| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
November 15, 2017 | 12:00 am
سانحہ ماڈل ٹاؤن، جوڈیشل انکوائری کی سربمہر رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش

Todays Print

سانحہ ماڈل ٹاؤن، جوڈیشل انکوائری کی سربمہر رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش

لاہور(نمائندہ جنگ) پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری کی سر بمہررپورٹ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کو بند کمرے میں پیش کر دی ۔اس سے قبل پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث کے پیش نہ ہونے اور عدالتی حکم کے باوجود رپورٹ پیش نہ کرنے پرعدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ہوم سیکرٹری پنجاب کو رپورٹ چیمبر میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ ڈپٹی سیکرٹری ہوم ڈاکٹرشعیب، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل کے ہمراہ سانحہ ماڈل ٹائون کی سربمہر رپورٹ لے کر چیمبر میں پیش ہوگئے، خلیل الرحمن ٰخان کمیشن رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ فل بنچ کے فاضل ججز نے تمام افراد کو چیمبر سے باہر جانے کی ہدایت کی اور رپورٹ ڈی سیل کرنے اور معائنہ کرنے کے بعد ڈپٹی سیکرٹری ہوم کو واپس کر دی ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کی تو پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث کی عدم موجودگی کی وجہ سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ بھی پیش نہ کی جاسکی۔فل بنچ نے رپورٹ پیش نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا اور باور کرایا کہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم ہوم سیکرٹری کو دیا گیا تھا۔ پنجاب حکومت کے وکیل کے پیش نہ ہونےسے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے۔سماعت کے دوران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے وکلاء خواجہ احمد طارق رحیم اور اظہر صدیق نے دلائل میں زور دیا کہ جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کو پبلک کرنا ضروری ہے۔ اس رپورٹ میں سانحہ وقوع پذیر ہونے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں، رپورٹ سے قصور کے تعین کیلئے مدد ملے گی، رپورٹ کو پبلک نہ کرنا انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔

حکومت جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہ لا کر مجرموں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے ، سانحہ ماڈل ٹاون کے شہداء کے لواحقین کو یہی نہیں پتہ کہ ان کے پیاروں کا قاتل کون ہے،مسلم لیگ ن کی جانب سے رپورٹ اور انکوائری کمیشن کو متنازع بنایا جا رہا ہے،جوڈیشل انکوائری کرنے والے جسٹس علی باقر نجفی کیخلاف توہین آمیز بیانات بھی دیئے گئے ۔متاثرین کے وکلا نے استدعا کی کہ حکومتی انٹرا کورٹ اپیل توہین عدالت کی بنیاد پر ہی خارج کر دی جائے۔ عدالت نے عوامی تحریک کے وکیل سے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ رپورٹ شائع ہونے سے سانحہ ماڈل ٹائون کا ٹرائل متاثر ہوگا ،آپ بتائیں کہ رپورٹ شائع ہونےسے ٹرائل متاثر ہوگا؟ جس پر خواجہ طارق رحیم نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ آپ نے دیکھی نہ ہم نے ،کیسے کہا جا سکتا ہے رپورٹ سےٹرائل متاثر ہوگا، تاہم رپورٹ شائع ہونے سے میڈیا پر تبصرے ٹرائل پر اثر انداز کر سکتے ہیں جسے روکنے کا اختیار عدالت رکھتی ہے۔