| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
بھارت نے ڈوکلام سے فوجیں واپس نہ بلائیں تو شرمندگی کا سامنا کرے گا، چین کی دھمکی

Todays Print

بیجنگ (جنگ نیوز) چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ہمالیہ میں متنازع سرحدی علاقے سے اپنی فوجیں واپس نہ بلائیں تو اسے ’شرمندگی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔سرکاری خبررساں ادارے شنہوا کا کہنا ہے کہ چین، انڈیا اور بھوٹان کے سرحدی علاقے ڈوکلام سے جب تک انڈیا اپنی فوجیں واپس نہیں بلاتا اس بارے میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کو سرحدی حدود کی بنیادی بات کو سمجھنا چاہئے ، ڈوکلام کو تاریخی اور قانونی بنیادوں پر چین کی حدود تسلیم کیا جاچکا ہے اس لئے یہاں پر بھارتی یلغار کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ شنہوا نے سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اپنی غلطیوں کا ادارک کرنا ہوگا اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کسی سنگین صورتحال پیدا کرنے سے گریز کیا جائے جس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔  دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث چین کے جنوبی شہر شیامین میں ستمبر میں ہونے والی 9ویں برکس سمٹ کا انعقاد خطرے میں پڑسکتا ہے ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے معاملات مزید خراب ہوئے تو اس سے برکس سمٹ کا انعقاد خطرے میں پڑسکتا ہے اور اس گروپ کی جانب سے نیا گوبل آرڈر ترتیب دینے کی اہمیت اثرانداز ہوگی۔

برکس نامی گروپ میں دنیا کی 5 ابھرتی ہوئی معیشتیں شامل ہیں جن میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ اس علاقے فوجیں اس لیے بھیجی تھیں تاکہ وہ اس علاقے میں نئی سڑک کی تعمیر کو روک سکے جس علاقے پر بھوٹان اور چین دونوں اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔یہ علاقہ انڈیا کے شمال مشرقی صوبے سکم اور پڑوسی ملک بھوٹان کی سرحد سے ملتا ہے اور اس علاقے پر چین اور بھوٹان کا تنازع جاری ہے جس میں انڈیا بھوٹان کی حمایت کر رہا ہے۔انڈیا کو خدشہ ہے کہ اگر یہ سڑک مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے چین کو انڈیا پرا سٹریٹیجک برتری حاصل ہو جائے گی۔

یہ تنازع گذشتہ ماہ سکّم کی سرحد کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلالم خطے سے شروع ہوا۔ چینی فوجی یہاں سڑک تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ بھوٹان کا کہنا ہے کہ یہ زمین اس کی ہے۔ انڈین فوجیوں نے بھوٹان کی درخواست پر چینی فوجیوں کو وہاں کام کرنے سے روک دیا ہے۔ چین نے انتہائی سخت لہجے میں انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجی بقول اس کے چین کے خطے سے واپس بلائے۔خیال رہے کہ اس خطے میں انڈیا اور چین کے درمیان 1967 میں بھی جھڑپیں ہوئی تھیں اور ابھی بھی وقتاً فوقتاً حالات میں گرمی آتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ حالیہ کشیدگی گذشتہ برسوں میں سب سے زیادہ کشیدہ ہے۔چین نے حال ہی میں چین نے انڈیا کے سرحدی محافظوں کی جانب سے تبت اور سِکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث انڈیا سے آنے والے 300 ہندو اور بودھ یاتریوں کو اپنے علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔چین اور انڈیا کا سرحدی علاقہ نتھو درہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے ہندو اور بدھ مت یاتری تبت میں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔