| |
Home Page
جمعہ 25 ذیقعدہ 1438ھ 18 اگست 2017ء
مشتاق احمد قریشی
March 21, 2017 | 12:00 am
پاکستانی ٹائیگربلوچستان

Pakistani Tiger Baluchistan

گوادر پاکستان کی پہلی بندرگاہ ہے جس کی تعمیر میں نہ صرف ملکی وسائل کا استعمال ہواہے بلکہ بیرونی وسائل بھی استعمال ہوئے ہیں چین سے قبل گوادر بندرگاہ کو ملائیشیا کے زیر انتظام لانے کا معاہدہ ہوا جو بہ وجوہ نا تمام رہا اب چین نے نہ صرف اس کا انتظام و انصرام سنبھال لیا ہے بلکہ اس کی تعمیر و ترقی میں جی کھول کر سرمایہ کاری بھی کر رہاہے اس بندرگاہ سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے ہی ایک عظیم الشان سڑک چین تا گوادر تعمیر کی جا رہی ہے جسے پاک چین راہداری کا نام دیا گیا ہے گوادر جو ابھی چند سالوں قبل تک باوجود اس کے کہ وہاں بندرگاہ تعمیر ہوچکی تھی اجاڑ و ویران تھا گوادر کی بستی ہر قسم کی بنیادی ضروریات سے محروم تھی گو کہ گوادر شہر کو از سر نو تعمیر کرنے کے لئے گوادر کے ترقیاتی ادارے نے لوگوں کو بڑی ترغیبات دیں لینڈ مافیا نے ادارہ ترقیات گوادر سے زمین کے بڑے بڑے حصے حاصل کر کے اپنے اپنے تعمیری منصوبوں کا اعلان بھی کیا لیکن سرمایہ کاری کرنے والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی وقت کی نبض کو پہچاننے والے پانچ ستارہ ہوٹل کے مالک نے وہاں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہی اپنا فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر بھی کرلیا لیکن لوگوں کو گوادر کی طرف مائل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا کچھ دور اندیش سرمایہ کاروں نے آنے والے اچھے وقت کی امید پر اور کالے دھن کو سفید کرنے کی نیت سے وہاں زمینوں میں سرمایہ کاری کی تھی جسے اب پر لگ رہے ہیں چین نے تو جیسے گوادر کی قسمت ہی بدل دی ہو جب سے سی پیک کا منصوبہ شروع ہوا ہے لوگوں کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا ہے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گوادر کا رخ کرلیا ہے نہ صرف لوگوں کو بلکہ حکمرانوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ بلوچستان کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بھی تقدیر بدلنے والی ہے اب تیزی سے گوادر میں ترقیاتی کام شروع ہوچکے ہیں وہ دن دور نہیں جب گوادر اپنی بندرگاہ کے حوالے سے کراچی کی بندرگاہ کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان نے گوادر کا دورہ کیا اور کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ٹائیگر بنے گا اللہ کرے کہ ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور واقعی گوادر کے ذریعے بلوچستان میں نئی صبح طلوع ہو اور بلوچستان کا احساس محرومی دور ہو،وزیر اعظم کے گوادر میں کیے گئے اعلانات اور اعلان کردہ فنڈز اگر واقعی دیانت داری سے جاری کردئیے جائیں تو یقیناً گوادر ایک نئے اور خوب صورت شہر کے طور پر ابھرے گا اور اس سے اس بندرگاہ کی اہمیت و وقعت میں اضافہ ہوگا جیسا کہ میاں نواز شریف نے گوادر میں اعلان کیا ہے کہ شہر کے لئے یونیورسٹی قائم کی جائے گی اور ایک جدید ترین اسپتال تعمیر کیا جائے گا اور گوادر کو جدید بنانے کے لئے اس کی گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے ایک ارب کی خطیر رقم دی جا رہی ہے گوادر کے عوام جو مدتوں سے احساس محرومی کا شکار پسماندگی اور غربت کی زندگی گزار رہے تھے اور غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے رحم و کرم پر پل رہے تھے،نےان اعلانات کے بعد سکھ کا سانس لیا انہیں امید نظر آرہی ہے کہ اب ان کے علاقے کی تقدیر بدلنے کو ہے۔ چین اپنے منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیتا ہے تو واقعی نہ صرف گوادر بلکہ بلوچستان میں خوشحالی اور ترقی کا سورج طلوع ہوجائے گا گوادر کی ترقی و تعمیر سے وہاں جو رونق اور گہما گہمی آئے گی اس سے جرائم پیشہ جو اسمگلنگ کے لئے گوادر پورٹ کو استعمال کر رہے تھے از خود ختم ہوجائیں گے اور وہاں زمین کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی گوادر یونیورسٹی کی تعمیر کے لئے گوادر ترقیاتی ادارے نے تقریباً پانچ سو ایکڑ زمین خرید لی ہے اس کی تعمیر پر ایک ارب روپے خرچ آئے گا۔ اس کے ساتھ ہی جدید اسپتال قائم کیا جائے گا جس میں غریب عوام کا مفت علاج ہوگا انہیں علاج معالجے کی سہولتوں کے لئے ہیلتھ کارڈ دئیے جائیں گے بلوچ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے حکومت اپنے خرچہ پر چین بھیج رہی ہے وزیر اعظم کے کہنے کے مطابق گوادر بہت جلد ایک بہترین اور مثالی شہر بن جائے گا یہاں سڑکیں سیوریج کا نظام بجلی کا جدید ترین نظام قائم کیا جا رہا ہے جس کی تکمیل و تعمیر میں پاکستان کے ساتھ چینلئے بھی بھرپور مدد کر رہا ہے بہت جلد امید ہے کہ گوادر اپنی بندرگاہ کے باعث بلوچستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردے گا وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ہمارے دور میں بلوچستان میں اور گوادر میں جتنا کام ہوا ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی یہاں کی زمین سونے کی ہوگئی ہے۔ اس سے یہاں کے مقامی لوگ ہی فائدہ اٹھائیں گے اس سے انہیں اربوں کھربوں کا مالی فائدہ ہوگا۔
سی پیک کا منصوبہ یقیناً اہم اور بڑا منصوبہ ہے جس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان میں خوشحالی اور ترقی کے دروازے کھل رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ جو ممالک ابتدا میں اس کی مخالفت کر رہے تھے اس کی تعمیر اور تکمیل کے مراحل کے ساتھ ساتھ ان کے منہ میں پانی بھرتا جا رہا ہے اب ہر کوئی اس پاک چین راہداری کے منصوبے سے فائدہ حاصل کرنے کا خواہش مند ہو رہا ہے اس میں شامل ہونا چاہ رہا ہے یہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ ہے اب تک تمام یورپین اور امریکی حواری اور ان کے خوشامدی بھارت و اسرائیل تو آج بھی بے چین ہیں کہ کسی طرح اس عظیم الشان منصوبے کو تہس نہس کردیا جائے تاکہ پاکستان ترقی کی دوڑ میں کہیں ان سے آگے نہ نکل جائے بھارت نے اپنا تمام زور بلوچستان میں فساد پھیلانے، وہاںکے عوام کو محرومی کو احساس دلا کر بغاوت پر ابھارنے کی کوشش کی ہے لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے دشمن کی تمام مذموم کوششوں کو ناکام بنا دیا اور چین جیسے عظیم دوست کو چاہئے اپنے مفاد میں ہی سہی پاکستان میں سرمایہ کاری کرے بلوچستان، جسے دشمن اپنے اوچھے اور مذموم ہتھکنڈوں سے شدید احساس محرومی کا شکار بنانے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوگیا تھا کا سارا منصوبہ ڈھیر ہو کر رہ گیا بھارت کی اربوں کی تخریبی سرمایہ کاری گوادر کی بندرگاہ میں ڈوب گئی، اللہ جب چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے ہماری ہمارے وطن عزیز کی حفاظت فرماتا ہے دشمن قیام پاکستان سے مسلسل اپنی کوششوں میں لگا ہوا ہے لیکن ہر بار اس کی سازشیں اس کی چالیں اللہ ناکام بنا دیتا ہے اللہ ہماری ہمارے وطن عزیز کی ہر طرح سے ہر طرف سے حفاظت فرمائے، آمین

.