وزیراعظم ’’صحافی عدالت ‘‘میں!

September 03, 2018
 

کپتان کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کیا وجہ 12دنوں میں اتنی بات پرفارمنس پر نہ ہوئی جتنی ان غلطیوں پر، جن سے باآسانی بچا جا سکتا تھا۔

سہ پہر پونے 3بجے وزیراعظم سیکرٹریٹ کے پورچ میں گاڑی سے اترا،سامنے نظر پڑی، وزیراعظم کی دو مرسیڈیز کاریں کھڑیں ،صرف دو گاڑیاں، میں نے سوچا، گیلانی صاحب اور میاں نواز شریف نے تو حد ہی کر دی تھی، مگر ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز کیلئے بھی یہیں اپنی آنکھوں سے 20بیس ،25پچیس گاڑیاں کھڑی دیکھیں اور پھر یہ بھی دیکھا کہ ایک اشارے پر سفید کرولا رُکی،ڈرائیور کے ساتھ اکیلئے جمالی صاحب،نہ کوئی آگے ،نہ پیچھے، نجانے اقتدار میں آکر لوگ قیمتی اور اقتدار سے نکل کر سستے کیوں ہو جاتے ہیں، میں ابھی وہیں کھڑا تھا کہ ایک گاڑی آکر رُکی،یہ دوست فواد چوہدری تھے ،سلام دعا اور پھر اگلے دو منٹوں میں چوتھے فلور پر، ہمیں وزیراعظم کے دفتر کے عین سامنے اس کمرے میں بٹھایا گیا ،جو وزیراعظم کے مہمانوں کاویٹنگ روم ، وقت ِ ملاقات تھا 3بجے، ٹھیک 3بجے عمران خان آئے، ہاتھ ملانے کی زحمت میں پڑے بنا ایک مشترکہ سلام پھینک کر وہ سامنے صوفے پر بیٹھے اور کوئی بھاشن دیئے بنا بس یہ کہہ کر کہ ’’میں نے سوچا آپ سب سے ملا جائے، ایشوز پر آن بورڈ کیا جائے ‘‘ جی پوچھئے، سوال جواب شروع ہوئے اور پونے دو گھنٹوں تک ہوتے رہے۔

ان پونے دو گھنٹوں میں 18صحافیوں نے وزیراعظم کیساتھ بلامبالغہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کھیلا، پاکپتن سے امریکہ تک ، خاور مانیکا سے ٹرمپ تک، ہیلی کاپٹر خرچے سے ملکی قرضوں تک اور سیاسی و بیوروکریسی تقرریوں سے دورہ جی ایچ کیو تک ویسے تو ہر معاملے پر ہی چبھتے، تلخ سوال ہوئے لیکن پاکپتن ایشو پر وزیراعظم پر یوں تابڑ توڑ حملے ہوئے کہ بعض موقعوں پر کپتان کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا، دو چار سوالوں کے بعد میں نے پوچھا ’’خاور مانیکا کی کوئی سیاسی یا قانونی حیثیت‘‘ وہ بولے ’’ نہیں ‘‘ پوچھا ’’ کیا وہ قانون سے بالاتر‘‘جواب آیا ’’ وہ کیا میں بھی قانون سے بالاتر نہیں‘‘ میں نے کہا ’’پھر پولیس کے روکنے پر مانیکا صاحب کا یہ ردِعمل کیوں ‘‘وزیراعظم کا جواب تھا ’’ مگر میرے پاس جو کہانی، اسکے مطابق پولیس نے زیادتی کی ‘‘ عامر متین بول پڑے ’’لگ رہا آپ کو حقائق کا علم نہیں، آپ کی کہانی درست نہیں‘‘ وزیراعظم بولے ’’چلو پھر تو اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا ، حقائق سامنے آجائیں گے ‘‘۔

بات یہیں پہنچی تھی کہ دوست روف کلاسرا نے وزارت ِعظمیٰ کی مبارکباد دیکر مانیکا ایشو پر میٹھے، دھیمے انداز میں چڑھائی کی تو کپتان نے کہا ’’کیا میں نے کسی کو فون کیا ،کیا میں نے آئی جی یا وزیراعلیٰ کو کہا کہ یہ کرو یا وہ کرو ، کسی نے وزیراعظم ہاؤس سے کسی پر کوئی دباؤ ڈالا،یہ چھوڑیں، بشری بی بی نے کوئی فون کیا یا پریشر ڈالا ہو ، بلکہ 5اگست کو جب پولیس نے مانیکا فیملی سے بدتمیزی کی،تو بشری بی بی نے مجھے کہا کہ آپ نے اس معاملے میں نہیں پڑنا ، کہانیاں بنیں گی، ہاں اس بارے میں نے پرنسپل سیکرٹری سے یہ ضرور کہا کہ’’ آئی جی سے اس معاملے کی رپورٹ لیں‘‘،باقی یہ تو آئی جی سطح کا معاملہ تھا ،انہیں حل کر لینا چاہئے تھا ، بات وزیراعلیٰ تک بھی نہیں پہنچنا چاہئے تھی ‘‘وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے رؤف کلاسرا بھلا اس جواب پر کب مطمئن ہونے اور خاموش رہنے والے تھے ،انہوں نے ڈیڑھ منٹ میں بشری بی بی کی دوست فرح کے خاوند احسن جمیل گجر کی وزیراعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں ڈی پی او،آر پی اوپاکپتن کو جھاڑنے اور خاور مانیکا سے معافی مانگنے تک پوری کہانی سناڈالی ،ابھی خان صاحب جواب دینے والے ہی تھے کہ مجھ سے بھی نہ رہا گیا ،میں نے کہا’’ وزیراعظم صاحب ابھی سابقہ ’’شاہی خاندانوں ‘‘ سے جان چھو ٹنے کی امید ہی پیدا ہوئی تھی کہ ’’مانیکا شاہی ‘‘ شروع ہو گئی ‘‘ عمران خان کا چہرہ سرخ ہوا مگر اگلے ہی لمحے اپنے روایتی غصے پر قابو پا کر وہ مسکرا کر بولے ’’ میں ،میرا خاندان ،میرے دوست یا کوئی بھی قانون سے بالاتر تھا،نہ ہوگا،میں بادشاہت کا قائل ہوں اور نہ شاہی رویوں کا ،کیس سپریم کورٹ میں ہے ،سب پتا چل جائے گا کہ قصور کس کا ‘‘۔

ویسے تو پاکپتن معاملے پر اتنے سوال ، جواب ہوئے کہ سامنے دیوار پر لگی گھڑی دیکھ کر وزیراعظم کو کہنا پڑا ’’ یار آدھا گھنٹہ ہو گیا اسی معاملے پر ،کچھ ملکی معاملات پر بھی بات کر لیں ‘‘اور ویسے تو ایک سوال اور ، بس ایک آخری سوال کہہ کہہ کر دوستوں نے مزید 15منٹ اس ایشو کے بخیئے ادھیڑ ے لیکن اس حوالے سے ایک کہانی یہ بھی کہ وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی ہمیں یہ نہ بتا پائے کہ 5اگست کو پولیس بدتمیزی کے بعد خاور مانیکا کو پتا چلا کہ یہ سب اوپر سے ہورہا ،تو خاور مانیکا نے گھر آکر بتایا کہ مجھے لگ رہا کہ فلاں فلاں وجوہات کی بنا پر یہ سب ہمارے ساتھ بشری بی بی اور عمران خان کروا رہے اور پھر جب دوسرا واقعہ ہو اتو خاور مانیکا کی بیٹی نے اپنی والدہ بشری بی بی کو فون کر کے کہا’’ پہلے تو میں نہیں مان رہی تھی ، لیکن اب یقین ہوگیا کہ یہ سب آپ لوگ کروا رہے ، مجھے بازو سے پکڑ کر گاڑی سے اتارنا اور ہم پر بندوقیں تاننا ، سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہورہا، یہ بھی سنا جارہا کہ بشری بی بی یہ سوچ رہیں کہ یہ سب اپنے وفاداروں کے ذریعے لیگی کروا رہے ، مقصد عمران خان کو سکینڈلائز کرنا اور یہ بھی سنا جارہا کہ وزیر اعظم کے کہنے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پولیس افسران سے میٹنگ کی ابتداء ہی یوں کی کہ’’ سائیں اس معاملے کو جلدی نمٹائیں ،سب کچھ ہم پر آرہا ہے ‘‘ بلکہ جب انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کیک پیش کیا اور گوندل صاحب نے یہ کہہ کر مجھے بھوک لگی ہوئی تقریباً آدھا کیک پلیٹ میں ڈال لیا تو وزیراعلیٰ ہنس کر بولے ’’ سائیں اب میں یہ سمجھوں کہ معاملہ ختم ہو گیا ‘‘۔

خیر اصل کہانی کیا ،یہ توپتا چل ہی جائے گا‘‘ لیکن حیرت کی بات یہ کہ عمران خان مطلب وزیراعظم پاکستان کو وزیراعلیٰ اور احسن جمیل گجر کی پولیس افسران سے ملاقات سمیت بہت ساری چیزوں کا علم ہی نہیں تھا، یعنی الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر طوفان برپا مگر عمران خان بہت کچھ سے لا علم ،حیرت تب بھی ہوئی جب فیاض چوہان صاحب کے ’’ نرگس ‘‘ سمیت فرمودات کا بتایا گیا تو عمران خان نے ساتھ بیٹھے فواد چوہدری سے پوچھا’’ یہ اس نے آن ائیر کہایا آف ائیر‘‘ جس پر فواد چوہدری نے بتایا کہ آن ائیر،مطلب وزیراعظم اس حوالے سے بھی لاعلم ،خیر بات آگے بڑھی اور سیاسی وبیوروکریٹ تقرریوں پر جب میں نے کہا کہ ’’ آپ کے کافی وزراء اورسیکریٹری ایسے کہ جن پر سنگین الزامات ‘‘تو وزیراعظم کا جوا ب تھا ’’ جب میں انکی سنتاہوں تو ان کے پاس دوسری کہانی لیکن پھر بھی میں کسی کے ماضی کا ذمہ دار نہیں ،میں ان سب کے حال کا ذمہ دار ہوں ، اب فرشتے کہاں سے لاؤں، مگر آپ بے فکر رہیں ، میں اوپر بیٹھا ہوں، وزیر ہو یا بیوروکریٹ ، ،پرفارمنس دیکھوں گا، اگر کارکردگی ٹھیک نہ ہوئی تو تبدیل کر دوں گا ‘‘۔

دوست کاشف عباسی کے اس سوال پر کہ چند دنوں کے معاملات دیکھ کر لگ رہا کہ آپ تیار نہیں تھے حکومت کیلئے ، وزیراعظم کا جواب تھا ’’ ہم تیار تھے مگر ملکی حالات اتنے برے ہوں گے ۔

یہ اندازہ نہیں تھا ، آج بحیثیت وزیراعظم میرا پانچواں ورکنگ ڈے ،ان پانچ دنوں میں ہی جو کچھ دیکھا ،یہی کہوں گا کہ ملک جن کے حوالے تھا ،انہیں خوفِ خدا نہیں تھا‘‘ ، حامد میر صاحب کے اس مشورے پر کہ ’’ آپکو یواین اوجنرل اسمبلی سے خطاب کرنے جانا چاہئے اور خطاب بھی اردو میں کرنا چاہئے ‘‘ وزیراعظم کا جواب تھا ’’ اس وقت جو ملکی حالات ، میں صرف خطاب کرنے یا صدر ٹرمپ کو ملنے چار دنوں کیلئے نہیں جا سکتا ‘‘یہیں عمران خان نے پھر کہا کہ ’’ میری اور امریکی وزیرخارجہ کی دہشت گردی پر کوئی بات نہیں ہوئی اورامریکہ سے باعزت تعلقات رکھیں گے ‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ میں تو یہ کال سننا ہی نہیں چاہتا تھا،امریکی وزیرخارجہ کو ہمارے وزیر خارجہ سے بات کرنی چاہئے تھی لیکن اپنے فارن آفس کے مجبور کرنے پر بات کی ‘‘۔

اسی بیٹھک میں صورتحال تب دلچسپ ہوئی جب ملٹری سیکرٹری اور سیکرٹری خارجہ نے آکر کہا’’ فرانسیسی صدر بات کرنا چاہ رہے‘‘ ، عمران خان بولے ’’ مبارکباد ہی دینا ہوگی ،بتا دیں میں میٹنگ میں ہوں ،آدھے گھنٹے بعد بات کروں گا ‘‘پندرہ بیس منٹوں پر ایم ایس دوبارہ آئے تو وزیراعظم نے انہیں دیکھتے ہی کہا’’پھر آگئی کال ‘‘ جس پر قہقہے لگے لیکن ایم ایس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ’’ سر میں تو بتانے آیا تھا کہ آپکی اگلی میٹنگ کا وقت ہو گیا ہے ‘‘ اسی بیٹھک کے عین درمیان ڈاکٹر شاہد مسعود نے کھڑے ہو کر بتایا ’’وزیراعظم صاحب میں چلا ہی جاؤں تو اچھا کیونکہ مجھے 45منٹ پہلے اس ملاقات کے حوالے سے بتایا گیا ،نسیم زہرہ نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی صحافیوں کی کردار کشی کی جانب توجہ دلائی ،روف کلاسرا نے 4سو کلو میٹر طویل تلہ کنگ ،میانوالی، ملتان روڈ کی بات کی جہاں سنگل ٹریک ہونے کی وجہ سے روزانہ درجنوں جانیں ضائع ہوں ،صابر شاکر بولے ’’میرے ڈویژن سے بھی کوئی وزیر بنادیں ‘‘ ، چوہدری غلام حسین نے کہا ’’جو تقرریاں آپ کر چکے بس فواد حسن فواد کی کمی رہ گئی ‘‘، اپنے دورہ جی ایچ کیو پر بات کرتے ہو ئے وزیراعظم کا کہنا تھا ’’مجھے خوشی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا جمہوریت پر یقین ،جمہوریت کے ساتھ اور جمہوریت کی مضبوطی کے خواہاں ‘‘ ، وزیراعظم نے یہ بھی کہا’’ میر ی حکومت کیلئے دو معاملے سنگین ،قرضے اور انرجی بحران ،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ہم سی پیک ،ایل این جی سمیت سابقہ ادوار میں کئے گئے ہر معاہدے کا جائزہ لے رہے ، وزیراعظم عمران خان نے آخر میں کہا’’ آپ مجھ پر تنقید کریں مگر ایک تو مجھے 3ماہ کا وقت دیں ،ڈلیور کر کے دکھاؤں گا،دوسرا مجھے دو چیزوں پر آپکی مدد درکار، پہلی کفایت شعاری ،بچت مہم ، اس حوالے سے آپ قوم کو شعور وآگہی دیں ،دوسرا احتساب پر میری مد د کریں ، احتساب بلا امتیاز اور بے رحم ہوگا ، کوئی بچ نہیں پائے گا،میں نے قوم کا لٹا پیسہ واپس لانا ہے اگر یہ نہ ہوسکا تو پھر آگے اندھیرا ہی اندھیرا ‘‘‘۔

ملاقات کے بعد ڈھلتی سہ پہر وزیراعظم سیکرٹریٹ سے نکلتے ہوئے جہاں میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ عمران خان ہی جنہوں نے ’’صحافی عدالت ‘‘میں سخت اور مشکل سوالات کا تحمل سے جواب دیا،تلخ باتوں کو مسکرا کر سنا، برداشت کیا ، جہاں میں یہ سوچ رہا تھا کہ بلاشبہ کپتان کی نیت ٹھیک ،وہ کچھ کرنا چاہتے اورانہیں وقت بھی دینا چاہئے ،وہاں ذہن میں بار بار یہ خیال بھی آرہا تھا کہ کپتان کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ کیا وجہ 12دنوں میں اتنی بات پرفارمنس پر نہ ہوئی جتنی ان غلطیوں پر،جن سے باآسانی بچا جا سکتا تھا ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں0092300464799


مکمل خبر پڑھیں