Advertisement

اُڑنے کی خواہش سے خلا کے سفر تک

May 27, 2019
 

صادقہ خان

انسان کی جانب سے خلا کو تسخیر کرنے میں معاون راکٹ تیار کرنے کا آغاز 347 سے 428 قبل مسیح میں ہوا ۔آر کی طاس جو کہ ایک مصری فلسفی اور ماہر فلکیات تھا اس نے پہلی دفعہ ایک ایسی مشین تیار کی ،جس کےذریعے ہوا میں اُڑاجاسکتا تھا ۔اگر چہ اس ایجاد کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں ،مگر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پرندے کی شکل کی ایک ایسی مشین تھی ،جس میں آر کی طاس نے گرم ہوا کا دبائو استعمال کیا اور اس طرح وہ پرندے کی طرح اُڑانے میں کامیاب رہا۔تاہم اس کی یہ کوشش زیادہ کام یاب نہیں رہی لیکن اس سے انسان کو ہوا میں اوپر کی جانب اُٹھنے کا بنیادی تصور ضرور ملاجسے آج کل فلکیات کی اصطلاح میں ’’ری ایکٹو پروپلژن ‘‘ کے نام سے جانا جاتاہےیعنی وہ ردِعمل جو راکٹ کو ہوا کے مخالف اوپر کی جانب اُٹھا تا ہے اور اسی پر ’’راکٹ سائنس ‘‘ کی بنیا د رکھی گئی تھی ۔

اس کے تقریباً 4سو سال بعد ایک مصری موجد ’’ہیرو آف الیگزینڈر ‘‘نے ایک آلہ ایجاد کیاجسے اب ’’ہیرو انجن ‘‘ کانام دیا گیا ہے ،جس میں ایک خالی کرے کو کچھ ٹیوبز کے ذریعے ایک چھوٹے ٹب سے اس طرح جوڑا گیا تھا کہ ٹب سے اُٹھنے والی گرم ہوا اوپر لگے خالی کرے کو متحرک کرکے اوپر کی جانب اُٹھاتی تھی ،اسی زمانے میں چین کے چند سائنس دانوں نے سلفر ،چارکول اور سالٹ پیٹر کی مدد سے ’’گن پائوڈر ‘‘ ایجاد کیا جسے ابتدا میں بمبو ٹیوبز میں بھر کر استعمال کیا جاتا تھا ۔اگر بانس کے ایک سرے کو بند کرکے گن پائوڈر کو آگ لگائی جاتی تھی تویہ ایک جھٹکےدار قوت کے ساتھ اوپر کی جانب اُٹھتا تھا ، چینی موجدین انہیں صحیح نشانے پر پھینکنے کے لیےان چھوٹے راکٹس کے ساتھ ڈنڈے جوڑ دیا کرتے تھے اور یہ بیک وقت تقریبا ًایک ہزار راکٹس فائر کرنے کی صلاحیت کے حامل تھے ، مگر بنیادی تصور رکھنے کے باوجود چینی ماہرین ان ابتدائی راکٹس میں مزید کوئی بہتری نہ لا سکے،البتہ دوسری اقوام کے ساتھ لڑائیوں میں انہیں استعمال کرنے سے راکٹ کا یہ تصور انڈیا اور یورپ تک پہنچ گیا ۔

وقت کے بہتے دھارے کے ساتھ مختلف ممالک کے سائنس دان ان پر کام کرتے رہے ،جن میں سب سے نمایاں نام راجر بیکن کا ہے ۔جنہوںنے پہلی دفعہ مصنوعی آگ کے ساتھ راکٹ کو طویل فاصلے پرپھینکنے کا بنیادی تصور پیش کیا ۔راجر بیکن کا کام اس حوالے سے خاصامنفرد بھی رہا ،اس کےعلاوہ انہوں نے راکٹری پر کئی کتابیں بھی لکھی ہیں ۔مگر فوج کے لیے جو راکٹ بنائے جاتے تھے وہ محض جنگی مقاصد کے لیے تھے جب کہ خلا کی تسخیر کے لیے ماہرین فلکیات کو انتہائی طاقت ور انجن والے راکٹ کی ضرورت تھی ۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی پیش رفت اُس وقت ہوئی جب پولینڈ کی شاہی فوج کے آرٹلری کمانڈر کیزیمیر سیمنیووز نے پہلی مرتبہ ملٹی اسٹیج راکٹ کا آئیڈیا دیا جو دو یا تین حصوں پر مشتمل تھا اور ہر حصے کا علیحدہ انجن اور پروپیلنٹ(محرک اور اوپر اُٹھانے میں معاون) تھا ۔

بلا شبہ گلیلیو اور نیوٹن کو فلکیات کا ہی نہیں بلکہ راکٹ سائنس کا بانی بھی کہا جاسکتا ہے ۔اٹھارویں صدی میں گلیلیو نے گریویٹی کی دریافت کوآگے بڑھاتے ہوئے نیوٹن نے حرکت کے تین قوانین کی مدد سے وضاحت کی کہ راکٹ زمین کے مدار سے اوپرخلا میں کس طرح حرکت کر سکتے ہیں ، کیوں کہ فرکشن فورسز کے مخالف اوپر کی جانب حرکت میں بنیادی کردار تھرسٹ فورس کا ہوتا ہے ، جوں جوں راکٹ کا ایندھن استعمال ہوتا ہے اس کا وزن کم اور تھرسٹ فورس بڑھتی جاتی ہے جو اس کواوپر کی جانب اٹھاتی ہے۔

جدید راکٹ سائنس کا آغاز 1926 میں ہوا جب رابرٹ ایچ گوڈارڈ نے پہلی دفعہ مائع ایندھن استعمال کرتے ہوئے راکٹ لانچ کیا جو تقریباًساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اکتالیس فیٹ کی بلندی تک بآسانی پہنچنے میں کامیاب رہا، مگر بد قسمتی سے گوڈارڈ کے راکٹ لانچنگ کے قوانین اور کا م کو زیادہ سراہا نہیں گیا ۔یہاں تک کہ 1920 ء میںایک رپورٹ شائع ہوئی ،جس میں اس کے تصور کو غلط قرار دیا کہ راکٹ ویکیوم یا خلا میں بآسانی حرکت کرسکتے ہیں ۔ جدید راکٹری میں گوڈارڈ کی انہی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے نا صر ف ’’فادر آف راکٹری ‘‘ یعنی بابائے راکٹ کے خطاب سے نوازا گیا بلکہ ناسا نے گرین بیلٹ میں واقع اپنے فلائٹ سینٹر کو ،گوڈارڈا سپیس فلائٹ سینٹر کے نام سے منصوب بھی کیا ۔

اس کے بعد اگلے بیس برس تک راکٹ باڈی ، طویل فاصلے تک رینج اور لانچنگ میں درپیش کئی بڑے مسائل پر بہت تیزی کے ساتھ کام ہوا ۔اور 4 اکتوبر 1957 ءکو پہلا مصنوعی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا، جس سے کامیابی کے ساتھ سگنل زمین پر موصول ہوئے۔ اس تجربے سے خلا میں انسان کے سفر کی راہ مزید ہموار ہوئی اور بلآخر 12 اپریل 1961 ءکو علم ِفلکیات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جب روسی کاسموناٹ یوری گیگرین نےا سپیس کرافٹ واسٹاک تھری کے اےمیں سفر کرتے ہوئے خلا میں جانے والے پہلے انسان کا اعزاز حاصل کیا ۔واستک ون نامی یہ ا سپیس فلائٹ تقریباً ایک سو آٹھ منٹ تک زمین کے گرد مدار میں محو ِ گردش رہی جسے ’’واستک کے‘‘ لانچ وہیکل سے خلا میں چھوڑا گیا تھا ۔انہیں کی بدولت آج انسان اتنی آسانی سے اپنے نظام ِشمسی سے باہر نئی ستارے اور سیارے دریافت کررہاہے اور ہر سورج نئے انکشافات کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے ۔


مکمل خبر پڑھیں