سینیٹر کرشنا کولہی نے تھر کے روایتی لباس میں حلف لیا

March 12, 2018

پاکستان کے ایوان بالا میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر خواتین کی نشست پر کامیاب ہونے والی سینیٹر کرشنا کولہی تھر کے روایتی لباس میں حلف برداری کے لیے ایوان میں آئیں۔

کرشنا کے ساتھ ان کے والدین بھی تقریب حلف برداری دیکھنے کے لیے سینیٹ ہال آئے، انہوں نے بھی روایتی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔اس موقع پر جیو نیوز سے گفتگو میں کرشنا کولہی نے کہا کہ انہیں بہت فخر محسوس ہو رہا ہے اور وہ اپنی کمیونٹی کو آگے لانے کی کوشش کریں گی۔

کرشنا کولہی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمیں نمائندگی ملی ہے۔انہوں نے سینیٹ نشست کے لیے ٹکٹ دینے پر پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصاً چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کی تحصیل کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری کولہی پاکستان کی تاریخ میں شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والی پہلی ہندو خاتون ہیں جو سینیٹ آف پاکستان میں خواتین کی نشست پر کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے غربت اور بھوک و افلاس کے ساتھ ساتھ زندگی کا ایک حصہ وڈیروں کی نجی جیل میں بھی گزارا۔

39 سالہ کرشنا کولہی 1979 میں تھر کے ایک ایسے پسماندہ علاقے میں پیدا ہوئیں، جہاں آج بھی خواتین بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا اور نویں جماعت میں ہی ان کی شادی کردی گئی، تاہم شادی کے بعد انہوں نے اپنے سلسلہ تعلیم کو جاری رکھا۔

2013ء میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اس کے ساتھ ساتھ تھر اور قریبی علاقے کے غریب لوگوں کی مدد کے لیے فلاحی اور سماجی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔

اب جبکہ کرشنا پاکستان کے ایوان بالا کی رکن ہیں، تو اپنی کمیونٹی سمیت معاشرے کی دیگر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنا بھی ان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا اور لوگوں نے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔