| |
Home Page
اتوار 27 ذیقعدہ 1438ھ 20 اگست 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
March 21, 2017 | 12:00 am
سررہ گزر

Sar E Rehguzar

٭٭٭٭٭
’’پھلوں‘‘ میں رنگ بھرے باد زہر بار چلے!
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے: پھلو ں کو رنگ کر کے فروخت کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ہم بڑے اعتماد کے ساتھ بے دھڑک پھل کھاتے تھے کہ آخر قدرت کی بنائی اشیا میں ملاوٹ کیسے کرینگے، اور آج یہ خبر وزیراعلیٰ پنجاب کے ذریعے سامنے آئی کہ یہ جو ہم سیب، انار، امرود، کیلا، کینو، مالٹا وغیرہ وغیرہ کھاتے ہیں ان کو بھی پھل فروش جاذب نظر بنانے کیلئے زہریلے رنگوں میں رنگ دیتے ہیں اورخریدار دھڑا دھڑ خریدتے اور کھاتے ہیں، ریڈ بلڈ مالٹا بھی خوب چلتا ہے جسے سرخ رنگ کا ٹیکا لگا دیا جاتا ہے، ملاوٹ، اب ایک موذی آرٹ انڈسٹری بن چکی ہے، وزیراعلیٰ خود انڈسٹریلسٹ ہیں آخر کس کس انڈسٹری کو بند کرینگے، اگرچہ وہ ایماندار کارخانہ دار ہیں، مگر یہ جو ملاوٹ انڈسٹری ہے یہ تو انڈسٹری کو قدر مشترک سمجھ کر ان سے رشتہ جوڑ کر خوب مال جوڑ رہی ہے۔ ہمارے ہاں اب صنعتی ترقی زوروں پر ہے، تعلیم انڈسٹری، ملاوٹ انڈسٹری، نوسر باز انڈسٹری وغیرہ وغیرہ یہ ملاوٹ کہیں ہماری روحوں میں تو سرایت نہیں کر گئی کہ روحانیت بھی سربازار بکنے لگی ہے، بات ہورہی تھی زہریلے رنگوں میں رنگے پھلوں کی، اور مہدی حسن مرحوم بھلے وقتوں میں یہ غزل اصلی حالت میں گا گئے کہ
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے
آج زندہ ہوتے تو یوں گانے پر مجبور ہوتے
پھلوں میں رنگ بھرے باد زہر بار چلے
ابھی نہ آئو صنم کہ زہر فروشی کا کاروبار چلے
٭٭٭٭٭
کوئی وصل کی بات کرو بڑا اندھیرا ہے!
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ فرماتے ہیں: رویہ نہ بدلا تو وفاقی اداروں کا بوریا بستر گول کردینگے، ممکن ہے وفاق پنجاب کو سگا اور سندھ کو سوتیلا سمجھتا ہو مگر وزیراعلیٰ سندھ یوں بھی اپنے حق کیلئے کہہ سکتے تھے کہ وفاق نے سندھ سے امتیازی رویہ جاری رکھا تو ہم بھی وفاقی اداروں کو برداشت نہیں کرینگے، جس جملے میں ’’ورنہ‘‘ آجائے۔ وہ دھمکی بن جاتا ہے، ہم اعتراض نہیں کرتے کیونکہ صرف وزیراعلیٰ سندھ کی بات نہیں، ہم سب جو بات جی کر کے کہہ سکتے ہیں وہ ہاں کہہ کر کیوں کرتے ہیں، ادب ایک قرینہ ہے مہذب قوموں کا، سندھ کے لیڈرز اکثر پنجاب کے بارے یہ کیوں کہتے ہیں کہ پنجاب اور سندھ کیلئے احتساب کے الگ پیمانے کیوں؟ جیسا کہ شرجیل میمن نے کہہ دیا ہے اور یہ عجب منطق ہے کہ احتساب کا مطالبہ ہر کوئی کرتا ہے احتساب کا سامنا کرنے کو کوئی تیار نہیں، وفاقی حکومت کے ادارے آخر ایسا کیا سندھ کے ساتھ کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے ان کو نکال باہر کرنے کی دھمکی دیدی، یہ سندھ پنجاب کا تفرقہ ڈالنا اچھی بات نہیں، نفرتوں کو ہوا دینا ہے، آخر ہم ایک پاکستان میںاور کتنے پاکستان بنانا چاہتے ہیں سوال ہے شرجیل میمن سے، خدا کیلئے کوئی اتحاد و اتفاق کی بات کریں، کیا ہمارے دشمن کافی نہیں اس کام کیلئے کہ ہم بھی ان کی تمنا پوری کرنے میں لگ جائیں، اور خدا کا واسطہ ہے وفاقی حکومت کو کہ وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے تاکہ یہ سندھی پنجابی منافرت پھیلانے کے غبارے سے تو ہوا نکلے، سندھ، باب الاسلام ہے، اس کی پہچان برصغیر میں اسلام کے پھیلائو کا پہلا بڑا پڑائو ہونا ہے، اب قومیتی اور لسانی بنیادوں پر یہ سندھی پنجابی بلوچ پٹھان کی اکائیوں پر سیاسی لڈو کھیلنا بند کیا جائے، یہ تسلیم ہے کہ یہ چاروں قومیتیں اور ان کی زبانیں ایک حقیقت ہیں مگر کسی حقیقت کو قومی بٹوارے کیلئے استعمال کرنا ہمارے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ بن سکتا ہے فاعتبروا یا اولی الابصار۔
٭٭٭٭٭
پرانی کھیپ کے انڈے ہیں گندے
آصف علی زرداری: نوازشریف کے پاس اخلاقی طور پر وزیراعظم رہنے کا جواز نہیں آئندہ انتخابات اور ان سے پہلے بڑے سرپرائز دینگے۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں کہ کسی کے پاس وزیراعظم رہنے اور کسی کے پاس ملک میں رہنے کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ بہرحال یہ پاکستان بنا یا کس نے تھا اور اس میں رہتے وکھری ٹائپ کے لوگ ہیں، جو ہر روز ترقی معکوس کا ایک نیا قدم اٹھاتے اور سر اٹھا کر چلتے ہیں، جنہیں اس ملک سے سچا پیار ہے وہ ’’نیویں نیویں‘‘ ہو کر ٹائم پاس کرتے ہیں اور یہ رسم بھی عام ہے کہ اکثر چھلنی لوٹے سے کہتی ہے تم میں دو سوراخ ہیں، اب یہ تو آپ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ چھلنی کون کون ہیں اور لوٹا کون کون، بہتر ہے کہ اخلاقیات کا حوالہ نہ ہی دیا جائے، جس نے بھی بداخلاقی کرنی ہے کرے اخلاق کو بیچ میں نہ ہی لائے کہ عوام سب کی ساری فلاپ فلمیں بار بار دیکھ چکے ہیں، اس نقارخانے میں اب نقارے بجانےکی ضرورت نہیں صرف طوطی کو بولنےدیں کہ اس کی آواز بھی دب گئی کہ اشرافیہ کے مقدس لاشے ظلم کے قبرستانوں سے برآمد ہونگے، غریبوں کی اکثریت، ایک مخصوص اقلیت کو برسراقتدار لانے پر مجبور ہے کیونکہ؎
’’پرانی کھیپ‘‘ کے انڈے ہیں گندے
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
روز پڑھتے سنتے دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ذراسی غلطی پر یا کسی الزام لگنے پر شرفا اخلاقاً چپکے سے گھر چلے جاتے ہیں، مگر ہمارے حکمرانوں سیاستدانوں اور دانوں نادانوں کا تو گھر ہی اقتدار محل ہے وہ جائیں تو جائیں اور کہاں۔
٭٭٭٭٭
حضرت واعظ ہیں راضی رقص پردیر کیا ہے اب پڑے طبلے پر تھاپ
٭....اعتزاز احسن: عدالت نے نوازشریف کوبلایا نہ دستاویزات مانگیں، ہاتھ نرم رکھا۔بات سچ بھی نہیں اور بات ہے کنٹیمپٹ آف کورٹ کی،
٭....اہلیہ باکسر عامر خان فریال مخدوم: سسرال میں پریوں جیسی زندگی سوچی تھی،تمام پریاں یہی سوچتی ہیں مگر لڑکیاں اس طرح نہیں سوچتیں وہ سسرال کو خود اپنے لئے جنت بناتی ہیں۔
٭....شہباز شریف: خدارا ینگ ڈاکٹرز احتجاج چھوڑ کر دکھی انسانیت کا ہاتھ تھام لیں،یہ بات اولڈ ڈاکٹرز سے بھی کہیں، ینگ ڈاکٹرز بیمار بوڑھے ہاتھ کیسے تھام لیں؟
٭....پروفیسر ساجد میر:لبرل ازم نہیں محمد عربیﷺ کا نظام چلے گا،مگر ہمیں تو بتایا گیا ہے کہ نبی رحمتؐ انسانی آزادیوں کی تعلیم دیتے تھے، اور آزادی تو آزادی ہوتی ہے آوارگی نہیں، انسان کو جائز آزادی مل جائے یہی محمد عربیؐ کا نظام ہے۔
٭....فوزیہ صدیقی: میری بہن عافیہ صدیقی کو حسین حقانی نے پھنسوایا،حسین حقانی نے عافیہ صدیقی کوبھی کسی کے کہنے پر پھنسوایا ہوگا، کیونکہ اپنے دور سفارت میں وہ حکومت کے ہر حکم کے پابند تھے، اب وہ غلط حکم کی خاطر سفارت جیسا عہدہ تو نہیں چھوڑ سکتے تھے۔
٭٭٭٭٭

.