں آزادی کا کچھ زیادہ ہی کُھل کر ذکر کر رہی ہیں۔گو کہ ایسا واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، لیکن اِس مرتبہ حالات خطّے میں امریکی موجودگی کے سبب زیادہ کشیدہ ہوئے۔ 

جب کشیدگی خطرے کے نشان کو چُھونے لگی اور تائیوان کے وزیر دفاع نے کہا کہ’’ چالیس سال میں پہلی بار حالات اِس قدر کشیدہ ہوئے ہیں،‘‘ تو امریکا اور چین کے صدور کے درمیان وہ ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس کا ابتدائی سطور میں ذکر ہو چُکا ہے۔یہ گزشتہ دو ماہ میں دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان دوسرا رابطہ تھا۔صدر جوبائیڈن نے امریکا کی اِس پالیسی کا اعادہ کیا کہ امریکا، چین کا حق تسلیم کرتا ہے، تاہم اُسے بھی تائیوان کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔

فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ سالوں میں یہ کشیدگی کسی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے، خاص طور پر امریکا کے خطّے میں آنے اور جاپان کے فوجی طاقت بننے کے بعد جنگ کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔چین کی فوجی طاقت تائیوان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ دفاع پر اُس کے مقابلے میں 25 فی صد زاید خرچ کرتا ہے۔ فوجی توازن ہر شعبے میں چین کے حق میں ہے۔میزائلز سے لے کر لڑاکا طیاروں تک اُسے واضح برتری حاصل ہے اور پھر یہ بھی کہ وہ ایک ایٹمی طاقت ہے، جس کا وہ بہت کم ذکر کرتا ہے۔تاہم، تائیوان نے بھی اپنی حد تک پوری تیاری کر رکھی ہے۔اُس کے قدرتی دفاعی نظام کا بہت ذکر ہوتا ہے، جو اُسے پہاڑوں کے سائے میں میّسر ہے۔علاوہ ازیں، فوجی تجزیوں میں اُس کے میزائل دفاعی نظام کا بھی چرچا ہے، جسے ہدف پر پہنچنے سے قبل مشکل ہی سے ٹریس کیا جاسکتا ہے۔نیز، اُسے امریکا کی دفاعی چھتری بھی میّسر ہے، جو ایک معاہدے کے تحت اُس کے حق میں استعمال کی جاسکتی ہے۔

چین، تائیوان اور امریکا جنگ کے نتائج سے بخوبی واقف ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دَوران چین سمیت جنوب مشرقی ایشیا نے شدید نقصانات اور تباہی کا سامنا کیا۔ اِسی لیے وہاں اب کوئی جنگ کا نام بھی نہیں لیتا۔ یاد رہے، چین اُس جنگ میں اتحادیوں کے ساتھ تھا اور اُسے جاپان پر ایٹم بم گرائے جانے کے بعد ہی اُس سے آزادی حاصل ہوئی تھی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں ایک کے بعد دوسرا مُلک اقتصادی ترقّی اور معیشت کی کام یابی کی مثال بنتا جا رہا ہے۔

رواں صدی کے پہلے عشرے تک اقتصادی ماہرین اِس امر پر متفّق ہوچُکے تھے کہ جنوب مشرقی ایشیا دنیا کا سب سے ترقّی یافتہ خطّہ بن چُکا ہے۔ چین کی عالمی اقتصادی قوّت بننے کے بعد تو یہ علاقہ صرف اور صرف اقتصادی ترقّی کا محور ہے۔امریکا تو یہاں اب آیا ہے، جب کہ چین اور تائیوان ہمیشہ سے یہاں موجود ہیں اور وہ معاشی کام یابیوں میں کمی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اِس کی ایک بڑی مثال شمالی کوریا ہے، جسے ٹرمپ نے’’ ڈی نیوکلیئر زون‘‘ بنانے پر راضی کر لیا اور چین، جو اُس کا واحد اتحادی تھا، اُس پر پابندیوں کے باوجود خاموش رہا۔ 

شمالی کوریا میزائلز وغیرہ کے تجربات کے سبب علاقے کا’’ مِس فِٹ مُلک‘‘ لگتا ہے اور اِسی وجہ سے وہ مکمل تنہائی کا شکار ہے۔اُس کی فوجی طاقت یا ایٹمی دھمکیاں شاید ہی کسی کو مرعوب کرنے کا ذریعہ بنتی ہوں، بلکہ اِس قسم کی فضول حرکتوں کی وجہ سے وہ بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ اِسی پس منظر میں چین کے صدر شی جن پنگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ تائیوان سے اتحاد پُرامن طریقے سے ہونا چاہیے، جو چینی قوم اور تائیوان کے عوام کے مکمل مفاد میں ہوگا۔‘‘

اُنھوں نے اعلان کیا کہ مادرِ وطن کے مکمل انضمام کا تاریخی کام ضروری ہے، جسے ہر صُورت کیا بھی جائے گا۔دوسری طرف، امریکا کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے تائیوان میں کسی بھی ایسی کارروائی کے خلاف مزاحمت کرے گا، جس سے خطّے میں امن اور استحکام کو نقصان پہنچے۔اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی کوشش کی گئی، تو کشیدگی کس سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید