54 غیرملکی ایجنسیز، این جی اوز ملک کو غیرمستحکم کرنے میں ملوث ہیں، وزیرمملکت داخلہ

September 12, 2018
 

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث غیرملکی این جی اوز اور ایجنسیز سے نمٹنے کیلئے نیا میکنزم تیار کیا جائیگا،54 غیرملکی ایجنسیاں اور این جی اوز ملک کو غیرمستحکم کرنے میں ملوث ہیں۔ وزیرمملکت داخلہ شہریار آفریدی نے منگل کووزارت داخلہ میں سینئر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کے حوالے سے حکومت قانونی ٹیم کی مشاورت سے فیصلہ کریگی، اﷲ کا شکر ہے ہم سب اس ملک کے باسی ہیں جس ملک کے آئین میں قرآن و سنت شامل ہیں، وزارت کا قلمدان سنبھالے مجھے سات روز ہوئے ہیں، تین دن بلوچستان گزار کر آ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا جب میں تفتان کے دورہ پر گیا تو وہاں مجھے بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیر داخلہ اس علاقہ میں آیا ہے، ہماری ترجیح ہے کہ سب سے پہلے بلوچستان کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے، ہمارے دشمن بلوچستان کارڈ کا استعمال کر رہے ہیں، بلوچستان کے تمام ناراض سرداروں کے پاس خود جاؤں گا، تمام ناراض لوگوں کو گلے لگانا چاہتے ہیں۔ شہر یار آفریدی نے کہاکہ اسلام آباد ماں باپ بن کر دیکھے گا تواولاد بھی درست ہوگی،تفتان بارڈر پر زائرین کو تمام سہولتیں فراہم کرنیکا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے،20 امیگریشن پوائنٹس بنائے جائینگے اور ڈاکٹرز کی ٹیم تعینات کی جائیگی، حج و عمرےکی طرح ایران جانیوالے زائرین کی بھی مکمل دستاویزبندی کی جائیگی تاکہ حادثات سے بچا جاسکے، ہزارہ کمیونٹی کی شکایات کا ازالہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا ہنڈی اورحوالہ معیشت کیلئے تباہ کن ہیں، ریاست کیساتھ کسی کھلواڑ کی اجازت نہیں دینگے، 100 روزہ ایجنڈہ پرپوری رفتار سے عمل کیا جائیگا، بلوچستان کے نوجوانوں کےوفود دوسرے صوبوں میں بھیجے جائینگے، منظور پشتین کے جلسوں میں پاکستان کیخلاف نعرے بازی ہوتی رہی، پشتین دو ایم این ایز کیساتھ قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز سمجھتے ہیں ان کیخلاف فورس کااستعمال نہیں ہوگا۔ وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر نیکٹا کے ذریعے عملدرآمد کرائینگے، سول ملٹری تعلقات مثالی ہیں، حافظ سعید ہو یا حقانی گروپ کامعاملہ، قومی مفادات اولین ترجیح ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا ،وزیر مملکت نے کہا ریاستی اداروں کومکمل فعال بنانے پرتوجہ دی جارہی ہے، میرٹ کا نفاذ، کرپشن کا خاتمہ، بہتر طرز حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت کا نصب العین ہے۔


مکمل خبر پڑھیں