جینیفر لوپیز کی مصر میں مبینہ غیر اخلاقی پرفارمنس، گلوکارہ پر پابندی کا مطالبہ

August 16, 2019
 

قاہرہ ( مانیٹرنگ ڈیسک) گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ و لکھاری جینیفر لوپیز پر مصر کے ایک وکیل نے غیراخلاقی پرفارمنس کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ملک میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جینیفر لوپیز نے حال ہی میں مصر، اسرائیل، اٹلی اور روس میں خصوصی میوزک کنسرٹ کا انعقاد کیا تھا۔ان میوزک کنسرٹ میں جہاں گلوکارہ کے عام مداح شامل رہے، وہیں ان کنسرٹ میں گلوکارہ کے متعلقہ ممالک کی حکومتی عہدیدار بھی شریک ہوئے۔جینیفر لوپیز نے اپنی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر مختلف ممالک میں منعقد کئے جانے والے کنسرٹس کو ’ یہ میری پارٹی‘ ہے کا نام دیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے سب سے زیادہ مشہور گانوں پر بولڈ، نیم عریاں اور جذباتی پرفارمنس کی۔جینیفر لوپیز نے تل ابیب، ماسکو، اناطولیہ اور مصر کے شہر الامین میں بھی پرفارمنس کی۔مصری شہر الامین میں جینیفر لوپیز کی پرفارمنس میں حکومتی وزراء، مصری شوبز، موسیقی، فیشن و میڈیا انڈسٹری کی معروف شخصیات سمیت مجموعی طور پر 2ہزار افراد شریک ہوئے۔عرب نیوز کے مطابق الامین میں جینیفر لوپیز کی پرفارمنس کے بعد مصر کے معروف وکیل سمیر صابری نے مصر کے اٹارنی جنرل کے ہاں شکایت درج کرواتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جینیفر لوپیز نے الامین میں منعقد کنسرٹ میں انتہائی نازیبا اور نیم عریاں پرفارمنس کی جو مصر کے اسلامی اقدار کے خلاف تھی۔شکایت میں مزید لکھا گیا گیا کہ جینیفر لوپیز کا میوزک کنسرٹ ایک ایسے موقع پر منعقد کیا گیا جب کہ کچھ دن قبل ہی مصر میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اور اس میں کئی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور ایسے میں غیراخلاقی پرفارمنس کے کنسرٹ میں حکومتی وزیروں کی شرکت ملک کے لیے باعث شرم ہے۔مصری وکیل نے اپنی شکایت میں یہ بھی لکھا کہ امریکی گلوکارہ کا غیراخلاقی کنسرٹ ایک ایسے موقع پر منعقد کیا گیا جب کہ دنیا بھر کے مسلمان میدان عرفات میں فریضہ حج کی ادائگی کر رہے تھے اور ایسے موقع پر جینیفر لوپیز کی عریاں پرفارمنس قابل مذمت ہے۔سمیر صابری نے مصر کے اٹارنی جنرل سے شکایت میں مطالبہ کیا کہ جینیفر لوپیز پر مصر میں پابندی عائد کی جائے اور آئندہ ان کے میوزک کنسرٹ کا انعقاد نہ کیا جائے۔