غزل: میٹھی میٹھی تِری گفتار سے کیا ہوتا ہے

September 09, 2018
 

میٹھی میٹھی تِری گفتار سے کیا ہوتا ہے

دِل میں نفرت ہو، تو پھر پیار سے کیا ہوتا ہے

اور پہنائو مِرے پائوں میں کچھ زنجیریں

ایک زنجیر کی جھنکار سے کیا ہوتا ہے

موج دریا کی ہے زد پر مِری کشتی اب تک

ایک ٹوٹی ہوئی پتوار سے کیا ہوتا ہے

اس قدر دھوپ کی شدّت ہے کہ جلتا ہے بدن

اس ذرا سایۂ دیوار سے کیا ہوتا ہے

بات تو جب ہے کہ گلشن میں بہار آئے

صرف ایک پھول کی مہکار سے کیا ہوتا ہے

(سمیع جمال)


مکمل خبر پڑھیں