Advertisement

’’نسیم حجازی‘‘ اسلامی تاریخی ناول نگاری کو عوامی مقبولیت اور شہرتِ دوام دیا

May 19, 2019
 

پاکستان میں اسلامی تاریخی ناول نگاری کو عوامی مقبولیت اور شہرتِ دوام دینے والے نسیم حجازی، تندِ مخالف کے باوجود اپنا سکہ جمانے میں کامیاب و کامران رہے۔ آج جب یورپ و امریکا میں’’ اسلامو فوبیا‘‘ کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں ایک بار پھر نسیم حجازی کے قلم کی گونج سنائی دے رہی ہے کہ اسلام پرستوں اور مغرب نواز حلقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کرنا ہوگا۔ مغربی و اسلامی تعلیم کو دوستی کرنی ہوگی۔ مدارس ومکاتب، اسکول، کالج اور یونیورسٹی جب تک یکجا نہیں ہوںگے تب تک اسلامی نشاۃ ثانیہ ایک خواب رہے گا۔

عکسِ حیات ، تعلیم و تحریر

نسیم حجازی کا اصل نام محمد شریف تھا۔ وہ19مئی 1914ء کو سوجان پور ،مشرقی پنجاب میں چودھری محمد ابراہیم کے گھر پیداہوئے۔ عربی کے استاد غلام مصطفیٰ کے مشورے سے قلمی نام’نسیم حجازی‘رکھا ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں سے کچھ فاصلے پر واقع اسکول ،بعد ازاں مشن ہائی اسکول دھاریوال ضلع گورداس پور سے حاصل کی۔ 1932ء میںمیٹرک کاامتحان پاس کیا اور1938ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا، جہاں سے تحریر نگاری شروع ہوئی۔ ان کا پہلا افسانہ ’شودر‘ماہنامہ حکایت الاسلام میں شائع ہوا۔ اگلے شمارے میں ایک اور افسانہ ’جستجو‘ شائع ہوا۔ یہ افسانے ہندو معاشرے میں ذات پات کے قضیہ کو اُجاگرکرتےہیں ۔ ایسا ہی ایک اور افسانہ ’انسان اور دیوتا‘ کے نام سے سپرد قلم کیا۔ زیست میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ تحریک پاکستان کی تائید میں پرزور مقالات لکھے، بہت سی مشکلات و مصائب جھیلے، تلخ حقائق اور تجربات سےنبرد آزما رہے،جنھیں ’پردیسی درخت‘ اور ’گم شدہ قافلے‘ میں قلم بندکیا،انھیں ادبی حلقے زندگی کے ترجمان اور سوانحی ناول قرار دیتے ہیں۔

بحیثیت صحافی عملی زندگی کا آغاز

عملی زندگی کا آغاز بحیثیت صحافی کیا۔ ابتدا روز نامہ ’’حیات‘‘ کراچی سے کی۔1934ء سے1948ء تک ہفت روزہ ’تنظیم‘کوئٹہ سے منسلک رہے۔ اس دوران روزنامہ’ تعمیر‘ راولپنڈی میں بھی 1940ء سے 1952ء تک تحاریر شامل اشاعت رہیں۔ روزنامہ’کوہستان‘ راولپنڈی، لاہور اور ملتان میں بطور مدیرشانِ اسلام کے لیے شاندار مضامین، تبصروں اور خبروں کا مرقع پیش کرکےبلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنایا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ پھرایسے حالات پیش آئے کہ وہ1966 ء میں مجبوراً اخبار سے علیحدہ ہوگئے۔ اس بارے میں ڈاکٹر ممتاز عمر اپنی کتاب’نسیم حجازی کی تاریخی ناول نگاری کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ‘ میںکہتے ہیں، ’’کوہستان کے بیشتر صفحات دینی مسائل، اسلامی مضامین، تاریخ اسلام، مسلم دنیا کے مسائل اور خدمت خلق جیسے عنوانات اپنے اندر سموئے ہوئے تھے۔ کوہستان مسلمانوں کے حقوق کا علم بردار، اسلامی تحریکوں اور احیائے اسلام کی کوششوں کا حامی و مددگار تھا۔ آپ ایک نظریاتی انسان تھے۔ پاکستان کی آزادی اور اسلام کی بالادستی کا مقصد آپ کی زندگی کا سنہرا اور بلند اصول تھا۔ ویسے بھی اسلام اور پاکستان دوستی باہم لازم وملزوم ہیں، اس لئے آپ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے ہر لمحہ کوشاں رہےہے‘‘۔

تصنیفی ورثہ

تاریخی ناول نگاری کےماسٹر، فکشن رائٹر نسیم حجازی کے قلم سے پے درپے16ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار تاریخی ناول جنم لیتے رہے،جن کی اثر پذیری کو آنے والا کوئی بھی تاریخی ناول نگار فراموش نہیں کرسکتا۔ برطانوی راج، تقسیم ہند اور تحریک پاکستان کے پس منظر میں لکھے جانے والے ناول’خاک اور خون‘ سے ابتدا کرتے ہوئے’یوسف بن تاشفین‘،’آخری چٹان‘،’آخری معرکہ‘،’اندھیری رات کے مسافر‘،’کلیسا اور آگ‘،’معظم علی‘،’اور تلوار ٹوٹ گئی‘،’داستان مجاہد‘،’انسان اور دیوتا‘،’محمد بن قاسم‘،’پردیسی درخت‘،’گمشدہ قافلے‘،’قافلہ حجاز‘،’قیصر و کسریٰ‘اور’شاہین‘ جیسے شاہکار کلاسیک ناولز لکھ کر ریکارڈ قائم کیا۔’’پاکستان سے دیار حرم تک‘‘ سفرنامہ اور پاک بھارت جنگ 1965ء کے پس منظر میں ڈراما’’پورس کے ہاتھی‘‘ جبکہ پاکستانی ثقافت کے خدو خال کی تلاش میں طنز و مزاح پر مبنی ڈراما’’ثقافت کی تلاش‘‘ اورمزاحیہ ناول’’سو سال بعد‘‘ اور’’سفید جزیرہ‘‘تحریر کیے۔

مسلم تاریخ پر مبنی ناول نگاری

1940ء تا 1991ء نئی نسل کو ناول نگاری کے ذریعے مسلمانوں کے عروج و زوال، اسباب، سدِ باب اور عملی اقدام سے آگاہ کرتے ہوئے نسیم حجازی نے روز ِ اوّل سے معتبر مؤرخ کا کردار ادا کیا۔ وہ فن پر مکمل گرفت اور ناول کی تکنیک سے خوب واقف تھے۔وہ علامہ اقبال اور قائد اعظم سے متاثر رہے۔ مسلمانوں کی سوئی روح کو بیدار کرنے میں نسیم حجازی کی نثر نے وہی کمال دکھایا، جو علامہ اقبال نے شاعری میں کیا۔ فنی کمال کا اندازہ ’محمد بن قاسم‘ کے مطالعےسے کیا جاسکتا ہے کہ کس ہنر مندی و چابک دستی سےتاریخ مسخ کیے بغیرمتاثر کن داستان سے حالاتِ جنگ میں بھی انسانی رشتوں کے احترام اور معاشرتی سرگرمیوں میں امن و محبت کا ماحول پیدا کیا۔ ’آخری چٹان‘ میں عالم ِ اسلام کے خلاف منگولوں کی تباہ کن یلغار کا تنہا مقابلہ کرکے سلطان جلال الدین شاہ خوارزم نے بغداد کی خلافت ِ عباسیہ پر منڈلانے والے خطرات کو ایک مدت تک روکے رکھا۔’قیصر و کسریٰ‘ اور ’قافلہ ٔ حجاز‘ میں اسلام کے دور ِ زرّیں کو ناول نگاری کا موضوع بنایا۔ مسلم اسپین (ہسپانیہ، قرطبہ اور غرناطہ) کا نوحہ ’یوسف بن تاشفین‘، ’شاہین‘، ’اندھیری رات کے مسافر‘، ’کلیسا اور آگ‘میں بیان کیا۔ 1992ء میں پرائڈ آف پرفارمنس حاصل کیا۔ علم و ادب کا یہ آفتاب 81برس کی عمر میں 2 مارچ 1996ء کو راولپنڈی میں غروب ہوگیا۔ وہ اپنی تحریروں سے ہمیشہ کے لیےروشن سویرا طلوع کر گئے، جن کی چمک رہتی دنیا تک آنکھوں کو خیرہ کرتی رہے گی۔


مکمل خبر پڑھیں