آپ کیوں خاموش رہے؟

September 02, 2018
 

پی ٹی آئی حکومت کو بنے 2ہفتے ہوچکے ہیںاورصدر کے چنائو کے لئے ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے ۔فی الحال 4مستندسیاست دان نامزد ہوئے ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے اعتزازا حسن، اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمن کی حمایت کا اعلان کیا ہے،جنہیں پی پی پی والوں کو منانے کے لئے بھیجا تھا جو بعد میں خود امیدوار بن گئے۔ پھر مسلم لیگ (ن)نے بھی امیر مقام کو نامزد کرکے سب کو حیران کردیا ۔تحریک انصاف نے کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عارف علوی کو نامزد کیاجو روز اول سے متوقع امیدوار تھے۔اب بظاہر پی ٹی آئی کا پلڑابھاری ہے ۔اور وہ تینوں کے مقابلے میں صدر پاکستان بن سکتے ہیں۔فی الحال تو اس وقت مخالفین اور میڈیا کے تیر عمران خان کے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے چنائو پر برس رہے تھے کہ اُس کے ثمرات بھی نمودار ہونا شروع ہوگئے ۔پہلے بشریٰ بی بی کے سابق خاوند اور پولیس کے ٹکرائو کا نتیجہ ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو بھگتنا پڑا جن کو معافی نہ مانگنے پر معطل کردیا گیا ۔یہ تھا پہلا سی ایم پنجاب کا فیصلہ جو ان کے دوست نے سنایا۔ پھر چیف منسٹرعثمان بزدار بنفس نفیس اپنے قافلے کے ساتھ سرکاری ہیلی کاپٹر میں اپنے سسر سے ملنے میاں چنوں پہنچے وہاں سے 25گاڑیوں کے قافلے میں پاکپتن پہنچے سرکاری خرچہ پر ہیلی کاپٹر کا استعمال، وہ بھی ذاتی کام اور پھر اُسی آن بان سے پاکپتن جس کا تمام شہر پولیس نے ماضی کی طرح سی ایم کے لئے بلاک کررکھا تھا ۔عوام کو جھرجھری آئی اور پہلی بار عوام کا ردِعمل بھی دیکھنے میں آگیا کہ کیا تبدیلی آئی ؟ پھر ان کے وزیر ریلوے شیخ رشید کی 2 افسران کی معطلی کی داستان سننے کو ملی پھر وہی پولیس پروٹوکول دیکھنے کو ملا ۔راولپنڈی کے بھرے بازار میں عوام کی موٹر سائیکلوں کو گراکر راستہ بنایا گیا ۔اگرچہ یہ معاملات معمولی نوعیت کے تھے مگر عوام کی توقع کے خلاف تھے ۔رہی سہی کسر وزیراطلاعات فواد چوہدری نے55روپے والے ہیلی کاپٹر پر وزیراعظم عمران خان کے سفر کی روداد سنا کر پوری کردی ۔راقم امریکہ کے ڈزنی ورلڈ میں 50ڈالر اکیلے دو نشست والے ہیلی کاپٹر میں شہر کا چکر لگا چکا ہے ۔یہ بات بھی کسی نے نہیں سوچی کہ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کیلئے 100سو ،پچاس گاڑیوں والے پروٹوکول جس میں گھنٹوں عوام محبوس رہتے ہیں،سے بہتر ہے پانچ ہزار کے خرچےپر بغیر عوام کو تکلیف پہنچائے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال ہی کرلیا جائے ۔ وزیراطلاعات کی بے خبری پوری پی ٹی آٹی کی کارکردگی کو لے ڈوبی۔وزیراعظم اپنے دوست اور دشمن پر نگاہ رکھیں ۔

ہمارے سبکدوش ہونے والے صدر پاکستان ممنون حسین صدر بننے سے کئی سال قبل راقم کی تعلیمی درس گاہ کے این اکیڈمی ملیر کیمپس میں تشریف لائے تھے اور راقم کو مشورہ دیا تھا کہ پاکستان میں ٹیچرز ٹریننگ کا کوئی ادارہ نہیں ہے ۔اس بڑے کیمپس میں ٹیچرز ٹریننگ اسکول کا اضافہ کردیا جائے تو ٹیچرز کامسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔اتفاق سے وہ پھر صدر پاکستان بن گئے تو میں نے اپنے کالم میں ذکر کیا تھا کہ ماضی میں ترکی کےایک صدر نے اپنے 8سالہ دور میں ترکی کی بیشتردرسگاہوں اور اسپتالوں کے باربار دورے کرکے ان کی درستی کا وعدہ پورا کیا ۔اور آج ترکی درسگاہوں اور اسپتالوں کی اصلاح میں سب سے آگے ہے تو یہی کام صدر پاکستان بھی انجام دے سکتے تھے کوئی بڑا مشکل کا م نہیں تھا اور صدارتی عہدہ ایک نمائشی عہدہ ہے فرصت ہی فرصت ہوتی ہے مگر جب 5سال گزرنے والے ہیں مجھے افسوس ہے ہمارے صدر صاحب نے ان 5سالوں میں ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کے لئے قوم انہیں اُس ترک صدر کی طرح یاد رکھے ۔اور تو اور ممنون حسین صاحب کا تعلق کراچی سے ہے 5سال قبل کراچی کی سڑکیں ایسی ٹوٹی پھوٹی نہ تھیں نہ وہاں گٹروں کے ڈھکنے غائب اور پانی اُبلنے کے واقعات ہوتے تھے ۔ سندھ حکومت کے ہاتھوں کراچی کھنڈر بنتا رہا ۔صدر صاحب نے ایک مرتبہ بھی گورنر یا چیف منسٹر کو بلاکر نہیں پوچھا جو ان کے صوابدیدی فرائض میںشامل تھا، نہ خود قصرصدارت کی فضول خرچیوں کی طرف نظر ڈالی ۔عوام کی اطلاع کے لئے کہ جہاںسابق وزیراعظم ایک کھرب کا بجٹ سالانہ قوم کی جیب سے لوٹتے تھے وہاں ہمارے صدر پاکستان قصرِصدارت کا 86کروڑ 30لاکھ روپیہ 2016تک خرچ کرتے رہے اور 2017ء میں اُس میں 8کروڑ کا اضافہ کروایا گویا صرف ایک خاندان کے لئے 94کروڑ عیاشی نہیں تو اس کوکیا نام دیاجائے ۔جبکہ صدر کے اسٹاف کی تنخواہ 10کروڑ ان کے آفیسرز کی 9کروڑ اُس پر مزید 45کروڑ دیگر الائونس15 کروڑ آپریٹنگ اخراجات 10کروڑ گرانٹس کے علاوہ 2کروڑ قرضوںکی معافی ۔قصرِصدارت پر اتنا خرچ کرکے قوم کے لئے کیا کام کیا ؟

ان کے منصب میں شامل تھا کہ وہ کرپشن پر نگاہ رکھیں ۔ان کے سامنے اورنج ٹرین کا فراڈ، اسلام آباد ائرپورٹ اور ٹرین کے گھپلے اسپتالوں کے نام پر فرضی کمپنیوں کو اربوں کا فنڈ دیا گیا ۔بجلی کی پیداوار میں فراڈ ہوا،ہائوسنگ اسکیموں میں عوام کو لوٹا گیا ،کے الیکٹرک کراچی والوں کو لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کرتارہا ،تیل اور ڈیزل کے عالمی نرخ گرنے کے باوجود معمولی ریلیف دے کر دوبارہ سرچارج اور طرح طرح کے ٹیکس لگاکر 50روپے لیٹر کا تیل 95روپے میں فروخت کرکے عوام کو لوٹاگیا۔ جس کی وجہ سے بسوں ،ریل ،ویگنوں کا کرایہ بڑھ گیا ۔کیا کسی ایک موقع پر بھی وزیراعظم نوازشریف یا خاقان عباسی سے باز پرس کی گئی ۔جس طرح سابق صدر غلام اسحاق خان نے 2دو مرتبہ اپنے ادوار میں2 وزراء اعظم کی سرزنش کی اور انہیں معزول کرکے گھر بھیجا اور اپنا دامن ہر طرح کی کرپشن سے پاک رکھا ۔بیشک آپ کے پاس 58-2/Bکااختیار تو نہیں تھا مگر آپ مواخذہ تو کرسکتے تھے دونوں وزراء اعظم اور اُن کے وزراء کرپشن کرتے رہے اور آپ دیکھتے رہے ۔ سُنا ہے آپ کو تو جاتے جاتے سابق وزیراعظم آپ کی سبکدوشی کے بعد ایک نیا مکان 2ہزار گز معہ سازو سامان الاٹ بھی کر گئے ہیں، کیونکہ آپ کا موجودہ مکان صرف 500گز کا ہے جو آپ کی سیکورٹی کے لئے ناکافی ہے ۔حضرت عمرؓ سے ایک بدو ایک قمیص کا حساب مانگ سکتا ہے تو قوم آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ کیوں خاموش رہے ۔کیاعمران خان گورنرہائوسز ،چیف منسٹرہائوسز اور قصرِصدارت خالی کروائیں گے یاایسے ہی وعدے ہوں گے جو پہلے ہوا کرتے تھے اور آج تک کوئی عمل نہیں ہوا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں