دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال

July 27, 2018
 

معروف ماہر طبعیات و کونیات اسٹیفن ہاکنگ جاتے جاتے کہہ گئے کہ مصنوعی ذہانت پر ہم نے کنٹرول نہ پایا تو وہ وقت دور نہیں جب کرہ ارض پر مصنوعی ذہانت سے آراستہ مشینی انسانوں کی حکمرانی ہوگی اور انسان کا خاتمہ ہوجائے گا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت ہمارا مستقبل ہے، جو خودکار انداز میں کام کرنے والی مشینوں پر مشتمل ہے اور مصنوعی ذہانت کے حامل یہ روبوٹس شاید ہم سے کہیں زیادہ ذہین و فطین اور مشاق ہوں گے۔

پاکستان میں مصنوعی ذہانت پر پیش رفت

مصنوعی ذہانت ایک ایسی سائنس ہے جو دنیا بھر کے تمام شعبوں پر حکمرانی کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے منسلک کرکے کنٹرول کرے گی اورآپ کو ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت کی کارفرمائی نظر آئے گی۔ مختلف ممالک اور صنعتیں اپنی بے پناہ ترقی کے حصول اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں۔ پاکستان میں بھی صنعتیں نئے ٹیک اسٹارٹ اپس کی مہربانیوں سے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ جیسی جدید ٹیکنالوجیزکے ذریعے اپنے کاروبار کو وسعت دے کرفائدہ اٹھا رہی ہیں۔

یہ صنعتیں اپنے کاروبار کو بزنس انٹیلی جنس،بزنس پروسس مینجمنٹ،کنورژن ریٹ سیلز آپٹمائزیشن اور سب سے بڑھ کر کامیاب کسٹمر جرنی کے ذریعے، تیزی سے جدت کے رنگوں میں ڈھال رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے پرہمیںمصنوعی ذہانت کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بلاک چین انڈسٹری اور سائبر سیکورٹی کو تشکیل دینا ہے۔NIRF (نیشنل آئی سی ٹی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ فنڈ) کا ادارہ تحقیق و ترقی پروجیکٹس پر فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں ریسرچ کے رجحان کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی اور الگورتھم کے امتزاج سے پاکستان میں پہلے ہی کئی پروجیکٹس کام کر رہے ہیں۔اس میں سب سے اہم بجلی کی چوری کی روک تھام کے لیےانفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئےریئل ٹائم بلنگ فریم ورک کا اجراء کیا جاناہے، جس سے بجلی کی چوری میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔دوسری پیش رفت ٹریفک کے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیےوائرلیس سینسرز کا استعمال کرتے ہوئے ایک محفوظ اور ذہین ٹرانسپورٹ سسٹم کی تیاری ہے، جس سے آنے والے دنوں میں ٹریفک کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جاسکے گا۔تیسری پیش رفت ویڈیو اسٹریمز کے لیےآٹو میٹک سرویلئنس سسٹم کی صورت سامنے آئی ہے۔

اسمارٹ فونز میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

مصنوعی ذہانت ایک اہم ٹیکنالوجی ہے، جو موبائل فون اور انٹرنیٹ کا لازمی جزو ہوگی۔مصنوعی ذہانت کو بجلی کے بعد اہم ایجاد مانا جارہا ہے جو مستقبل میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز کا ناگزیر حصہ ہوگی۔آج گوگل،ایپل، آئی بی ایم،مائیکروسافٹ اور فیس بک جیسے بڑے ادارے مصنوعی ذہانت پر کام کر رہے ہیں۔گوگل کا ڈیپ مائنڈ اور فیس بک کا مصنوعی ذہانت کو سوشل میڈیا میں لانے کا پروجیکٹ، مشینوں کو انسان جیسی ذہانت سے آراستہ کردے گا اور انٹیلی جنٹ سافٹ ویئر اور مشینیں انسانی دماغ کی طرح کام کرنا شروع کردیں گی اور انسانی رویے کا سا برتاؤ رکھیں گی۔ ایپل اپنے پہلے ذہین سافٹ ویئر ’سری‘ سے لطف اندوز ہورہا ہے،گوگل ’گوگل ناؤ‘ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے،فیس بک نے ’چابوٹ‘ تیار کرلیا ہے، آئی بی ایم خودکار مشینی انسان ’واٹسن‘ پر بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے اور مائیکرو سافٹ ’کورٹینا‘ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے کمالات دکھا رہا ہے۔

قریبی ریستوران سے کھانے کے فوری آرڈر لینے کے لیے اسمارٹ فون ایپ، تصاویر سے کرداروں کی شناخت،فیس بک کے تصاویر آویزاں کرنے والا الگورتھم جو آپ کے چہرے کو شناخت کرے گا اور ڈرائیور کے بغیر خود کار گاڑیوں کی آنے والی پوری نسل مصنوعی ذہانت پر مشتمل ہوگی۔کوئی بھی شعبہ ایسا نہ ہوگا جہاں مصنوعی ذہانت اپنی ذہانت کے جوہر نہیں دکھائے گی۔ایسے میں پاکستان کا اس ٹیکنالوجی سے دور رہنا ناممکن دکھائی دیتا ہے جس کا ثبوت ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ میں روبوٹکس اور میکا ٹرونکس میں بڑھتی دلچسپی ہے۔ معذور افراد کے لیے مصنوعی ٹانگوں سے لیکر بینائی سے محروم افراد کے لیے بائیونک آئی جیسی ایجادات آنے والے دنوں میں ہمیں اور زیادہ سہولتوں سے ہم آہنگ کردیں گی۔

خدشات و امکانات

مصنوعی ذہانت سے فروغ پانے والے معاشرے میں سب سے بڑا سوال بیروزگاری کی صورت میں اٹھ رہا ہے کہ جب سارے کام ہی مصنوعی ذہانت رکھنے والے مشینی انسان کریں گے تو ہماری کیا ضرورت رہ جائے گی! روبوٹ سرجن/ڈاکٹر کے آنے سے ہمارے معالج بیروزگار ہوجائیں گے جبکہ خودکار گاڑیوں سے ڈرائیوروں کی اسامیاں ختم ہوجائیں گی۔ وہ وقت دور نہیں جب مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوٹس افسانہ،ناول اور ڈرامے لکھ کر دیا کریں گے اور یہ کام گھنٹوں نہیں بلکہ منٹوں میں ہوا کرے گا۔ انہیں خدشات و امکانات نے مغرب کو بھی پریشان کر رکھا ہے کہ یہ کیسے سہولت کار ہوں گے جو ہمارے ہی پیٹ پر لات ماریں گے۔

جدّت کو ہم روک نہیں سکتے

تبدیلی ہر دور کا خاصہ رہی ہے اور اہلِ دانش آنے والے قدموں کی چاپ سن کر اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اس وقت مصنوعی ذہانت کو اخلاقی تعلیم دینے پر غور کیا جارہا ہے۔اسے جذبے کی طاقت سے ہم آہنگ کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔جب تک انسان اپنی اصل ذہانت و فطانت کے ساتھ موجود ہے، تب تک انسانی تخلیق اور تخیل سے ماورا ایسی کوئی چیز عدم سے وجود میں نہیں آسکتی جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہو۔

واضح رہے کہ پچھلے کئی سالوں میں وہ تیز رفتار تبدیلی نہیں ہو سکی جو صرف ایک ہی بیسویں صدی میں ممکن ہو سکی ہے۔ اکیسویں صدی کو انتہائی تیز رفتار صدی قرار دیا جاتا ہےجس کا انتہائی پیمانہ مصنوعی ذہانت ہے۔


مکمل خبر پڑھیں