امید کے دئیے

August 21, 2018
 

انصاف کے نام پہ22 سال قبل نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے والے عمران خان اپنی مدمقابل جماعت ہی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت سے حلف اٹھا کر پاکستان کے22 ویں وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم منتخب ہونے کیلئے انہوں نے176 ووٹ حاصل کئے اس طرح قائد ایوان کا منصب اتحادی جماعتوں کے ووٹوں سےہی ممکن ہو سکا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی ٹیم میں ان جماعتوں کے7 کھلاڑیوں کو شامل کر کے فوری احسان کا بدلہ بھی چکا دیا ہے۔ یہ تو ابتدا ہے اس لو دو کی کیونکہ صرف چار ووٹوں سے قائم کرسی کو بچانے کے لئے انہیں کتنی بار اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنا اور کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑیں گے اس کا بخوبی ادراک بھی خان صاحب کو جلد ہی ہو جائے گا۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد پہلے ہی دن قومی اسمبلی میں عمران خان کو اپوزیشن بالخصوص پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان کی طرف سے جس شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ باب تو ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جناب وزیر اعظم کو یہ احساس دلانے کے لئے بھی کافی ہو گا کہ احتجاج بھی خاص حد تک ہی قابل قبول ہوتا ہے اور اپنےاس جمہوری حق کے لئے آزادی کا استعمال اس نہج تک ہر گز نہیں جانا چاہئے جہاں سے اگلے کی ناک شروع ہوجائے۔ اس صورتحال میں تو انہیں پارلیمان میں اس پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو جیسے نووارد کا جمہوریت پر لیکچراور ناصحانہ کردار بھی بہت بھلا دکھائی دیا ہے جس نے ایوان میں بیٹھے ہوئے بھی ملک کے وزیر اعظم کے انتخاب جیسے انتہائی اہم جمہوری عمل میں حصہ تک نہیں لیا۔ عمراں خان پر جہاں بہت سے لوگوں کے ان گنت روئیے اور بہروپ آشکار ہوں گے وہیں وزارت عظمی کے منصب جلیلہ پرفائز ہونے کے بعد اب بتدریج ان پر اس عہدے کے تقاضوں سے لے کر مجبوریوں تک ایسے ایسے در وا ہوں گے جس کے بعد توقع کی جا سکتی ہے کہ ان کی ذات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔اب اسی پارلیمان کے ارکان کا کمیشن بنا کر اپوزیشن کا مطالبہ پورا کرنے کی بجائے وہ انہیں عدالتوں کا دروازہ کٹھٹھکانے اور کنٹینر پر چڑھنے کے مشورے کیوں دے رہے ہیں۔ ہم یہ بھی زیر غور نہیں لاتے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے خان صاحب کواس تبدیلی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے ایک درجن لوگ بھی اپنی پارٹی سے میسر نہیں ا سکے اور انہیں سابق آمر پرویز مشرف کے : ہیروں ؛ پر اکتفا کیوں کرنا پڑا۔چھوڑیں، ان تمام اور اس طرح کی کئی دیگر فضول اور لغو باتوں میں الجھنے کی بجائے ہم مستقبل کے سہانے سپنوں کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے۔ عمران خان کی سب سے بڑی خوش قسمتی اور طاقت یہ ہے کہ قوم کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام انہیں ایک نجات دہندہ اور مسیحا تصور کرتے ہیں۔ قوم کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ وہ صرف کپتان کی طرف دیکھ رہی ہے اس کی ٹیم کی طرف بھی نہیں کیونکہ انہیں یقین محکم ہے کہ ان کا کپتان ناممکن کو ممکن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے پونے دو کروڑ ووٹرز کے ساتھ پچیس جولائی کے دن گھروں میں بیٹھے رہنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو بھی اندھا اعتقاد ہے کہ عمران خان کو پاکستان کی تقدیر بدلنے کا گرآتا ہے۔ انہیں بھروسہ ہے کہ خان مٹی کو ہاتھ لگائے تو وہ سونا بن جاتی ہے ،وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دکھوں کا مداوا اگر کوئی کر سکتا ہے تو اس لیڈر کا نام صرف عمران خان ہے۔ وہ صرف یہ مانتے ہیں کہ پاکستان کو 71 سالوں سے اس کی کھوئی منزل تک اگرکوئی پہنچا سکتا ہے تو وہ بھی صرف عمران خان ہی ہے۔ عوام واقعی اپنے کپتان سے تبدیلی کے متمنی ہیں وہ حقیقت میں ایک نیا پاکستان چاہتے ہیں، وہ ہر گز آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے طلبگار نہیں ہیں وہ غیرحقیقی خواہشات کے اسیر بھی نہیں ہیں انہیں اپنے کپتان سے صرف ایسا پاکستان چاہئے جس میں قانون کسی طاقت ور کے گھر کی لونڈی نہ ہو بلکہ قانون کا سب پہ مساوی اطلاق ہو، وہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں انصاف کا ترازو ہمیشہ کسی بااختیار اور متمول کی طرف ہی نہ جھکے۔ وہ اس پاکستان کی توقع کرتے ہیں جہاں کوئی صاحب اقتدار و اختیار آئین کو موم کی ناک نہ بنا سکے، جہاں بالا دستی کے تمام سوتے جمہوریت سے پھوٹیں، جہاں کا نظام کسی طاقت اور امارت کے نشے میں بد مست کے سامنے لونڈی بن کے نہ کھڑا ہو، عوام عمران خان سے وہ پاکستان چاہتے ہیں جہاں بد عنوان کو پکڑے جانے پرتمام عمرجیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کا خوف لاحق ہو، جہاں کوئی نو گو ایریا ہو نہ ہی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، جہاں کسی کو مسجد ،مندر، گرجے اور گوردوارے میں جاتے ہوئے عدم تحفظ کا احساس نہ ہو ، فرقہ واریت کا نام و نشان نہ ہو،جہاں اظہاررائے کی آزادی ہو، جہاں جرم کا مرتکب گمشدہ نہ ہو بلکہ اسےعدالت سے سزا ملے، جہاں کسی صوبے میں احساس محرومی نہ ہو بلکہ وہ ایک مٹھی کی شکل میں متحد ہوں۔ عوام عمران خان سے ایسے پاکستان کے طلبگار ہیں جہاں پروٹوکول اور سیکورٹی کے نام پر ان کی عزت نفس کا جنازہ نہ نکالا جائے، جہاں تعلیم یافتہ نسل کو پرچی پہ نہیں بلکہ قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر نوکری نہ ملے ، جہاں عوام کی عزت نفس کے تحفظ کا پیمانہ رنگ و نسل یا امارت و غربت نہیں بلکہ ان کا کردار ہو۔ جہاں تعلیم و صحت سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہو،جہاں سبز پاسپورٹ عزت کا نشان سمجھا جائے اور روپے کی قدر ہو، جہاں روشنیاں ہمیشہ جگمگاتی رہیں اور سب سے بڑھ کر عوام عمران خان سے وہ پاکستان چاہتے ہیں جہاں پیاس سے مرنے والے ایک کتے کا حساب بھی ان سے لیا جائے۔ وزیراعظم پاکستان سے بصد ادب گزارش ہے کہ وہ اپنی سمت متعین کرنے کے لئے100 دن مقرر کریں یا 10 دن عوام ان سے 1825 دن بعد حساب لیں گے۔ اس تسبیح کہ؛ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں؛ کو اپنا ایمان سمجھنے والے عمران خان کیلئےدعا ہے کہ اللہ ان کی مدد فرمائے اور وہ عوام کی آنکھوں میں امید کے دئیوں کو روشن رکھ سکیں کیونکہ خدانخواستہ اگر یہ دیئے بجھ گئے تو یہ صرف عمران خان کی نہیں پاکستان کی ناکامی ہو گی۔


مکمل خبر پڑھیں