جب میری پہلی کتاب چھپی

August 29, 2017
 

قیام پاکستان سے قبل کالج اور یونیورسٹی کے امتحانات انگریزی میںہوا کرتے تھے۔ یوں کمزور انگریزی والوں کیلئے میٹرک کے بعد کی تعلیم خاصی دشوار ہوتی تھی۔ اور برصغیر بھر میںمحض چند ہزار خوش نصیب ہی اعلیٰتعلیم حاصل کر پاتے تھے۔ پھر بتدریج انگریزی کی گرفت کمزور ہوتی چلی گئی۔ پہلے انٹرمیڈیٹ میں اردو کا چلن ہوا پھر بی اے تک پہنچ ہوگئی اور غالباً 1967 میں ایم اے کا امتحان بھی اردو میں دینے کی اجازت مل گئی اور نصابی کتب دھڑا دھڑ اردو میں منتقل ہونے لگیں۔ راقم نے 1970میں تاریخ میں ماسٹرز کیا تو جامعہ پنجاب میں اردو مکمل طور پر ترویج پاچکی تھی۔ انگریزی میں امتحان دینے والوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم تھی، البتہ اسی برس ہسٹوریو گرافی Historiography کا نیا مضمون متعارف ہوا جس کی کتب اول تو میسر نہ تھیں اور جو ایک آدھ تھی وہ بھی انگریزی زبان میں۔ یوںہم جیسے ’’اردو دان‘‘ طبقے کو خاصی دشواری ہوئی۔ امتحان کے بعد فراغت کے دن تھے کہ سوچا کیوں نہ شعبہ تاریخ کے طلبا کی مشکل آسان کرنے کیلئے ہسٹوریو گرافی پر کتاب لکھ دی جائے۔ ہفتوںلاہور کی تمام بڑی لائبریریوں کی خاک چھانی، بہت کم مواد میسر آیا۔ البتہ پنجاب پبلک لائبریری کے کیٹلاگ سے کچھ کتابوں کی نشاندہی ہوئی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ سب مغل عہد کی ایک عمارت میں مقفل تھیں جسے کھولنا خطرناک بتایا گیا کہ خوفناک قسم کے حشرات الارض کی آماجگاہ ہے۔ بہرحال کسی نہ کسی طور ایک اہلکار کو آمادہ کیا اور وہاںسے مطلوبہ کتب حاصل کرلیں۔
یوںشاداںو فرحاں اپنے گائوںکرتاپور (نارووال)واپس آگیا، اور اپنے تئیں کتاب نویسی کا کام شروع کردیا۔ چھ ماہ کی خامہ فرسائی کے بعد نوشتہ کو ترتیب دی، باب سازی کی اور ہر ایک کو نام دیا، بظاہر تو وہ اوراق موضوع کے مطابق ایک معقول ضخامت کی کتاب کی طرح دکھائی دے رہے تھے مگر یقین نہیں آرہا تھا کہ واقعی میں یہ ہفت خواںطے کر چکا ہوں۔ ہفتہ دس دن بعد لاہور جانا ہوا، تو کاغذوں کا وہ پلندہ بھی ہمراہ لے گیا۔ شادباغمیں اپنے ایک عزیز کے ہاں بسیرا تھا، ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے، کسی سے کہہ سن کر چھپوادیجئے۔ فرمایا، میرا ایک جاننے والا یہی کام کرتا ہے، ا س سے بات کروں گا۔ اگلی صبحبازار ناشتہ لینے گئے تو موصوف بھی ہمراہ تھے۔ انہوں نے کاغذوں کے پلندے کو بے دھیانی سے ٹٹولا اور بولے، لڑکا بالکل نیا ہے، کسی پروفیسر کو دکھائیںگے تو پتہ چلے گا۔ یوں ایک بے یقینی کی کیفیت میں راقم گائوں واپس آگیا۔
ٹھیک ایک ماہ بعد پھر سے لاہور جانا ہوا تو میری کتاب ’’مطالعہ تاریخ‘‘ کے نام سے چھپ کر بک اسٹالز پر سج چکی تھی۔ اردو بازار کی نکڑ والی دکان سے کتاب اٹھائی تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اور یقین نہیںآرہا تھا کہ میری ہی تحریر کتاب کی شکل دھار چکی ہے۔ پبلشر کی دکان ذرا آگے تھی، وہاںپہنچاتو اس نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کتاب مارکیٹکی تھی اور متعلقہ ماہر نے بھی OK رپورٹدی لہٰذا جلدی چھپ گئی۔ پہلی بار یوںلگا کہ یکایک اسٹیٹس کچھ بلند ہوگیا ہے، اب میں اردو بازار کے اسٹالوں پر کتابوں کی ورق گردانی کرنے والا طالب علم نہیں بلکہ مصنف بن چکا ہوں۔ مذکورہ پبلشنگ ہائوس کو دو بھائی چلارہے تھے۔ پڑھے لکھے، شستہ اور بذلہ سنج، اللہ مغفرت کرے، دونوں اب اس دنیا میں نہیں۔ کاروبار بھی تقسیم ہوچکا جو ان کے بچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس وقت بڑے بھائی موجود تھے، چائے پانی سے فراغت کے بعد بولے، ریاض صاحب! آپ کی کتاب ماشااللہ اچھی جارہی ہے، ہم چاہتے ہیںکہ آپ ہمارے لئے ایم اے کے سب پرچوں کیلئے اردو میں کتب تحریر فرمادیں، آپ کی پہلی کاوش ’’مطالعہ تاریخ‘‘ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ کیلئے یہ چنداں مشکل نہ ہوگا اور ہاں ہم یہ کام آپ سے مفت میں نہیںکرائیں گے، اس کیلئے آپ کو15فیصد رائلٹی ملے گی۔ دل ہی دل میں حساب لگایا کہ یہ تو اچھی خاصی باقاعدہ آمدنی کا سر بندھ ہورہا ہے۔ آج ایک کتاب ہے، سات پرچوں کا مکمل کورس تحریر کردیا تو عیش کروں گا۔ اور شاید اتنا دھن آجائے کہ نوکری کی بھی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ اس کام میں جت گیا اور دو برسوں میں چھ سات کتابیں پبلشر کے حوالے کردیں جو بسرعت چھپ بھی گئیں۔
اب ہم رائلٹی کے انتظار میں تھے کہ چیک آج آتا ہے یا کل۔ مہینوں گزر گئے اور سلسلہ جنبانی نہ ہوا تو سوچا کہ لاہور کون سا دور ہے، خود جاکر پتہ کرلیتے ہیں، دکان پر گئے تو بڑے والے بھائی موجود تھے، نہایت تپاک سے ملے، چائے پانی کے بعد اسی سوچ میں تھے کہ عرض مدعا کیسے کریں؟انتظار کیا کہ موصوف خود سےکچھ کہیںگے، جب توقف طویل ہوگیا اور ایسا کچھ بھی سننے کو نہ ملا تو خود ہی سبک سر ہوکر پوچھا وہ آپ نے رائلٹی کا کہا تھا! اوہ سوری میں بھی سوچ رہا تھا کہ آپ سے کوئی ضروری بات کرنا ہے۔ ہاں تو جناب! آپ ماشا اللہ پڑھے لکھے ہیں، ضرور کوئی جاب بھی کرتے ہوںگے، لکھنا لکھانا آپ کا شغل ہے اور ہماری روٹی روزی، جس کیلئے سو جھوٹسچ بولنے پڑتے ہیں، ہم ہزار چھاپیں گے اور 500 کہیں گے، 100 بیچیںگے اور 50 بتائیںگے، پھر ہمارے لئے رائلٹی کا حساب کتاب رکھنا بھی دشوار ہے، بہتر ہوگا کہ فی صفحہ کے حساب سے نرخ طے کرلیں، جتنا آپ لکھیںگے، ساتھ کے ساتھ حساب چکتا کرتے جائیںگے۔ اور ہم آپ کو مبلغ 4 روپے فی صفحہ ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جھٹسے انہوں نے میری جملہ مطبوعات کے صفحات جمع کئے اور 4 سے ضرب دیکر بولے کہ یہ ہوئے مبلغ 5600 روپے، جو ہم آپ کو چار قسطوں میں ادا کردیں گے۔ 1400 روپے کی پہلی قسط آج اور باقی ہر چھ مہینے بعد۔ ظاہر اس یکطرفہ ڈیل کو قبول کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی اور چارا نہ تھا،1400روپے جیب میںڈالے اور دکان کی سیڑھیاںاتر آیا، باقی تین قسطیںکب اور کیسے ملیں یہ ایک الگ داستان ہے، جو اس سے بھی کم خوشگوار ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ لکھنے کو کیریئر بنانے کا خواب ابتدا ہی میں ٹوٹگیا اور قدرت نے روزی کے دیگر باعزت ذرائع پیدا کردیئے۔ باہر کوئی ایک کتاب لکھتا ہے تو شمار اشرافیہ میں ہونے لگتا ہے، روزگار کی فکر بھی نہیں رہتی، ہمارے ہاںکتاب کی کمائی پر زندہ رہنے کا تصور تک نہیں۔


مکمل خبر پڑھیں