کیا کسی نے بابا فرید سے بھی اجازت لی؟

September 12, 2018
 

پچھلے کچھ ہفتوں سے فرید الدین مسعود گنجِ شکر (1175-1266) المعروف بابا فرید کا اجودھن (حالیہ پاکپتن) اور ان کی درگاہ حکمران طبقوں کے درمیان باعث تنازع بنی ہوئی ہے۔ سب سے پہلے آج کے پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان اور ان کی اہلیہ کو درگاہ پر ’سجدہ‘ کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں علاقے کے طاقتور مانیکا خاندان اور کوتوال شہر (ڈی ۔پی۔ او) کے درمیان اس بات پر رسہ کشی شروع ہو گئی کہ ریاستی نظام میں کون زیادہ طاقتور ہے۔ قطع نظر اس کے کہ اس سارے قضیے میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہورہا ہے یہ امر حقیقت ہے کہ اس واقعے میں شامل خواتین و حضرات نے بابا فرید سے درگاہ پر آنے کی اجازت حاصل نہیں کی۔ یہاں اجازت لینے کے معنی یہ ہیں کہ کیا ان کو علم تھا کہ بابا فرید کس طرح کے لوگوں کو درگاہ میں آنے کی اجازت دیتے تھے اور کن لوگوں کے داخلے پر ممانعت تھی۔

بابا فرید کی اجازت کے حوالے سے یہ مصدقہ تاریخی واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ سلطان دہلی کی فوجیں سپہ سالار طغرل خان (جس کی نظریں دہلی کے تخت پر تھیں) کے تحت ملتان کی طرف مہم جوئی پر جاتے ہوئے پاکپتن سے گزریں تو سپہ سالار سمیت ، فوجیوں نے درگاہ پر حاضری کی درخواست کی َ۔ بابا فرید نے سختی سے منع کردیا لیکن عام فوجیوں کے اصرار پر ان کی قمیض کی آستین درگاہ کی دیوار پر باہر کی طرف لٹکا دی گئی۔ فوجیوں نے قطار اندر قطار اس کپڑے کے ٹکڑے کو اپنے بوسوں سے تار تار کردیا۔ اس موقع پر ایک فوجی فراش (خاکروب) کسی طرح آپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے شکایت کی کہ حضرت اگر آپ کو خدا نے اس اعلی ٰمقام سے نوازا ہے تو یہ مناسب نہیں کہ آپ اس فیض کو عوام تک نہ پہنچائیں۔ بابا فرید نے اس خاکروب کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا کہ یہ مناہی تمہارے جیسے لوگوں کے لئے نہیں ہے۔ اسی موقع پر سپہ سالار نے کچھ نقدی اور کئی دیہات کی جاگیر آپ کو دینے کے لئے بھیجی۔ بابا فرید نے نقدی یہ کہتے ہوئے رکھ لی کہ یہ ہمارے درویشوں کے کام آئے گی اور جاگیر یہ کہہ کر لوٹا دی کہ اس کے طلبگار اور بھی کئی ہیں۔ یہاں یہ بھی ذکر کرتے چلیں کہ نظام الدین اولیاء نے بھی اپنی درگاہ میں بادشاہوں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی۔

یہ بات بھی مد نظر رہے کہ پچھلے دنوں کے سارے قصے میں نہ تو بابا فرید کے کلام کا کوئی ذکر ہوا اور نہ ہی ان کی زندگی کے بارے میں کوئی بات ہوئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ میں بہت کم لوگ ہوں گے جنہیں یہ علم ہوگا کہ بابا فرید پنجابی زبان کے پہلے شاعر تھے اور عوام کی زبان کو سنجیدہ سطح پر استعمال کرنے کے بانی تھے۔ وہ اپنے عہد کے بہت بڑے عربی اور فارسی دان تھے اور دور دراز کے دانشور ان سے ان زبانوں کے امور کو سمجھنے کے لئے آتے تھے لیکن بابا فرید کا عربی اور فارسی کی بجائے اپنے خیالات کے پرچار کے لئے عوام کی پنجابی زبان کو ترویج دینے کا فیصلہ تاریخ ساز تھا: یہاں اس تاریخی حقیقت کا بھی ذکر کرتے چلیں کہ شمالی ہندوستان کی اکثر زبانوں کے بانی ، بابا فرید کی طرح، چشتیہ فرقے کے صوفیاء کرام تھے (جیسے ہندی میں امیر خسرو)۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان کے کلام کو نہ پڑھا گیا اور نہ ہی اس پر تحقیق ہوئی۔ اور اگر ان کا کلام سکھ گرو صاحبان گرنتھ صاحب میں شامل نہ کرتے تو شاید یہ مکمل طور پر معدوم ہو چکا ہوتا۔ اب بھی بابا فرید پر سنجیدہ تحقیق سکھ محققین نے کی ہے جس میں سر فہرست ڈاکٹر پریتم سنگھ مرحوم کا نام آتا ہے۔ پاکستان میں بابا فرید کے فلسفے پر نجم حسین سید نے اپنی کتاب ’فریدوں نانک‘ میں روشنی ڈالی ہے۔ ویسے بابا فرید کی زندگی کے بارے میں تقریباً سب محققین کا ماخذ نظام الدین اولیاء کی مجلسوں پر لکھی گئی کتاب ’فواد الفوائد‘ ہے: زیر نظر کالم میں بھی زیادہ تر استفادہ اسی کتاب سے کیا گیا ہے۔ بابا فرید کے سماجی فلسفے کا اندازہ اوپر بیان کئے گئے اس واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں سپہ سالار کو داخلے سے منع کردیا جاتا ہے اور خاکروب کو سینے سے لگایا جاتا ہے۔ان کا یہ دوہا بھی اسی طرح کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے:

اکناں آٹا اگلا، اکناں ناہیں لون

اگے پئے سنجانسن، چوٹاں کھاسی کون

(کچھ تو ایسے ہیں جن کے پاس آٹے کے انبار ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جن کے پاس نمک بھی نہیں ہے۔ مستقبل (یا مرنے کے بعد) میں یہ پتہ چلے گا کہ زیادہ چوٹیں کس کے حصے میں آتی ہیں)۔

بابا فرید کی زندگی جس طرح سے بسر ہو رہی تھی اس کے بارے میں خواجہ نظام الدین اولیاء کہتے ہیں کہ عام طور پر ان کی درگاہ پر جنگلی ڈیلوں (صحرائی پھل جس سے آجکل اچار بھی بنایا جاتا ہے) کو ابال کر پیٹ بھرا جاتا تھا اور وہ دن درویشوں کے لئے عید کی طرح ہوتا تھا جس دن ڈیلوں میں ڈالنے کے لئے نمک بھی موجود ہو۔ بابا فرید کا خاندان بھی وہی کچھ کھاتا تھا جو درویشوں کے لئے پکتا تھا۔ نہ صرف یہ کہ بابا فرید کی درگاہ نمک خریدنے کی سکت نہیں رکھتی تھی بلکہ شہر کا قاضی اور کوتوال بھی ان کے لئے وبال جان بنے ہوئے تھے اور ان کے بیٹوں کو طرح طرح سے آزار پہنچاتے تھے۔ شہر کے قاضی نے آپ کا ناطقہ بند کرنے کے لئے ملتان (اس وقت عمل و فضل کی آماج گاہ) کے عالموں کو لکھا کہ یہ (بابا فرید) کیسا بزرگ ہے جو مسجد میں بیٹھ کر موسیقی سنتا ہے اور رقص(غالباً دھمال) کرتا ہے۔ جب ملتان کے عالموں کو پتہ چلا کہ بابا فرید کے بارے میں یہ شکایت ہے تو انہوں نے چپ سادھ لی۔

بابا فرید نے یہ فقیرانہ اور درویشانہ زندگی کا خود انتخاب کیا تھا کیونکہ جب ان کے مرشد بختیار الدین کاکی نے اپنی موت پر ان کو چشتیہ سلسلے کا سربراہ مقرر کیا تھا تو وہ ہانسی سے دہلی منتقل ہو گئے تھے جہاں زندگی کی سب سہولتیں میسر تھیں۔ لیکن ان کو وہاں سلطانی اشرافیہ نے گھیر ے میں لے لیا تھا اور ان کا عوام سے رابطہ کٹ گیا تھا جس کی شکایت ہانسی سے آنے والے ایک پیروکار نے اس طرح سے کی تھی کہ ’حضرت ہانسی میں تو آپ کا دیدار ہو جاتا تھا لیکن یہاں دہلی میں تو دربان ہی آگے نہیں جانے دیتا‘ ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سن کر بابا فرید نے دہلی کی پر تکلف زندگی کو تج کر پاکپتن جیسے چھوٹے شہر کی مشکل زندگی کا انتخاب کر لیا۔ خواجہ نظام الدین اولیا ء جہاں ان کی مشکل درویشانہ زندگی کا ذکر کرتے ہیں وہیں وہ ان کی طرز حیات پرنثار ہوتے ہوئے فرط عقیدت میں یہ بھی کہتے ہیں ’کہ کیا زندگانی تھی‘۔ بابا فرید کے وصال کے بعد جب انہیں دفن کرنے کا وقت آیا تو گھر میں قبر پر پکی اینٹیں لگانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ چنانچہ درگاہ سے پکی اینٹیں نکال کر ان کی قبر پر لگائی گئیں۔ ان کے مزار کو خواجہ نظام الدین اولیاء نے دوبارہ تعمیر کروایا اور شاید بہشتی دروازہ بھی انہوں نے ہی بنوایا۔ بابا فرید کی درگاہ کی صورت حال اس وقت تبدیل ہوئی جب ان کے پوتوں نے بلبن بادشاہوں کے دربار کا حصہ بننا قبول کیا اور اس کے ساتھ بہت بڑی جاگیر حاصل کر لی۔ اس کے بعد آنے والے رنجیت سنگھ سمیت تمام حکمران دربار کے ساتھ جاگیر کی منظوری دیتے رہے۔ اس بارے میں ان کا اپنا ایک مصرع ہے ’ویکھ فریدا جو تھیا شکر ہوئی وس‘ (فرید دیکھو کیا ہو گیا کہ شکر زہر بن گئی ہے)۔ اس پس منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگ کس بابا فرید کی درگاہ پر جاتے ہیں: بغیر نمک کے ڈیلے ابال کر کھانے والے فرید یا جاگیر یافتہ نئی طرز کی ملا شاہی کے لئے قابل قبول فرید؟ اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ پنجابی زبان کے پہلے شاعر بابا فرید کے مزار پر کسے جانے کی اجازت ہے اور کسے نہیں! آج کے حکمرانوں سے یہ بھی سوال ہے کہ کیا وہ ان سے منتیں مرادیں پوری کرواتے رہیں گے یا ان کے اعزاز میں ایسے ادارے بھی بنائیں گے جہاں ان کے کلام کی ترویج اور ان کی زندگی پر سنجیدہ تحقیق کی جا سکے۔


مکمل خبر پڑھیں