لوٹی ہوئی دولت کی واپسی

February 12, 2018
 

سپریم کورٹ نے یکم فروری 2018 کو اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں رہائش پذیر پاکستانیوں نے لوٹی ہوئی یا ٹیکس چوری کی آمدنی کو غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر منتقل کرکے جو اثاثے بنائے ہیں ان کو واپس لایا جائے گا۔ ہم اس ضمن میں عرض کریں گے کہ کم از کم گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف حکومتیں اور ادارے اس عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ لوٹی ہوئی دولت ہر قیمت پر پاکستان واپس لائی جائے گی۔ ماضی میں بھی یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے آیا تھا مگر عملاً کوئی معنی خیز پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہم نے 1999 میں ربوٰ کے مقدمے میں سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیبٹ بینچ کے سامنے لوٹی ہوئی دولت کی وصولی اور پاکستان واپس لانے کیلئے گزارشات و تجاویز پیش کی تھیں جن کو بینچ کے سربراہ نے اپنے 23دسمبر 1999 کے فیصلے میں تفصیلی طور پر جگہ دی ہے مگر حکومتوں نے ان تجاویز کو نظر انداز کردیا۔
وطن عزیز میں ناجائز طریقوں سے جو دولت کمائی جاتی ہے اس کا تقریباً 60فیصد مختلف شکلوں میں ملک کے اندر موجود رہتا ہے جبکہ بقیہ 40فیصد نہ صرف غیر قانونی بلکہ قانونی طریقوں سے بھی دنیا کے مختلف ممالک میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ ان رقوم کا ایک حصہ ترسیلات کی شکل میں پاکستان واپس آجاتا ہے۔ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے ضمن میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بیرونی ممالک کو منتقل کی ہوئی رقوم سے بنائے ہوئے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کو بھی اولیت دی ہے۔ بیرونی ممالک کے اداروں سے یہ معلومات حاصل کرنا بڑا صبر آزما اور دقت طلب کام ہے جس میں برس ہا برس لگ سکتے ہیں مگر پھر بھی مکمل تفصیلات نہیں مل سکیں گی۔ اس کے بعد ان رقوم کی واپسی ’’ہنوز‘‘ ’’دلی دور است‘‘ والا معاملہ ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں کرنے کے اصل کام مندرجہ ذیل بھی ہیں جن سے مختصر ترین وقت میں بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں:
(1) مختلف ملکی قوانین کے تحت آج بھی ناجائز دولت بینکوں کے ذریعے ملک سے باہر منتقل ہورہی ہے۔ ان قوانین پر فوری طور پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
(2) ناجائز دولت سے ملک کے اندر بنائے ہوئے اثاثوں پر فوری طور پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔
(3) ناجائز دولت، کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور اسے ’’سفید‘‘ بنانے والے تمام ملکی قوانین اور ٹیکس ایمنٹسی قسم کی اسکیموں کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کرنا ہوگا۔
اس ضمن میں چند گزارشات یہ ہیں۔
(1) انکم ٹیکس آرڈنینس کی شق ( 4) 11کو منسوخ کیا جائے۔ اس شق کی وجہ سے لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں ایک پیسہ جمع کرائے بغیر قانونی تحفظ مل جاتاہے۔
(2) معاشی اصلاحات کے 1992 کے ایکٹ اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز 1947 پر نظر ثانی کی جائے۔
(3)نجی بیرونی کرنسی کے کھاتوں کو تحفظ دینے والے آرڈنینس مجریہ 2001 پر نظرثانی کی جائے۔ کھلی منڈی سے خریدی ہوئی بیرونی کرنسی کو بیرونی کرنسی کے بینکوں کے کھاتوں کے ذریعے پاکستان سے باہر منتقلی پر پابندی لگا دی جائے۔
(4) غیر منقولہ جائیداد سیکٹر لوٹی ہوئی اور ٹیکس چوری کی دولت کو محفوظ جنت فراہم کرنے کا بڑا قانونی ذریعہ بن چکا ہے۔ چاروں صوبے بھی جائیدادوں کے ’’ڈی سی ریٹ‘‘ مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اس ضمن میں احکامات جاری ہونا چاہئیں۔
(5) دسمبر2016 میں انکم ٹیکس ترجیحی ایکٹ 2016 کے تحت ملک میں جائیداد کی خریداری کیلئے ناجائز دولت کے استعمال کی اجازت ہے۔ ایک برس میں اس ایمنسٹی اسکیم سے قومی خزانے کو تقریباً 200 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور ’’نئے ملکی پاناماز‘‘ بھی بن رہے ہیں۔ یہ ترمیم واپس کی جانا چاہئے۔
(6) ناجائز آمدنی سے بنائے ہوئے جو اثاثے ملک کے اندر موجود ہیں ان میں بینکوں میں جمع شدہ رقوم، قومی بچت اسکیموں میں لگائی ہوئی رقوم، اسٹاک مارکیٹ کے حصص، غیرمنقولہ جائیدادیں اور گاڑیاں وغیرہ شامل ہیں۔ ان اثاثوں کے مالکان کے شناختی کارڈ نمبر ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اگر ان ’’ملکی پاناماز‘‘ پر ہاتھ ڈالا جائے تو ایک برس میں تقریباً دو ہزار ارب روپے کی اضافی رقوم حکومت کو مل سکتی ہیں۔ یہ ایک قومی المیہ ہے کہ ان ناجائز ملکی اثاثوں کے ضمن میں ملک میں، بات نہیں کی جارہی کیونکہ ان سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات متاثر ہوں گے مگر رقوم کی وصولی کی ضمن میں 100 فیصد کامیابی ہوگی۔
(7) ممبران پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، سول و ملٹری بیورو کریسی کے اراکین، اعلٰیٰ عدلیہ کے جج صاحبان، بینکوں کے 10لاکھ روپے سالانہ سے زائد قرضے لینے اور معاف کرانے والوں کو پابند کیا جائے کہ وہ 30 دن کے اندر حلف نامہ دیں کہ ان کے اور ان کے زیر کفالت افراد کے بیرونی ممالک میں بینکوں میں ایسی رقوم نہیں ہیں جن کو ٹیکس کے سالانہ گوشواروں میں ظاہر نہ کیا گیا ہو۔ یہ آئندہ بہت کام آئیں گے۔
(8) یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ بینکوں نے نہ صرف غیر شفاف طریقوں بلکہ اسٹیٹ بینک کے غیر آئینی سرکلر کے تحت خطیر رقوم کے قرضے معاف کئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں بینکوں کے قرضوں کی معافی کا مقدمہ 2007 سے زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہم نے 14 دسمبر 2009 کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ قرضوں کی معافی کا اسٹیٹ بینک کا اکتوبر 2002 میں جاری کردہ سرکلر 29 نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ پارٹنر شپ ایکٹ سے بھی متصادم ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا:
(1) اس سرکلر سے بڑے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اوپر دبائو آئے گا مگر ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔
(2) قرضے معاف کروا کر دولت بنائی اور ملک سے باہر پہنچائی گئی ہے۔
(3) قومی دولت کو واپس لانے کیلئے عدالت کسی حد تک بھی جاسکتی ہے۔
(4) عدالت عظمیٰ نے 2011 میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں بینکوں کے قرضوں کی معافی کے مقدمے میں ایک کمیشن بنایا تھا جس نے اپنی رپورٹ جنوری 2013 میں سپریم کورٹ کو پیش کردی تھی لیکن 5سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس رپورٹ پر کارروائی ہی نہیں ہوئی۔ اب سے 8 ماہ قبل ہم نے ان ہی کالموں میں لکھا تھا۔ ’’اگر عدالت عظمیٰ نے قرضوں کی معافی کے مقدمے کا جلد فیصلہ نہ کیا تو ان قرضوں کی وصولی کا امکان ختم ہوجائے گا اور آنے والے برسوں میں بینک 500 ارب روپے کے مزید قرضے معاف کرسکتے ہیں۔
(جنگ 2مئی 2017) وفاق اور چاروں صوبوں کی ایسی پالیسیوں کی وجہ سے جو اقتصادی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں معیشت خطرات کی زد میں ہے۔ پاکستان کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کمزور ہورہی ہے۔ اگر فوری طور پر مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں تیزی سے فیصلے نہیں کئے گئے اور ہر قسم کی ٹیکس ایمنٹسی سے اجتناب نہ کیا گیا تو دہشت گردی کی جنگ جیتنے اور سی پیک کو گیم چینجر بنانے کے دعوے نہ صرف خواب و خیال کی باتیں بن کر رہ جائیں گے بلکہ قومی سلامتی کیلئے بھی خطرات دوچند ہوجائیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں