اردو کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی

September 04, 2018
 

Your browser doesnt support HTML5 video.

اردو کے معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے چاہنے والے آج ان کی 96ویں سالگرہ منا رہے ہیں ۔4ستمبر 1923 کو بھارتی ریاست راجھستان میں پیدا ہونے والے مشتاق احمد یوسفی نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔

انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم اے کیا اور پھر بینکاری کے شعبے کو ذریعہ معاش بنایا۔ وہ کئی بنکوں کے سربراہ رہے اور پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

مشتاق احمد یوسفی کا شمار اردو کے صف اوّل کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تصانیف میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت،آب گم اور شام شعر یاراں کے نام شامل ہیں۔

ظہیر فتح پوری نے ان کی تحریروں کے بارے میں کہا تھا کہ" ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں

پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کو ادب میں نمایاں کارکردگی پر حکومت پاکستان کی جانب سے سنہ 1999 میں ستارہ امتیاز اور 2002 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

ادب کا یہ چمکتا ستارہ طویل علالت کے بعد20جون 2018کو 95 برس کی عمر میں اپنے لا تعداد چاہنے والوں کو سو گوار چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔


مکمل خبر پڑھیں