تبدیلی کا تاریخی باؤنسر

September 04, 2018
 

ایک زبردست تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اس زبردست تبدیلی کے تانے بانے ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ملتے ہیں۔ خوشی ہوئی ، حیرت بھی ہوئی۔ تاریخ سازکارنامے خود کو دہراتے ہیں۔ اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اور اسی بات کی مجھے خوشی ہے۔ دو بڑے لیڈروں کے کچھ رویے ملتے جلتے نظر آئیں تو مجھے خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہوتی ہے۔ عمران خان کی طرح ذوالفقار علی بھٹو کرکٹ کھیل کے کھلاڑی نہیں تھے۔ مگر کرکٹ کے رسیا تھے۔ انہیں کرکٹ کھیل اچھا لگتا تھا۔ عمران خان کی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی نوجوانی اور جوانی کا اچھا خاصا عرصہ یورپ خاص طور پر لندن میں گزارا تھا۔ وہیں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ وہیں پر دیومالائی کہانیوں جیسے قصوں کے کردار بنے تھے۔کرکٹ کھیل میں فاسٹ بالر الگ تھلگ شخصیت رکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کرکٹ کے رسیا تھے۔ عمران خان کی طرح پروفیشنل کھلاڑی نہیں تھے۔ مگر ایک جنونی فاسٹ بالر کی طرح ذوالفقار علی بھٹو وجدانی کیفیت میں رہتے تھے۔ جو چاہتے تھے، وہ کر گزرتے تھے۔ کسی کو آڑے آنے نہیں دیتے تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان سے اختلاف ہوا تو بھری محفل سے اٹھ کر چلے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بنائی اور ایوب خان کے زوال کا سبب بنے۔ مشرقی پاکستان کی بغاوت میں متنازع بنے۔ پاکستان ٹوٹا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔ ملبہ ان کے سر پر گرا ۔ ڈٹے رہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بچ گیا تھا مغربی پاکستان۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان کے نام سے لفظ مغربی اخذ Delete کیا۔ مغربی پاکستان بن گیا نیا پاکستان ۔ اصولاً نئے پاکستان میں ازسرنو انتخابات ہوتے۔ مگر نہیں ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ایسا کام کیا کہ سندھ کے لوگ انگشت بدنداں ہوگئے۔حیرت سے اپنی انگلیاں چبا ڈالیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے میر رسول بخش تالپور کو سندھ کا گورنر لگادیا۔ ان کا تعلق سندھ کے حکمراں گھرانے تالپور سے تھا۔ آج تک تالپور گھرانے کے فرد پاکستان کی قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے ممبر بنتے چلے آرہے ہیں۔ میر رسول بخش تالپور کا دبدبہ تھا۔ بڑی بڑی اوپر کی طرف بچھو کی دم کی طرح خم کھاتی ہوئی مونچھیں رکھتے تھے۔ لوگ ان کو شیر سندھ کہتے تھے۔ کسی جگہ ان کی آمد پر لوگ نعرے لگارہے تھے، شیر سندھ ، زندہ باد، شیر سندھ زندہ باد ۔ انہوں نے ہاتھ اونچا کرکے لوگوں کو خاموش رہنے کا کہا۔ اور پھر بولے۔ ’’میں انسان کا بچہ ہوں۔ انسان ہوں۔ مجھے جانور مت بنائو ۔ مت بھولو کہ شیر جانور ہوتا ہے۔‘‘

ہم نہیں جانتے تھے کہ میر رسول بخش تالپور کتنے پڑھے ہوئے تھے۔ کس یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ ان کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔ تب سندھ میں گنتی کی یونیورسٹیاں تھیں۔ کراچی یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی اور شاید سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی تھی۔ میر رسول بخش تالپور ان یونیورسٹیوں کے چانسلر تھے۔ وائس چانسلرز کی تعیناتی کرتے تھے۔ وائس چانسلرز کا نفرنس کی صدارت کرتے تھے۔ کانووکیشن میں طلبا کو پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کی ڈگریاں دیتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ وائس چانسلروں کے Bossتھے۔ پروفیسروں کی سلیکشن میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ پڑھے لکھے لوگ کڑھتے تھے۔ مگر بے بس تھے۔ کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ یہ کارنامہ تھا بیرون ملک کے تعلیمی اداروں کی ڈگریوں سے لدےپھندے بھٹو کا۔ اس کارہائے نمایاں کو چھیالیس برس گزر چکے ہیں۔ چھیالیس برس بعد عمران خان نے تاریخ کو دہرایا ہے۔ انہو ں نے سندھ کی تیس چالیس یونیورسٹیوں کو انٹرپاس چانسلر دیا ہے۔ صوبہ سندھ کا کاروبار چلانے کے لئے پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ورنہ سندھ اسمبلی میں کم پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ نہ ہوتی۔ صوبہ سندھ چلتا ہے پیر سائیوں کی دعائوں اور کرامات سے۔ ایسے صوبہ پر نظر رکھنے کے لئے زیادہ پڑھے لکھے گورنر کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ قطع نظر اس کے کہ گورنر صوبہ کی گورنری کرتے ہیں،وہ گورنری سنبھالنے کے بعد صوبہ کی یونیورسٹیوں کے چانسلر بن جاتے ہیں۔ اور یونیورسٹیوں کے سیاہ سفید پر دسترس رکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو فاسٹ بالر نہیں تھے۔ انہوں نے صوبہ سندھ پر وٹہ مارا تھا اور میر رسول بخش تالپور کو سندھ کا گورنر اور یونیورسٹیوں کا چانسلر بنادیا تھا۔ عمران خان سچ مچ کے تیز ترین ، مگر حقیقت میں جہانگیر ترین سےکم تیز بالر رہ چکے ہیں۔ کرکٹ کے فلسفہ میں فاسٹ بالر ایک وجدانی اور جنونی رویے کا نام ہے۔ اس لئےکہتے ہیں کہ Once a fast boweler, alway a fast bowler ریٹائر ہونے کے بعد بھی ایک فاسٹ بالر اپنے رویوں میں جنونی اور وجدانی رہتا ہے۔ عمران خان دی فاسٹ بالر نے سندھ کے سر پر بائونسر مارا ہے۔ اب ہمیں انتظار ہے پہلی وائس چانسلرز کانفرنس کا جس میں سندھ کی پچاسیوں یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ وائس چانسلرز شریک ہوں گے، اور اس کانفرنس کی صدارت ایک انٹرپاس شخص کر رہا ہوگا۔

ایک فاسٹ بالر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ اچھے اچھے کپتان اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اکرام الٰہی اپنے دور کے تیز ترین بالر ہوتے تھے۔ جس قدر تیز وہ بالنگ کرتے تھے، اس قدرجنونی اور وجدانی تھے۔ پاکستان کے مایہ ناز کپتان عبدالحفیظ کاردار کے کنٹرول میں نہیں آتے تھے۔ اگر کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ فاسٹ بالر عمران خان ان کےقبضہ قدرت میں ہے، تو پھر وہ بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں