اعلیٰ جمہوری روایات قائم کرنے کا موقع

August 19, 2018
 

25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد مرکز اور صوبوں میں نئی آئینی اور جمہوری حکومتوں کی تشکیل کا عمل اب مکمل ہونے کو ہے ۔ دنیا پاکستان کو ایک ایسے ملک کی حیثیت سے تسلیم کر رہی ہے ، جہاں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے اور جہاں پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کر سکتی ہے کیونکہ اس سے پہلے دو مرتبہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت کے خاتمے تک کام کرتی رہی ہیں ۔ اب پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور قومی سیاسی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ سیاسی اور جمہوری روایات کو قائم کریں تاکہ پاکستان صرف ایک جمہوری ریاست ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی معاشرہ بھی ایک جمہوری معاشرہ بن سکے ۔

پاکستانی سماج کو ایک جمہوری سماج میں بدلنے کے لیے چند اہم باتوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے اندر ہر سطح پر ’’ شراکتی جمہوریت ‘‘ کو رائج کیا جائے یعنی حکمران سیاسی جماعت تمام امور خصوصاً قانون سازی میں اپوزیشن کے ساتھ با معنی مشاورت کرے اور اپوزیشن مخالفت برائے مخالفت کے نظریہ کو ہمیشہ کے لیے پس پشت ڈال کر ان امور میں اپنی موثر شرکت کو یقینی بنائے ۔ پارلیمانی اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر ہر فیصلہ جمہوری طریقے سے کیا جائے ۔

اس مرتبہ کچھ ایسی خوش آئند باتیں بھی مشاہدے میں آئی ہیں ، جنہیں صحت مند اور اعلیٰ جمہوری روایات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں دیگر پارلیمانی جماعتوں سے تعاون حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ، جو قابل ستائش ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے قائدین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے ساتھ گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف سے بھی ہاتھ ملایا ۔ اس بات کو بھی بہت سراہا گیا ۔ ان خیر سگالی اقدامات سے سیاسی مخاصمت کا خاتمہ تو نہیں ہو گا لیکن یہ تاثر ختم ہو ا ہے کہ تحریک انصاف اور مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کریں گے ۔ سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو پارلیمنٹ میں ایسا رویہ اختیار کرنا چاہئے کہ مخالفت اصولی اور سیاسی بنیادوں پر ہو ۔ لوگوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ سیاسی رہنماؤں کی دشمنی یا مخاصمت ذاتی بنیاد پر ہے ۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود حالیہ انتخابات کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ اسمبلیوں میں حلف اٹھا چکے ہیں ۔ اب انہیں اعلیٰ پارلیمانی روایات کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ پاکستان کے نو منتخب وزیرا عظم عمران خان کا لہجہ بھی بہت تبدیل ہو گیا ہے اور وہ ایک ریاست کار ( اسٹیٹس مین ) کے طور پر سامنے آئے ہیں ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ماضی کی مخاصمانہ سیاست کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔

سیاسی جماعتوں نے اعلیٰ آئینی عہدوں پر نامزدگی کے لیے اس مرتبہ اپنی سیاسی جماعتوں خصوصاََ پارلیمانی پارٹیز کے ساتھ پہلے سے زیادہ مشاورت کی ۔ پاکستان تحریک انصاف نے صوبوں کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ سمیت دیگر اہم عہدوں پر نامزدگی کے لیے اپنی پارلیمانی پارٹی سے جس طرح طویل مشاورت کی ، وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے قابل تقلید ہے ۔ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر پہلے جس شخص کی نامزدگی کی تھی ، پارلیمانی پارٹی کے اندر اس کا نام واپس لیا اور ایک ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ کے عہدے پر نامزد کیا ، جس کے نام پر پارلیمانی پارٹی میں اتفاق تھا ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بھی طویل اور وسیع تر مشاورت کا عمل تادم تحریر جاری تھا ۔ سندھ میں اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سید مراد علی شاہ کو دوبارہ وزیر اعلیٰ سندھ بنانے کا اعلان کر دیا تھا لیکن اس اعلان سے قبل بھی پارلیمانی پارٹی سے طویل مشاورت ہوئی اور اس نامزدگی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے فیصلے کو پارٹی کے دیگر ارکان اسمبلی بھی میرٹ کے مطابق فیصلے سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ اگرچہ آج بھی پارٹی سربراہ کے فیصلے سے اختلاف کرنے یا جمہوری معاشروں کی طرح اس فیصلے کے خلاف لابنگ کرنے کی روایت ابھی تک قائم نہیں ہوئی ہے لیکن اب پارٹی سربراہ کی ڈکٹیشن کا دور بھی ختم ہو چکا ہے ۔ اب وہ حالات بھی نہیں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ گورنر جنرل غلام محمد وزرائے اعظم اور کابینہ کے ارکان کا کسی سے پوچھے بغیر اعلان کر دے ۔ اب نہ صرف سیاسی جماعتیں خود فیصلے کررہی ہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی مشاورت یا کم از کم معقول جواز پیش کرنے کی روایت قائم ہو گئی ہے۔ اب اس روایت کو مزید جمہوری معاشروں کے معیار کے مطابق آگے بڑھانا چاہئے ۔

پہلے یہ ہوتا تھا کہ سیاسی جماعت کا اپنی پارلیمانی جماعت کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا ۔ عام طور پر اگر سیاسی جماعت حکومت میں آ جاتی تھی تو اعلیٰ حکومتی عہدہ یا پارٹی سربراہ کا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس ہوتا تھا ۔ سیاسی جماعت اور اس کی پارلیمانی جماعت کا صرف یہی ایک تعلق ہوتا تھا ۔ سیاسی جماعت کے عہدیدار یہ سوال نہیں کرسکتے تھے کہ پارلیمنٹ میں جانے والے ان کے لوگوں کی کارکردگی کیا ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں جانے والا خراب کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے یا کرپشن میں ملوث ہو رہا ہے تو سیاسی جماعت اس کا احتساب نہیں کرتی تھی لیکن اب یہ صورت حال بھی تبدیل ہو رہی ہے ۔ اب سیاسی جماعتوں کے کارکن اور عہدیدار کسی حد تک احتساب کے عمل میں شریک ہو گئے ہیں اور ان کی تنقید اور سوالات کی شنوائی ہوتی ہے ۔ اس عمل کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی جماعتیں اپنی حکومتوں کی کارکردگی کو سختی سے مانیٹر کریں۔ اعلیٰ اور صحت مند جمہوری روایات کو رائج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمانی اداروں خصوصاً سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلی کی مجالس ہائے قائمہ (اسٹینڈنگ کمیٹیز ) اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیز کو مضبوط کیا جائے ۔ حکومت اس طرح اپوزیشن کا تعاون حاصل کر سکتی ہے اور اپوزیشن اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتی ہے ۔

ماضی میں ان کمیٹیوں سے اصل کام نہیں لیا گیا ۔ اب ان کمیٹیوں کے ذریعہ احتساب اور جمہوری تعاون کا حقیقی ماحول پیدا کرنا ہو گا ، جو نہ صرف پارلیمنٹ کے استحکام کا وسیلہ بنے گا بلکہ جمہوری معاشرے کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہو گا ۔ ان کمیٹیوں کی سفارشات کو نظر انداز کرنے کی روایت ختم کرنا ہو گی کیونکہ کمیٹیوں ، حکومت اور اپوزیشن کے ارکان غورو خوض اور ریاضت کے بعد کوئی سفارش یا فیصلہ کرتے ہیں ۔ دنیا بہت بدل چکی ہے ۔ نئی نسل بہت باشعور ہو چکی ہے ۔ وہ اچھی حکمرانی اور دیانت داری کا تقاضا کر رہی ہے ۔ وہ شفافیت ، میرٹ اور انصاف پر مبنی معاشرے کے لیے بہت امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو طرز کہن بدلنا ہو گا ۔ سیاسی جماعتیں اب بلاوجہ کی مخاصمت سے نئی نسل کو قائل نہیں کر سکتی ہیں ۔ انہیں پارلیمنٹ کے اندر ، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ، اپنی کارکردگی اور اپنے جمہوری رویوں کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ سیاسی جماعتوں کو اداروں کے کام میں مداخلت سے اجتناب کرنا ہو گا ۔ عدلیہ ، قانون نافذ کرنے والے اور انتظامی اداروں کو قانون کے مطابق اپنا کام کرنے کا ماحول مہیا کرنا ہو گا اور اپنے لوگوں کی پارلیمنٹ میں کارکردگی اور ان کے خراب کاموں پر ان کے احتساب کا نظام وضع کرنا ہو گا ۔ ایک جمہوری ملک کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے آپ کو ایک جمہوری معاشرے کے طور پر دنیا میں تسلیم کرنا ہو گا ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں