علاقائی روابط کا خواب اورامکانی چیلنجز

November 29, 2023

سی ایس ایس کے امتحان میں تیاری کی غرض سے قائم ایک اکیڈمی جو کہ کاروباری مقاصد کیلئے نہیں ہے میں سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں کامیاب امیدواروں کے انٹرویو کی تیاری کی غرض سے مجھے دعوت دی گئی کہ میں ان امیدواروں سے خارجہ امور پر گفتگو کروں تاکہ وہ انٹرویو کی تیاری کر سکیں ۔ وہاں پر ایک امیدوار نے مجھ سے سوال کیا کہ اس بات کا بہت غلغلہ مچا ہوا ہے کہ ہمارے خطے میں ریجنل کنیکٹیویٹی یعنی علاقائی روابط ، اشتراک سے کاروباری سرگرمیوں کو بہت بڑھایا جا سکتا ہے کیا یہ درست ہے ؟ اور پاکستان کیلئے اس کے کیا امکانات ہیں ؟ اور اس علاقائی روابط کے علاوہ معیشت کو بہتر کرنے کی غرض سے کیا مواقع پاکستان کو بین الاقوامی حالات کے تناظر میں حاصل ہیں؟ اس میں کوئی دوسری رائےقائم ہی نہیں کی جا سکتی کہ علاقائی مضبوط باہمی روابط اور کاروباری سرگرمیاں خطے کی اقتصادی صورتحال کو یکسر بدل دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں اور اس باہمی اشتراک سے کاروباری سرگرمیوں کو بہت زیادہ بلندیوں پر پہنچایا جا سکتا ہے مگر یہ تمام اہداف صرف اسی صورت میں حاصل کئے جاسکتے ہیں کہ جب اس سرگرمی کیلئے مناسب ماحول بھی دستیاب ہو اور یہ مناسب ماحول تنہا صرف پاکستان ہی نہیں پیدا کرسکتا ہے ۔ الزام دھر دیا جائے ، بحث برائے بحث کی جائےتو اور بات ہے کہ پاکستان کی فوج علاقائی اشتراک کو قائم نہیں ہونے دیتی حالاں کہ حقیقت اس سے کوسوں دور ہے اس اشتراک کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ انڈیا کا وہ رویہ ہے کہ جس میں یہ خواہش شامل ہے کہ اس کو علاقے کا تھانیدار تسلیم کرلیا جائے اور تھانیدار بھی ایسا کہ جس کا اپنا ہی قانون ہو اور اپنی ہی عدالت اور تمام تنازعات میں اس کی مرضی و منشا کے آگے سر تسلیم خم کردیا جائے اور جب تک وہاں پر ذہن سازی اسی انداز میں ہوتی رہے گی اس وقت تک کسی بڑے علاقائی تعاون کا صرف خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کی اس معاملے میں خواہش کوئی ڈھکی چھپی نہیں ، ملک کی اعلیٰ سطح کی قیادت تک اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہے مگر ہم اس حوالے سے دیگر ممالک کی جانب نظر دوڑائیں تو سب سے پہلے نظر بنگلہ دیش پر جا کر ٹھہرتی ہے ۔ بنگلہ دیش میں عملی طور پر یک جماعتی نظام حکومت ہے اور اس نظم حکومت کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کو اس نظام بلکہ اپنی آمریت کو برقرار رکھنے کی غرض سے انڈیا کی اندھا دھند حمایت درکار ہے جو ان کو حاصل بھی ہے اور اس حمایت کے عوض وہ انڈیا کی نہ صرف ہاں میں ہاں ملاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیںبلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اپوزیشن کا گلا گھونٹنے کیلئے بھی مختلف اقدامات کرتی رہتی ہیں ، انہوں نے تو اپنے مخالفین کو پھانسیاں تک دے دیں ۔

ان کا سیاسی بیانیہ مکمل طور پر پاکستان مخالف ہے اور ان کے اقتدار پر براجمان رہتے ہوئے اس بات کا گمان کرنا کہ وہ پاکستان کیلئے کوئی مناسب فیصلہ کریںگی ان کی سیاست کا درست تجزیہ نہیں ہوگا ۔ انڈیا کے متعلق میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ وہ ایک مائنڈ سیٹ کا مسئلہ ہے اور وہاں پر جب تک وہ مائنڈ سیٹ طاقت ور ہے پاکستان جتنا مرضی میٹھا بن جائے ان کو کڑوا ہی لگے گا اور اب تو ان کے پاس پیسہ بھی اچھا خاصا جمع ہو گیا ہے جب کہ ہم نے ایک دوسرے کو صرف پچھاڑنے کی غرض سے معاشی کارکردگی کو بار بار داؤ پر لگا دیا ۔ انڈیا دنیا سے کس قسم کا برتاؤ روا رکھنا چاہتا ہے اس کی جھلک حالیہ کرکٹ ورلڈ کپ میں اس کے رویے سے ظاہر ہو رہی تھی ۔ ایک کردار افغانستان کا بھی ہے اور ایک وقت میں یہ گمان کیا جاتا تھا کہ پاکستان کیلئے افغانستان کی جانب سے ٹھنڈی ہوا اس لئے نہیں آ رہی کہ کابل میں حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی انڈیا کے قریب ہیں اور پاکستان افغان طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے اور جب افغان طالبان دوبارہ بر سر اقتدار آ جائیں گے تو پاکستان کو اس سرحد کی جانب سے ایک یک گونہ اطمینان نصیب ہو جائے گا مگر بد قسمتی سے یہ خواہش بس ایک سراب ہی رہی اور پاکستان کے مصائب میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ابھی پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں کی ان کے ممالک واپسی شروع ہی کی کہ افغان طالبان حکام کا لب و لہجہ جو پہلےہی تلخ ہو چکا تھا تلخ کلامی پر اتر آیا۔

کابل کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان سے اس کو کوئی مسئلہ ہے اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں ظاہر شاہ سے لیکر سردار داؤد سے ہوتے ہوئے آج تک ایک سبق ہی پڑھایا گیا ہے اور اس کو پاپولرا سٹنٹ بنا دیا گیا ہے اس لئے اپنی ہر ناکامی کا ملبہ با آسانی پاکستان پر ڈالا جا سکتا ہے اور وہ یہ ملبہ ڈالتے رہتے ہیں ۔ ان تینوں ممالک کی سیاسی حالت کو دیکھتے ہوئے سر دست علاقائی روابط کے خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نظر نہیں آتا اور پاکستان کی اقتصادی بحالی کو اس سے منسلک نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان کے پاس اس کے علاوہ ایک اور طے شدہ راستہ ہے کہ وہ سی پیک کی کامیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کرے اور اگر اس حوالے سے پاکستان کے کسی بھی علاقائی گروہ یا طاقت ور طبقات میں سے بھی کسی کو کوئی تحفظات ہیں تو ان تحفظات کو چین سے ڈسکس کرے اور ان کا تدارک کرے ۔ جبکہ سی پیک اور امریکہ و مغرب کے مابین ایک توازن کی حکمت عملی بھی اختیار کرے کیوں کہ اس سے ہی اقتصادی بحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔