اسپورٹس مین وزیر اعظم؟

August 06, 2018
 

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بین الاقوامی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان وزیر اعظم بن رہے ہیں ، حالیہ انتخابات میں ان کی پارٹیPTIکو جو اکثریت ملی ہے اس سے تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ انہیں نظریاتی سے زیادہ جذباتی ماحول میں وزارت عظمیٰ ملی ہے۔ جس کے بعد ایک کپتان کو قومی اور سیاسی سطح پر بطور وزیر اعظم قیادت کرتے ہوئے یہ سفرطےکرنا ہو گا۔ اس سے پہلے عمران خان نے 18برس کی جدوجہد کے بعد 1992 میں عالمی کرکٹ کپ جیتااور ان کا یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔ 1970کے آخری سالوں میں وہ کرکٹ ٹیم میں بارہویں کھلاڑی ہوا کرتے تھے۔مگر اب اللہ کی شان دیکھئے کہ وہ پاکستان میں نمبر ون پوزیشن پر ہوں گے۔

اب دیکھتے ہیں کہ وہ عمران خان جس نے اپنی والدہ کی یاد میں پاکستان میں پہلا کامیاب کینسر اسپتال بنایا اور اس کو عالمی معیار کے مطابق چلایا۔ اب وہ پورےملک میں کرپشن، نا انصافی ، جہالت اور طرح طرح کی خرابیوں کے پھیلتے ہوئے کینسر کا کیسے علاج کرتے ہیں ، کیا انہیں اپنی ٹیم سے اس حوالے سے پوری سپورٹ ملے گی۔ کیا پاکستان کے عوام کی اکثریت اس طرح ان کا ساتھ دے گی جس طرح حالیہ انتخابات میں دیا ہے ۔ بطور کرکٹر ہمارا تجربہ ہے کہ اسپورٹس مین چاہئے وہ کسی بھی کھیل کا حصہ ہو ، اس میں کچھ نہ کچھ کرنے کا جذبہ ضرورہوتا ہے جبکہ روایتی سیاستدانوں میں یہ چیز ناپید ہوتی ہے۔ وہ بہت سی سیاسی مجبوریوں اور مصلحتوں کے تابع ہوتے ہیں، عموماً اسپورٹس مین کم سیاستدان ایسے نہیں ہوتے اور نہ ہی ہونے چاہئیں۔
عمران خان کی کامیابی کے بعد روایتی احتجاج کرنے والے نجانے کس دھاندلی کا شور ڈال رہے ہیں، وہ کسی کو اس حوالے سے ہدف بنانے کی بجائے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ان کے ساتھ دھاندلی تو پاکستان کے عوام نے کی ہے۔ جنہوں نے آخری رات تک اپنے دلوں کے فیصلےکو نہبدلا اور نہ ہی روایتی سیاسی حریفوں کو اس کا پتہ چلنے دیا۔

عمران خان سے پہلے بین الاقوامی سطح پر ان سے زیادہ سینئر کوئی کھلاڑی وزارت عظمیٰ کے منصب پر نہیں پہنچ سکا۔ عمران خان نے 88ٹیسٹ میچ اور 175ون ڈے میچ کھیلے 382فرسٹ کلاس میچوں میں حصہ لیا۔ جبکہ اس سے قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی اچھے کرکٹر تھے۔ مگر وہ فیلڈنگ سے زیادہ صرف بیٹنگ میں دلچسپی رکھتے تھے۔ میاں نواز شریف ریلوے کی طرف سے ایک فرسٹ کلاس میچ بھی کھیل چکے ہیں۔1970اور 1980 ءکے عرصہ میں وہ بڑی باقاعدگی سے باغ جناح جم خانہ گرائونڈ میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ مگر گرائونڈ میں زیادہ تر اس وقت آتے تھے جبکہ ان کی ٹیم کی بیٹنگ ہوا کرتی تھی ۔ ایک دن عمران خان کے کزن ماجد خان نے انہیں بیٹنگ سے پہلے فیلڈنگ کے لئے پابند کیا۔ تو میاں نواز شریف اس کے بعد کافی عرصہ جم خانہ گرائونڈ نہیں آئے۔ خاص کر ماجد خان کے دور میں، یہ اتفاق کی بات ہے کہ عمران خان اور ماجد خان دونوں ملکہ الزیبتھ (برطانوی ملکہ) کے پسندیدہ کھلاڑی بھی تھے۔ وہ اکثر ان کے لندن میں ہونے والے میچ دیکھنے جاتی رہی ہیں، عمران کی کامیابی کے بعد امریکہ نے پاکستان کے معاشی مسائل میں پاکستان کو IMFسے نئے قرضہ کے حصول کے حوالے سے جو شرائط عائد کی ہیں وہ چند ہفتے کے بعد خودامریکی مفادات کی بنیاد پر ختم ہوتی جائیں گی۔ اس لئے کہ ایک عرصہ کے بعد پاکستان کو ایک اچھا وزیر اعظم مل رہا ہے جو سیاسی شہرت سے زیادہ ایک کامیاب کرکٹر بلکہ بائونسر کے حوالے سے جانا جاتا ہے ۔ آنے والے دنوں میں سعودی عرب ، چین اور خود امریکہ بہادر کی طرف سے نئی حکومت کو سپورٹ دینے کے لئے کئی الزامات سامنے آئیں گے اب بال عمران خان کے کورٹ میں ہے کہ وہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں پاکستان کے داخلی مسائل کو کس طرح ایڈریس کرتے ہیں، اس سلسلہ میں انہیں پاکستان کے نوجوانوں، خواتین، کسانوں، محنت کشوں اور دوسرے طبقوں کے ساتھ ملاقاتیں کر کے بھٹو صاحب کے دور کی طرح پسماندہ طبقوں کو تعلیم، صحت اور روزگار سمیت مختلف شعبوں میں مشاورت کرنا ہوگی۔

اس کے لئے اگر وہ بیورو کریسی پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے یہ معاملات چلائیں تو پھر پاکستان کےسماجی اور معاشی حالات میں بہتری کے کئی راستے کھل سکتے ہیں۔ لیکن اگر بیوروکریسی انہیں گھیرنے یا ٹریپ کرنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر بھٹو دور کی طرح انہیں بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عمران خان کو عوام نے براہ راست بھرپور جذبات اور بڑی امیدوں کے ساتھ کامیابی دلوائی ہے۔ اب قوم انتظار کریگی کہ وہ اس کے بدلے میں عوام کو کیا ریٹرن کرتے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں