مجرم درکار ہیں!

June 23, 2017
 

ایسے وقت میں جب اکناف عالم میں ہرقسم کے جرائم ’’فروغ‘‘ پانے کی رفتار نہایت ’’تسلی بخش‘‘ ہے اور جرائم پیشہ خواتین و حضرات کو اپنی ’’حد‘‘ میں رکھنے کے لیے نت نئے جتن کئے جا رہے ہیں۔ ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں مجرموں کا کال پڑ گیا ہے اور اسے اپنی جیلیں بند کرنا پڑ رہی ہیں۔ یہ تشویشناک خبر ہالینڈ سے آئی ہے جسے سرکاری طور پر نیدر لینڈ بھی کہا جاتا ہے، مغربی یورپ کا یہ چھوٹا مگر گنجان آباد ملک ’’اچھے وقتوں‘‘ میں جرائم پیشہ افرادی قوت سے مالا مال تھا۔ جیلیں آباد تھیں اور ان میں اخلاق باختہ مرد و زن کی چہل پہل لگی رہتی تھی لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کا ضرورت سے زیادہ ہونا بھی کوئی اچھی بات نہیں، ہالینڈ کی حکومت نے اس مخلوق کو ’’حد‘‘ کے اندر رکھنے کا فیصلہ کیا اور سیانے لوگوں کے مشورے پر مجرموں کی پکڑ دھکڑپر وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی بجائے ان جرائم کو ہی قانونی اور جائز قرار دے دیا جو ’’زندہ دلان ‘‘ہالینڈ کو زیادہ مرغوب اور بے اعتدالی کی اصل جڑ تھے۔ حکومتی فیصلے کی رو سے عصمت فروشی، بدکاری، اسقاط ،ہم جنس پرستی اور اس طرح کی چند دوسری قباحتیں اب اس ملک میں کوئی جرم نہیں رہا۔ ویسے تو پورا مغربی معاشرہ اخلاق باختگی کے ان مظاہر کو انسانی حقوق کے عین مطابق اور انہیں برا کہنے والوں کو خود برا سمجھتا ہے مگر کسی دوسرے ملک کو اس طرح کی پریشانی لاحق نہیں ہوئی جس سے ہالینڈ دوچار ہو چکا ہے۔ ’’مقبول عوام‘‘ جرائم کی کھلی چھٹی دینے سے مجرم کم پڑ گئے اور جیلیں سونی ہو گئیں۔ چند سال قبل حکومت کو19جیلیں بند کرنا پڑیں مگر اس سے مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید گمبھیر ہو گیا کیونکہ بند ہونے والی جیلوں کے بے روزگار ہونے والے عملے نے دہائی مچادی۔ اس پر نیک دل حکومت نے پڑوسی ملک ناروے سے دو سو قیدی درآمد، کرکے باقی جیلوں کو آباد رکھا اور بے روزگار عملے کو ان میں کھپا دیا۔ مگر کرائم کنٹرول کا یہ نسخہ اتنا کارآمد ہوا کہ اب مزید 5جیلیں بند کرنا پڑ رہی ہیں۔ قحبہ خانوں میں چھپ چھپا کے جانے والے کھلے بندوں اپنا یہ شوق پورا کرتے ہیں۔ لڑکے لڑکی کو بھاگنے اور بھگانے کی مکمل اجازت ہے دختران نیک اختر دوسرے یورپی ملکوں کی طرح شادی کے بغیر بھی بوائے فرینڈز کے ساتھ گھر آباد کر لیتی ہیں اور والدین صرف دعا دے کر رہ جاتے ہیں کہ جہاں رہو خوش رہو، خوش نہ رہ سکو تو کسی دوسرے کے ساتھ بھاگ جائو۔ نہ طلاق کا جھنجھٹ نہ خلع کا مسئلہ، پوپ کے مخالفانہ فتوے کے باوجود ہم جنس پرستی عین مباح ہے، ایسے میں قیدی کہاں سے آئیں کہ جیلوں کی رونق بنیں۔ قتل، ڈکیتی، راہزنی وغیرہ جیسی وارداتیں پہلے بھی جیلوں کی گنجائش کے مطابق نہیں تھیں۔ اب بھی نہیں منشیات کے استعمال پر بھی تعرض نہیں کیا جاتا، کوئی حد سے گزر جائے تو سزا کی بجائے اصلاح کے لیے مخصوص مراکز میں بھیج دیا جاتاہے یا کام دھندے پر لگا کر اس کا دھیان بٹا دیا جاتا ہے۔
ہالینڈ پاکستان کا دوست نہیں تو دشمن بھی نہیں، کسی زمانے میں ہاکی میں ہمارا پیچا پڑتا تھا اور پال لٹجنز جیسے پینلٹی اسپیشلسٹ کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے شہناز شیخ، سمیع اللہ، حسن سردار اور ان جیسے بے رحم کھلاڑی ہالینڈ کیا، بڑے بڑوں کو ہرا دیتے تھے مگراب ہم آئرلینڈ سے بھی ہار جاتے ہیں۔ سو یہ چشمک بھی باقی نہ رہی اس لیے جرائم پیشہ عناصر کی ’’درآمد‘‘ میں ہالینڈ کو ہماری خدمات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے، یہ خام مال پاکستان میں بہت ہے ہم دو سو کیا، دو ہزار بھجوا دیتے،ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق اخلاقی اور غیر اخلاقی جرائم کے لحاظ سے پاکستان دنیا کی ’’بڑی طاقتوں‘‘ میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ، جرمنی اور برطانیہ اس ’’صنعت‘‘ میں سرفہرست ہیں تو پاکستان کا نمبر بھی 23واں ہے۔ بھارت تو صرف مقبوضہ کشمیر میں روزانہ اتنے جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جتنے ہم سال بھر نہیں کر سکتے ۔ تاہم پورے ملک کو چھوڑیں صرف اسلام آباد میں گزشتہ ماہ 38افراد قتل کر دیئے گئے جبکہ 62قتل ہوتے ہوتے بچے، 54ٹریفک حادثات کی نذر ہوئے جن کے ذمہ دار نامعلوم ڈرائیور نامعلوم سمت میں فرار ہو گئے۔ 147افراد مار پٹائی میں ملوث ہوئے، ڈکیتی، راہزنی، نقب زنی، سرقہ، عصمت دری اور منشیات کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔ ہماری پولیس مجرموں سے زیادہ تعرض نہیں کرتی، کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ کو پکڑتی باقی کو ’’جرمانہ‘‘ لے کر چھوڑ دیتی ہے، 30سے 50فیصد تک لوگ ایسے ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والی وارداتوں کے مقدمات خود درج نہیں کراتے، بعض کی شکایات پولیس درج نہیں کرتی۔ پھر کچھ پولیس والوں نے خود بھی اب اپنی ’’مالی حالت‘‘ بہتر بنانے کے لیے گینگ بنا لیے ہیں جو کامیابی کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ تاہم ملک میں کرائم مافیا پولیس سے زیادہ منظم ہے، آبادی 3فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے تو جرائم میں چار فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جرائم کی شرح کم کرنے کے لیے ہم انہیں جائز قرار نہیں دے سکتے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی ہم مغرب کی نقالی نہیں کرسکتے اپنی اخلاقی اقدار ہمیں بہت عزیز ہیں۔ لیکن اتنا تو ہو سکتا ہے کہ ہالینڈ جیسے ضرورت مند ملکوں کو اپنے ’’قیمتی مجرم‘‘ برآمد کرنا شروع کردیں۔ انہیں بحفاظت پہنچانے کے لیے ’’پولیس گینگ‘‘ بھی ان کے ساتھ بھیجے جا سکتے ہیں جو واپس نہ آئیں جیلوں میں ان کی ’’حفاظت‘‘ کرتے رہیں۔

.


مکمل خبر پڑھیں