Advertisement

درپیش منصوبہ، اُمید کی کرن

September 08, 2019
 

ایف کے لودھی

بلوچستان میں عمومی طور پر ’’فراری‘‘ اُن افراد کو کہا جاتا ہے کہ جو مُلک دشمن عناصر کے اشاروں پر چلتے ہوئے اپنی ہی ریاست کے خلاف ایک لا حاصل جنگ میں شامل ہو کر پہاڑوں پر غیر انسانی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ان ’’لاپتا افراد‘‘ کی واپسی نا ممکن نہ سہی، البتہ مشکل ضرور ہوتی ہے۔

درپش منصوبے کے تحت منعقدہ تقریب میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوان چاروں صوبوں کی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے

گزشتہ عشرے میں حکومت اور پاک فوج نے صوبے میں حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ایک جامع و منظّم حکمتِ عملی کے تحت مُلک دشمن عناصر کی سرکوبی کے ساتھ ان کے چُنگل میں پھنسے بلوچ نوجوانوں کی واپسی کے لیے ٹھوس اقدامات شروع کیے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2,500فراریوں نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالے۔ بعد ازاں، ان نوجوانوں کے دل و دماغ پر مرتّب ہونے والے منفی اثرات کے خاتمے ، انہیں قومی دھارے میں لانے اور مفید شہری بنانے کے لیے ایک تربیتی منصوبہ تشکیل دیا گیا۔ ٹریننگ پروگرام کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر ایک پُر وقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، جام کمال اور کور کمانڈر سدرن کمانڈ، عاصم سلیم باجوہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقعے پر اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ نے تربیتی منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرنے والے کور کمانڈر سدرن کمانڈ کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ بلوچستان کو پُر امن بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں، قربانیوں اور بلوچستان کے محبِ وطن عوام کی جدوجہد کو بھرپور انداز سے سراہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’ٹریننگ پروگرام سے فیض یاب ہونے والے افراد امید کی کرن بن کر اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ معاشرے کے لیے مشعلِ راہ اور مُلک و قوم کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گے۔‘‘

وزیرِ داخلہ بلوچستان، ضیا لانگو کورس کی تکمیل پر ایک نوجوان کو میڈل پہناتے ہوئے

گزشتہ دنوں تربیتی منصوبے کا دوسرا مرحلہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ اس موقعے پر منعقد کی گئی تقریب کے مہمانِ خصوصی اور صوبائی وزیرِ داخلہ، ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ ’’ چوں کہ بلوچستان قیامِ پاکستان سے پہلے ہی سے پس ماندہ رہا ہے، لہٰذا مقامی باشندے تعلیم کے میدان میں دیگر صوبوں کے شہریوں سے خاصے پیچھے ہیں اور انہیں روزگار کے مواقع بھی میسّر نہیں۔ 1948ء میں اپنے دورۂ بلوچستان کے موقعے پر قائد اعظم محمد علی جناح نے مقامی باشندوں کی پس ماندگی دُور کرنے کے لیے ایک مربوط پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے اُسی برس بانیٔ پاکستان انتقال کر گئے اور اُن کے بعد کسی نے بھی بلوچستان کی فلاح و بہبود پر سنجیدگی سے توجّہ نہیں دی۔

دورانِ تربیت سلائی کڑھائی سمیت دیگر ہنر
بھی سکھائے جاتے ہیں

پھر مقامی سردار اور نوّابین بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ بلوچستان کا عام نوجوان اُن کی غلامی ترک کر کے ایک تعلیم یافتہ اور باشعور شہری بن جائے۔ اس غفلت و ظلمت کا فائدہ مُلک دشمن عناصر نے اُٹھایا اور بلوچستان کے سادہ لوح نوجوان اُن کے آلۂ کار بن گئے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ 1970ء کی دہائی میں ایک سازش کے تحت بلوچستان میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے مُلک کے دُور دراز حصّوں سے آئے اساتذہ کے خلاف نفرت و تعصّب کو ہوا دی گئی، جس کی وجہ سے ان میں سے بیش تر اساتذۂ کرام بلوچستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ نتیجتاً، صوبے میں علم کی روشنی نہ پھیل سکی۔ بلوچستان کے محلِ وقوع کی اہمیت کے پیشِ نظر اور مُلکی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے مُلک دشمن عناصر نے 1990ء کی دہائی میں اپنے کارندوں کی مدد سے ہزاروں مقامی نوجوانوں کو اپنے چُنگل میں پھنسا لیا۔ تاہم، پانی سَر سے گزرنے سے پہلے ہی قومی سلامتی کے اداروں نے مُلک دشمن عناصر اور علیحدگی پسندوں کی سرکوبی کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں، جس کے نتیجے میں بھارتی جاسوس اور دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری عمل میں آئی اور اس کے ساتھ ہی ہزاروں افراد کو دشمن کے شکنجے سے نجات دلائی گئی۔ ان مؤثر اقدامات کے باعث تقریباً 2,500 فراریوں نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالے، جس کے سبب مُلک دشمن عناصر اور علیحدگی پسندوں کی کمر ٹوٹ گئی ۔‘‘

وزیرِ داخلہ بلوچستان، ضیا لانگو اور عسکری حکام کا تربیتی کورس مکمل کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ گروپ فوٹو

وزیرِ داخلہ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہتھیار ڈالنے والے نوجوانوں میں پائی جانے والی انتہا پسندی کا خاتمہ اور اُنہیں معاشرے کا مفید فرد بنانا ہماری اوّلین ترجیح تھی، لہٰذا حکومتِ بلوچستان اور پاک فوج نے ایک تربیتی منصوبہ شروع کیا۔ ابتداء میں اسے ’’اُمیدِ نو‘‘ سے موسوم کیا گیا، جب کہ بعد ازں اسے بلوچی لفظ، ’’در پش‘‘ (اُجالا یا صبح کی پہلی کرن) سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مقامی ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جو بے تکلف ماحول میں متاثرہ نوجوانوں کی ذہنی کیفیات کا پتا لگاتے ہیں۔ پھر جملہ آداب سکھانے کے ساتھ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی علمی شخصیات سے ان کی ملاقاتیں کروائی جاتی ہے، جو ایک اتالیق کے حیثیت سے مثبت رجحانات اُجاگر کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں مذہبی رحجانات کے فروغ کے لیے درسِ قرآن کے علاوہ پنچ گانہ نماز کا پابند بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے معروف مذہبی اسکالرز کے دروس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، جو ترکِ انتہا پسندی اور حُبّ الوطنی کا احساس بیدار کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ نیز، متاثرہ افراد کو پاکستان کی نظریاتی اساس اور آئینی و قانونی ذمّے داریوں سے بھی روشناس کروایا جاتا ہے۔ ان افراد کو ہنر مند اور معاشرے کا مفید فرد بنانے کے لیے زراعت، تعمیرات کی تعلیم دینے اور موبائل فونز کی مرمّت سکھانےکے علاوہ دیگر کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ٹریننگ سیشن کے دوران انہیں ورزش اور کھیل کُود سمیت دیگر صحت مندانہ سرگرمیوں میں بھی مشغول رکھا جاتا ہے، جب کہ ’’بلوچ کلچرل ڈے‘‘ جیسا اہم ثقافتی تہوار منانے کے لیے بھرپور ثقافتی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ تربیتی مراحل مکمل ہونے کے بعد ماہرِ نفسیات اور منصوبے کے عُہدے داران نوجوانوں کی دماغی کیفیات کا جائزہ لیتے ہیں اورمعیار پر پورا اترنے کی صورت میں ایک محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے بھرپور زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ سرمایہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔‘‘ ضیا لانگو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’منصوبے کو وسعت دینے کے لیے تربیتی مراکز کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ نیز، آج بلوچستان پُر امن اور تیزی سے ترقّی کرتا صوبہ بن چکا ہے۔‘‘

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان، جام کمال اور کمانڈر سدرن کمانڈ، لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ تربیتی پروگرام میں شریک افراد کے ساتھ

تقریب کے دوران ’’درپش منصوبے‘‘ کے تحت تربیت حاصل کرنے والے نوجوان، شاہ زیب بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’چوں کہ بلوچستان کی قوم پرست تنظیموں نے صوبے کے حقوق کے لیے جدوجہد کا راگ الاپنا شروع کردیا تھا، لہٰذا ہم جیسے سادہ لوح نوجوانوں نے ان میں شمولیت اختیار کر لی۔ تاہم، کچھ وقت گزرا، تو پتا چلا کہ ہم ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ پھر ان تنظیموں نے ہمیں ریاستِ پاکستان کے خلاف جنگ کے لیے ہتھیار تھما دیے۔ اس دوران ہم پر آشکار ہوا کہ یہ تنظیمیں محض اپنے ذاتی مفادات کے لیے پاکستان مخالف قوتوں سے مالی و عسکری امداد حاصل کر رہی ہیں اور ہم ’’فراری‘‘ ان کے آلۂ کار بن چکے ہیں۔ تاہم، اللہ کے فضل و کرم سے آج ہم راہِ راست پر ہیں۔ سہ ماہی تربیتی کورس کے دوران مذہبی، معاشرتی اور نفسیاتی اصلاح کے ساتھ ہمیں فنی مہارتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ لہٰذا، اب ہم ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے کے قابل ہیں۔ پاک فوج کا یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن ہے۔ ہم پاک فوج کے نہایت ممنون ہیں کہ اُس نے نہ صرف ہمیں تربیت فراہم کی، بلکہ ہماری خدمت بھی کی۔ اب ہم پورے بلوچستان میں امن و محبت کا پیغام پہنچائیں گے۔ ہم سچّے پاکستانی ہیں اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

دشمن کی فتنہ پر دازیوں کے نتیجے میں بھٹک جانے والے 2,500افراد کی قومی دھارے میں شمولیت پاکستان مخالف عناصر کی شکست اور پاکستان کی فتح ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ آیندہ کوئی بھی پاکستانی ’’فراری‘‘ نہ بنے، تو ہمیں اپنے نوجوانوں کو نظریۂ پاکستان کی اصل رُوح اور پاکستان کے قیام و استحکام کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے صحیح معنوں میں روشناس کروانا ہو گا۔ نیز، پس ماندگی دُور کرنے کے لیے اربابِ اختیار کو ٹھوس و مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ ہمارا دشمن، نوجوانانِ پاکستان کو گُم راہ نہ کر سکے۔ اگر اللہ کی نصرت شاملِ حال رہی، تو وہ وقت دُور نہیں کہ جب پوری قوم متّحد ہو کر پاکستان کے دشمنوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دے گی اور ہر جا ’’پاکستان زندہ باد، پاکستان پایندہ باد‘‘کی گونج ہو گی۔ بہ قول اقبال؎ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے…ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیر ہے ساقی۔


مکمل خبر پڑھیں