پہلا خطاب۔ دلوں کی آواز

August 21, 2018
 

اتوار کی شب وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنا پہلا خطاب کیا، ان کی تقریر روایتی طور پر کوئی لکھی ہوئی شاہکار تو نہیں تھی مگر ان کا ایک ایک لفظ ہر پاکستانی کے دل کی آواز تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے عمران خان پاکستانیوں کے دلوں کے دکھڑے بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک آدھ کاغذ قوم کو دکھایا ضرور لیکن جو کچھ بیان کیا وہ انہیں ازبر تھا۔ عمران خان تمام مسائل کو بڑی باریک بینی سے بیان کر گئے، انہیں نہ صرف مسائل کا ادراک تھا بلکہ ان مسائل کے حل کا بھرپور جذبہ بھی تھا۔ میں نے آج تک جتنے بھی وزرائے اعظم کی تقاریر سنی ہیں، عمران خان کی تقریر سب سے بہتر، سب سے شاندار تھی۔ شاید قائد اعظمؒ کے بعد ستر برسوں میں ایسی تقریر ہوئی ہی نہیں، ایک ایسی تقریر جس میں قومی غیرت اور عزت کو جگایا گیا ہو۔

ایک گھنٹہ اور دس منٹ پر مشتمل عمران خان کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ ہمیں اپنی سوچ کو، اپنے آپ کو بدلنا ہو گا، اپنے رہن سہن کو بدلنا ہو گا۔ عمران خان نے خوب یاد کروایا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم ایک مقروض قوم ہیں، یہاں کیا تماشا لگا رہا کہ یہاں لوگ ملکی دولت پر عیاشیاں کرتے رہے۔ پچھلے وزیر اعظم نے تو اپنے دوروں پر 65کروڑ اڑا ڈالے۔ نئے وزیر اعظم کا سادگی اپنانے کا فیصلہ بہت عمدہ ہے، ان کے اس فیصلے کو بہت سراہا جا رہا ہے، وہ ایک چھوٹے گھر میں رہیں گے، دو ملازم رکھیں گے، دو گاڑیاں استعمال کریں گے، کتنی شرم کی بات ہے کہ اس سے پہلے مقروض ترین ملک کا وزیر اعظم 80گاڑیاں استعمال کرتا تھا، 524ملازمین اس کے اشارئہ ابرو کے منتظر رہتے تھے، پتہ نہیں 35بلٹ پروف گاڑیاں کون کون استعمال کرتا رہا۔

خواتین و حضرات! آج سے پہلے کیا زمانہ تھا کہ ملک کے قرضے بڑھتے جا رہے تھے مگر احساس سویا رہا، کسی کو خیال نہ آیا کہ خرچے کم کر دیئے جائیں، کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ ہمارا ملک غریب ہوتا جا رہا ہے، 60سال کا قرضہ چھ ہزار ارب تھا، 2013ء تک پندرہ ہزار ارب ہو گیا اور پھر مفرور ڈار آ گیا، اُس نے اس ملک پر ظلم کیا، اُس نے پندرہ ہزار ارب کو پر لگائے اور قرضے کو اٹھائیس ہزار ارب تک لے گیا، یہ سب کچھ کرتے وقت اس شخص کو نہ ندامت ہوئی نہ شرمندگی ہوئی اور نہ ہی یہ احساس ہوا کہ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، اسے یہ خیال نہ آ سکا کہ ہم دنیا کے پانچ ایسے ملکوں میں شامل ہو رہے ہیں جہاں مسائل ہی مسائل ہیں، جہاں بچے مناسب خوراک اور صحت کی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔

دوستو! وزیر اعظم عمران خان نے سادگی کی باتیں ہی نہیں کیں اس پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے آغاز اپنی ذات سے کیا ہے، اب آپ بتایئے کیا قانون پر عملداری کی بات کرنا غلط ہے، کیا میرٹ کی بات کرنا غلط ہے، کیا یہ بات غلط ہے کہ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا بھی خیال رکھا جائے۔ اس بات کو کون غلط کہے گا کہ ملک کے غریبوں، بیوائوں، معذوروں اور کسانوں کے حقوق کی بات کی جائے۔ نئے وزیر اعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ حکمران کو قانون کا سامنا کرنا چاہئے۔ انہوں نے بارہا ریاست ِ مدینہ کا تذکرہ کیا، دنیا اس بات سے کیسے مکر سکتی ہے کہ ریاست ِ مدینہ ہی دنیا کا بہترین ماڈل ہے جس میں ہر ایک کے حقوق محفوظ ہیں۔

میں نے دنیا کے کئی ملکوں میں دیکھا ہے کہ لوگ بڑی ایمانداری سے ٹیکس دیتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں ٹیکس چور حکومت کرتے رہے، آج اگر عمران خان نے ٹیکس دینے کی بات کی ہے تو غلط بات نہیں کی، جو لوگ بھی ٹیکس دینے کے قابل ہیں انہیں ہر صورت میں ٹیکس ادا کرنا چاہئے اور حکومت کو بھی ہر صورت میں ایسے لوگوں سے ٹیکس لینا چاہئے۔ کرپشن کا خاتمہ تو بڑے عرصے سے لوگوں کے دل کی آواز بنا ہوا ہے کیونکہ لوگوں کا پیسہ کرپٹ افراد کی جیبوں میں چلا جاتا ہے، اسی سے تو ادارے برباد ہوئے، اسی سے تو مسائل نے جنم لیا۔

نئے وزیر اعظم عمران خان نے مافیا کو للکارا ہے، جو لوگ لوٹ مار کرتے رہے ہیں ان کے خلاف ڈٹ جانے کا عہد کیا ہے اور قوم کو صاف بتا دیا ہے کہ ’’جب ہم ہاتھ ڈالیں گے تو یہ شور مچائیں گے، ہو سکتا ہے کہ یہ سڑکوں پر آئیں اور کہیں کہ جمہوریت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔‘‘ اب وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ قوم عمران خان کا ساتھ دے کیونکہ عمران خان نے جتنی باتیں بھی کی ہیں وہ قوم کی بہتری میں کی ہیں۔ انہوں نے قوم کی اکثریت کے مسائل کی بات کی ہے، ان کی اس بات کو بھی نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ جو لوگ اپنی دولت بیرون ملک رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو ووٹ دینے سے گریز کیا جائے۔ لیڈر تو وہی ہوتا ہے جو اپنی دولت اپنے ملک میں رکھے، جو اپنے ملک سے بہت پیار کرے۔ آپ کو یاد تو ہو گا کہ مائوزے تنگ ہمیشہ کہتا تھا کہ چین سے اچھا کوئی ملک نہیں، اس نے چینی زبان کو رواج دیا، عمران خان کو چاہئے کہ وہ اردو زبان کو رواج دیں، قائد اعظمؒ نے اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا۔ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں کالے انگریز حکومت کرتے رہے کسی نے اردو کو اہمیت ہی نہیں دی۔ یاد رکھئے کہ انگلستان کے پاگل خانوں میں بھی لوگ انگریزی بولتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں انگریزی کو قابلیت کی علامت سمجھ لیا گیا حالانکہ زبان صرف ذریعۂ اظہار ہے، قابلیت اور چیز کا نام ہے۔

عمران خان نے صفائی کی بات کی، سبزے اور پانی کی بات کی، تمام مسائل حل کرنے کی بات کی۔ سچ پوچھئے تو عمران خان کا قوم سے خطاب دراصل قوم کے دلوں کی آواز تھا۔ عمران خان اپنی ہر تقریر میں علامہ اقبالؒ کو ضرور یاد کرتے ہیں، آج اقبالؒ کی شاعری وزیراعظم عمران خان کی تقریر سننے کے بعد بہت یاد آ رہی ہے کہ

تسکین نہ ہو جس سے، وہ راز بدل ڈالو

جو راز نہ رکھ پائے، ہم راز بدل ڈالو

تم نے بھی سنی ہو گی، بڑی عام کہاوت ہے

انجام کا ہو خطرہ، آغاز بدل ڈالو

پُرسوز دلوں کو جو، مسکان نہ دے پائے

سُر ہی نہ ملے جس میں وہ ساز بدل ڈالو

دشمن کے ارادوں کو ہے زیر اگر کرنا

تم کھیل وہی کھیلو، انداز بدل ڈالو

اے دوست کرو ہمت کچھ دور سویرا ہے

گر چاہتے ہو منزل تو پرواز بدل ڈالو

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں