روسی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع، چین شریک

September 12, 2018
 

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس نے مشرقی سائبیریا میں اب تک کی سب سے بڑی جنگی مشقین شروع کر دی ہیں جن میں تین لاکھ سے زیادہ فوجی، ہزاروں کی تعداد میں ٹینک، سیکڑوں لڑاکا طیارے اور بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

Your browser doesnt support HTML5 video.

ان جنگی مشقیں کو ’واسٹاک 2018‘ کا نام دیا گیا جس میں چین بھی تین ہزار سے زیادہ فوجی، بکتر بندی گاڑیاں اور جہاز بھیج رہا ہے جبکہ منگولیا کے بھی چند فوجی دستے ان مشقوں میں حصہ لیں گے۔

چین کی وزرات دفاع کا کہنا ہے کہ وہ ملٹری تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ʼکئی قسم کے سکیورٹی خطراتʼ سے نمٹنے کے لیے دونوں اطراف کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔

انھوں نے ان ʼخطراتʼ کی تفصیل بیان نہیں کی۔ مونگولیا نے اپنی شمولیت کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئگو کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں شدت پسندی روس کی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

اتنے بڑے پیمانے پر روس نے آخری مرتبہ سرد جنگ کے دور میں سنہ انیس سو اکاسی میں جنگی مشقیں کی تھیں لیکن واسٹاک 2018 میں اس سے بھی زیادہ فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

ایک ہفتے جاری رہنے والی یہ مشقیں ایک ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب روس اور نیٹو اتحاد کے ملکوں میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

جنگی مشقوں کے آغاز پر روس کے صدر ولادمیر پوتن نے اپنے چینی ہم منصب ژئی جن پنگ سے روس کے مشرقی شہر والڈیوسٹک میں ملاقات کی ہے جس میں انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان سیاست، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں قابلِ اعتماد تعلقات ہیں۔

روس اور انتیس یورپی ملکوں کے درمیان دفاعی اتحاد نیٹو کے درمیان اس وقت سے تعلقات کشیدہ ہیں جب روس نے سنہ دو ہزار چودہ میں یوکرین کے علاقے کرائیمیا پر قبضہ کر لیا تھا۔

روسی ایوان صدر کرملن کے ایک ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کی طرف جارحانہ اور غیر دوستانہ رویوں کے باعث یہ جنگی مشقیں بلا جواز نہیں ہیں۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق چھتیس ہزار ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر انفینٹری ٹرک ان مشقوں میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہزار جنگی طیارے بھی اپنے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی مشق کریں گے۔

روسی بحریہ کے دو بیڑے جن میں اسی کے قریب جنگی جہاز شامل ہیں ان مشقوں میں مختلف دفاعی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اپنی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔

چین نے مسلم اکثریتی صوبے شنجیانگ میں سخت سکیورٹی اور سینسرشپ لاگو کر رکھی ہے۔

سنکیانگ میں کئی برس سے وقتاً فوقتاً تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے شدت اور علیحدگی پسند ملوث ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چین اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک وجہ امریکہ کے عالمی اسر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

دونوں ممالک میں اقتصادی تعلقات بھی بڑھے ہیں اور سرکراری نیوز ایجنسی کے مطابق 2017 میں چین کی روس میں براہ راست سرمایہ کاری میں 72 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بیجینگ کے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تنازع کو دیکھتے ہوئے روس چین کا ایک اہم اور تجارتی ہجم کے حساب سے نوواں بڑا تجارتی پارٹرنر بن گیا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں